کیا فرماتے ہیں علمائے شرع متین بیچ اس مسئلے کے!

کیا فرماتے ہیں علمائے شرع متین بیچ اس مسئلے کے!
 کیا فرماتے ہیں علمائے شرع متین بیچ اس مسئلے کے!

  

جب مَیں میٹرک کا طالب علم تھا تو ہمارے نصاب میں ایک لازمی اسلامیات کا پرچہ شامل تھا، جس میں مختصر مختصر متن والی چالیس احادیث نبوی شامل تھیں۔ ان میں ایک حدیث اس طرح تھی :”جس نے ذخیرہ اندوزی کی وہ ہم میں سے نہیں “۔ استاد نے مفہوم یہ بتایا کہ اللہ کے رسول کے نزدیک وہ لوگ، نہایت پسندیدہ ہیں جو غلہ، اناج وغیرہ صرف اس لئے سٹور کرلیتے ہیں کہ جب اس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی تو تب اسے منڈی میں لائیں گے۔ مزید یہ بتایا کہ ”ہم میں سے نہیں “ کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو روز حشر حضور اکرم کی شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔ بڑے عرصے تک میرے لئے ذخیرہ اندوزی کا مفہوم غلہ، اناج وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی تک ہی محدود رہا۔ جنرل ایوب خان کے عہد میں جب مارکیٹ سے چینی غائب ہوگئی اور موقع بھی شب برات کا تھا ،تو تب کچھ ذخیرہ اندوزی کی باتیں سننے میں آئیں۔ آٹا، چینی وغیرہ کا حصول مناسب ریٹ کے ساتھ صرف راشن ڈپو ہی سے ممکن تھا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ذخیرہ اندوزی کے مسئلے کو ذرا نزدیک سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے ٹھیک سے یہ تو یاد نہیں کہ راشن ڈپو سے جو آٹا، چینی وغیرہ ملتے تھے تو وہ ہفتے بھر کے لئے ملتے تھے یا اس سے زائد مدت کے لئے ہوتے تھے، البتہ اتنا ضرور یاد رہ گیا ہے کہ جتنا بھی راشن ملتا تھا، وہ فیملی کی گزران کے لئے کفایت نہیں کرتا تھا، چنانچہ ہمارے ایک صاحب ثروت عزیز نے اپنا کارڈ ہمیں دے رکھا تھا۔

ایک دن مَیں یونیورسٹی سے گجرات اپنے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ والدہ صاحبہ ڈپو سے راشن لینے گئی ہیں۔ میں نے بیگ وغیرہ گھر رکھتے ہی فوراً ڈپو کا رخ کیا۔ مجھے وہ منظر کبھی نہیں بھولتا۔ قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی یوں لگتا تھا جیسے سورج سوانیزے پر آگیا ہو۔ والدہ صاحبہ آٹے والی چادر ہاتھ میں تھامے لیڈیز کی قطار میں کھڑی تھیں اور سرتاپا پسینے سے شرابور ....میرا دل بھرآیا، مَیں نے فوراً آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے چادر اور راشن کارڈ لینا چاہے اور کہا میں لے آتا ہوں آپ گھر چلی جائیں۔ والدہ صاحبہ نے جواب دیا، بیٹا !میں یہاں صبح سے کھڑی ہوں اب میری باری آنے ہی والی ہے۔ مَیں نے قطار کا جائزہ لیا تو ان کی بات سے اتفاق کرنا پڑا کیونکہ اب ان کے آگے صرف دوخواتین کھڑی تھیں۔ مردوں کی قطار بہت لمبی تھی اگر مَیں اس میں شامل ہوتا تو میری باری شاید دو گھنٹے بعد ہی آتی۔

