بار برداری کے اخراجات اور کرائے کم کریں!

بار برداری کے اخراجات اور کرائے کم کریں!
بار برداری کے اخراجات اور کرائے کم کریں!

  

گزشتہ دنوںکینیڈا میں تھا، دوستوں کی ایک محفل میں پاکستان کا ذکر چھڑ گیا۔ اس کے ساتھ ہی افسوس ہوا کہ ہمارے پاکستانی نژاد کینیڈین دوستوں نے امن و امان، دہشت گردی، اقتصادی ترقی اور مہنگائی کے حوالے سے جو گفتگو کی وہ شرمندہ کرنے اور حقائق کو تسلیم کرنے والی بات تھی، ان دوستوں کا خیال تھا کہ پاکستانی قیادت کو اقتصادی استحکام کے لئے مہنگائی پر کنٹرول کرنے اور اشیائے ضرورت سستی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ محفل میں شریک ایک دوست کا خیال تھا کہ اگر بار برداری کے اخراجات کم کر کے اشیاءکی نقل و حمل پر نظر رکھی جائے، تو یہ سستی ہو سکتی ہیں۔ مَیں نے مداخلت کی اور بتایا کہ موجودہ حکومت معاشی اور اقتصادی استحکام کے لئے محنت کر رہی ہے۔ توانائی کے خوفناک بحران سے نمٹنے کی کوشش بھی جاری ہے، قدرے بہتری ہوئی ہے، توانائی سے بہت کچھ وابستہ ہے۔ اس شعبے میں بہتری اچھے نتائج دے سکتی ہے۔ تاہم دہشت گردی سے نبرد آزما ہونا بھی ایک مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ فوج بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

ایک دوست نے مداخلت کی اور کہا یہ سب درست، مگر نتائج کیا ہیں؟ ہمیں یہاں جو خبریں ملتی ہیں، وہ تشویشناک ہیں۔ اس لئے حکومت پاکستان کو توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا آپ کی حکومت (پاکستان) کو طویل المیعاد منصوبوں کے ساتھ ساتھ قلیل المیعاد منصوبے بھی بنانے چاہئیں۔ انہوں نے ایک تجویز پیش کی اور کہا کہ پاکستان میں بار برداری کے اخراجات اور ٹرانسپورٹ کے کرائے بہت زیادہ ہیں، ان کو کم کرنے کی ضرورت ہے، جو فضول قسم کے شعبوں میں سبسڈی کی بجائے ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو دے کر معقول سے بھی نیچے لائے جا سکتے ہیں، اس سے سی این جی کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔

جب پوچھا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے، تو انہوں نے کہا حکومت فوری طور پر کمرشل اور غیر کمرشل ٹرانسپورٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر دے، جو ٹرک اور گاڑیاں بار برداری کا کام کرتی ہیں اور جو بسیں مسافروں کو لاتی لے جاتی ہیں، ان کی ایک کیٹگری بنا کر ان کو راشن کارڈ طرز کے کارڈ جاری کر دیئے جائیں، ان سب کے سی این جی سلنڈر بھروا لئے جائیں اور ان کے لئے پٹرول پمپس مختص کر دیئے جائیں، جہاں سے یہ ڈیزل آدھی قیمت پر لیں اور اس کا اندراج ان کے کارڈوں پر ہو۔ آدھی قیمت کے لئے حکومت سبسڈی دے۔ اس طرح جب ڈیزل آدھی قیمت پر رہ جائے گا، تو ان کے کرائے بھی فوری طور پر نصف کئے جا سکیں گے۔

جب یہ اخراجات نصف سے کم ہوں گے تو پھر اشیاءپر بوجھ کا سوال ختم ہو جائے گا، اس سے نہ صرف اشیائے خوردنی سستی ہوں گی، بلکہ عام شہریوں کے لئے سفر کا کرایہ بھی نصف ہو جائے گا، لیکن یہ سب سخت کنٹرول کے تحت ہونا چاہئے۔ اگر یہ کر لیا جائے تو سی این جی پر بوجھ کم ہو گا، یعنی ٹرانسپورٹ والے پوری قیمت پر پٹرولیم اور گیس لیں گے، تو قلت بھی نہیں ہو گی۔ حکومت اگر سی این جی کے نرخوں میں معمولی اضافہ بھی کر لے گی، تو قابل برداشت ہو گا۔ باتیں تو اور بھی بہت سی تھیں جن میں قومی بچت کے حوالے سے اور کہا جا رہا تھا کہ پوری دنیا میں فضول خرچی سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہ صرف پاکستان ہے جہاں ہر شخص ضرورت سے زائد خرچ کرنے پر تلا رہتا ہے۔ مَیں نے یہ سب سُنا اور سوچا یہ ممکن ہے۔ آج اس تحریر کے ذریعے وزیراعظم کی توجہ مبذول کرا رہا ہوں۔ اگر اس پر جلد سے جلد عمل ہو جائے تو لوگوں کو کچھ تو ریلیف مل سکے۔ توقع ہے کہ اس مثبت تجویز پر غور فرمائیں گے۔

مزید : کالم