یورپ اور امریکا کے اہم دانشوروں کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل

یورپ اور امریکا کے اہم دانشوروں کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل
 یورپ اور امریکا کے اہم دانشوروں کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل

  

نیویارک( آن لائن )یورپ اور امریکا کے اہم دانش وروں کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل کے بعد مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے بطور احتجاج یروشلم میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت      سے انکار کر دیا ہے، جبکہ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جنوبی افریقا کی سفید فام سرکار سے زیادہ نسل پرست ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر مغربی دنیا کے اہم دانش وروں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مشہورطبیعات داں اسٹیفن ہاکنگ بھی اب اس احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے بہ طور احتجاج اگلے ماہ یروشلم میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے پہلے برطانیہ اور امریکا کی اہم ترین یونیورسٹیوں کےدانش وروں نےاسٹیفن ہاکنگ پر زور دیا تھا کہ وہ یروشلم کی کانفرنس میں نہ جائیں۔ امریکی مفکر نوم چومسکی نے بھی اسرائیل کے سہ جہتی بائیکاٹ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان صنعتی اداروں کا بھی بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے اسرائیل میں سرمایہ لگا رکھا ہے۔ چومسکی نے جو خود ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے کہا ہے کہ اسرائیلی نسل پرستی جنوبی افریقا کے سفید فام حکمرانوں سے زیادہ سنگین ہے کیونکہ جنوب افریقی حکومت سیاہ فاموں کو اپنا شہری سمجھتی تھی جبکہ اسرائیلی حکومت فلسطینی آبادی سے چھٹکارا چاہتی ہے۔ ایسے میں سب کو ناڈین گورڈیمر بھی بہت یاد اآئیں گی جو کل 90 برس کی عمر میں جوہانسبرگ میں انتقال کر گئیں۔ ناڈین گورڈیمر نے تمام عمر نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی اور جنھوں نے ایک موقع پر ایک اور مشہور ادیبہ سوزن سونٹیگ سے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی حکومت کا ایک ادبی انعام وصول کرنے سے انکار کر دیں۔ برطانوی ناول نگار این میک ایون نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوسے بات چیت کر کے مسائل حل کرنے چاہئیں مگر وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کے حق میں نہیں۔

مزید : عالمی منظر