ان ایام میں مَیں سوچا کرتا تھا کہ پیپلزپارٹی کا تو نعرہ ہی ”روٹی، کپڑا اور مکان “ کا تھا۔ اسی نعرے کی بنیاد پر وہ پارٹی ایوان اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اب آٹے کی نایابی کا کیا مطلب !سننے میں یہی آیا کہ ساری مصیبت ذخیرہ اندوزوں نے پیدا کررکھی ہے۔ اول تو وہ اناج باہر نہیں لاتے، جتنا لاتے ہیں، اس کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جس کی ادائیگی کم آمدنی والے آدمی کے لئے ممکن نہیں ہوتی۔ چونکہ مجھے ملازمت لاہور میں میسر آئی اور کسی دوسرے مقام پر ٹرانسفر کا امکان بھی نہیں تھا اس لئے یہیں مستقل رہائش اختیار کرنے کا پروگرام بنایا۔ دوستوں نے کسی رہائشی سکیم میں پلاٹ لینے کی تجویز دی۔ اس وقت تک مَیں اتنا ہی جانتا تھا کہ زمین کا کوئی ٹکڑا کاشتکاری کے لئے خریدا جاتا ہے یا فیکٹری وغیرہ لگانے کے لئے، یا پھر ذاتی گھر تعمیر کرنامقصود ہوتا ہے۔ میرے علم میں نہیں تھاکہ لاہور میں بزنس کی ایک بڑی بری شکل پلاٹوں کا کاروبار ہے۔ یہ 1980ءکی دہائی کا زمانہ تھا، بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ اس وقت لاہور میں یہ کاروبار عروج پر تھا۔ جوں ہی کوئی نئی سکیم شروع ہوتی، بارسوخ لوگ اکثروبیشتر پلاٹ خرید لیتے اور پھر بڑی عیاری کے ساتھ ان کی قیمتیں بڑھانی شروع کردیتے۔ ایسی بہت سی مثالیں دیکھنے میں آئیں کہ ایک شخص نے ایک دن کوئی پلاٹ خریدا اور اگلے دو ایک دن ہی میں اسے دگنی قیمت پر بیچ دیا۔ دیکھتی آنکھوں بے شمار لوگ کروڑوں ، اربوں میں کھیلنے لگے۔

تھوڑے دن ہی ہوئے ہیں مجھے پہلی بار اس کاروبار کے گھناﺅنے پن کا احساس ہوا اور مَیں اپنے وقت کے علمائے کرام اور مفتیان عظام سے پوچھنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ شریعت اس کاروبار کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟ ہوا اس طرح کہ مَیں اپنے ایک بزرگ دوست کے پاس بیٹھاتھا۔ وہ پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں، ان کے چند کلائنٹس بھی موجود تھے اور میرے وہ دوست کہہ رہے تھے، مَیں نے کچھ عرصہ پہلے فلاں سکیم میں کنال کنال کے چار پلاٹ خریدے ہی اس لئے تھے کہ جب ذرا قیمتیں چڑھ جائیں گی تو انہیں بیچ دوں گا۔ سچی بات ہے ان کے یہ الفاظ ہتھوڑے کی طرح میرے ذہن پر لگے اور مَیں سوچنے لگا کہ کیا یہ بھی ذخیرہ اندوزی نہیں ہے؟ اگر غلہ، چینی کو ذخیرہ کرنے والا امت محمدیہ سے خارج ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کا یہ فعل ہزاروں لاکھوں کم وسائل زندگی رکھنے والوں کو راشن ڈپوﺅں پر چلچلاتی دھوپ میں لاکھڑا کرتا ہے تو کیا پلاٹوں کا ذخیرہ کرنے والا ہزاروں لاکھوں انسانوں کی آشیاں بندی میں رکاوٹ نہیں بن جاتا؟ راشن ڈپو پر چلچلاتی دھوپ میں کھڑے رہنے والے تو بالآخر آٹا، چینی لینے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں، لیکن بے گھر لوگوں کو تو دُور دُور تک مراد بر آنے کی کوئی امید نہیں ہوتی۔

 میرے علم میں بے شمار ایسے خاندان ہیں جو تیسری نسل آنے کے بعد بھی کرائے کے مکانوں میں خوار ہورہے ہیں۔ کسی کا دادا مزدور تھا تو باپ بھی مزودر ہی رہا، اور جب پوتے کی باری آئی تو بھی اتنے وسائل میسر نہ آئے کہ دومرلے کا گھر ہی تعمیر کرلے۔ کیا یہ تقدیر کا کھیل ہے یا اوپر والوں کی عیاری ؟ ہمارے اکثروبیشتر علمائے کرام نئی کاروباری پیچیدگیوں سے بالکل واقفیت نہیں رکھتے ، انہیں قطعاً معلوم نہیں کہ آج پیسے والے لوگ کن کن حربوں سے اپنی تجوریاں بھرتے اور عام لوگوں کو سہولیات زندگی سے محروم رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے دوست محترم زاہد الراشدی ایسے کئی علماءکا دم غنیمت ہے جو نئے پیدا ہونے والے اجتماعی مسائل کا کچھ نہ کچھ ادراک ضرور رکھتے ہیں اور خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی رائے کے اظہار میں یمین و یسار کا تذبذب بھی نہیں رکھتے۔ کیا مَیں توقع رکھ سکتا ہوں کہ وہ یا کوئی اور عالم دین مذکورہ بالا مسئلے پر اظہار خیال کرے!

مزید : کالم