پاکستان میڈیا اپنے ارتقائی تناظر میں

پاکستان میڈیا اپنے ارتقائی تناظر میں
پاکستان میڈیا اپنے ارتقائی تناظر میں

  

اس مضمون کے پہلے حصے میں میڈیا کی آزادی کی پیہم جدوجہد کا احوال تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ اب ہم کوشش کریں گے کہ یہ دیکھیں کہ آزادی کے حصول کے بعد اس شعبے نے اپنے اغراض و مقاصد کا تعین کیسے کیا اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اگر کوئی شعوری کوشش اس ضمن میں کی گئی ہے تو کہاں تک کامیابی حاصل ہو سکی ہے؟

ماضی قریب میں تو یہ دیکھا گیا کہ میڈیا کے کئی گروپ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں تجاوز کا شکار ہو گئے۔ عوام کے جذبات سے کھیلنا مقبولیت کا پیمانہ ٹھہرا۔ پاکستان کی پنجابی فلموں کی طرز پر وہ کردار ادا کیا گیا جس کا حقیقت سے بہت کم تعلق تھا۔ کرپشن کی بے ربط کہانیوں کی تخلیق، جرائم کی گھناﺅنی داستانوں کا بین، پُر تشدد واقعات کا براہِ راست نشر کرنا، عدلیہ کی بے توقیری پر مبنی پروگراموں کا انعقاد، عسکری قیادت پر بے جا تنقید ،خوف کی فضاءپیدا کرنے کا پرچار، مسابقتی جرنلزم کے احیاءکی کوشش، مذہبی منافرت کی حوصلہ افزائی، مخصوص سیاسی عناصر اور گروپوں کی پشت پناہی اور دیگر کی بے جا کردار کُشی اور مذہبی منافرت کی آبیاری پروگراموں کا محور رہی۔ اسے جرنلزم کا نام دیا گیا۔ گہرائی میں جا کر دیکھا جائے کہ ایسا کیوں ہوا تو خلقِ خدا کے زیادہ تر حصوں کا گمان ہوگا کہ ریٹنگ کی بہتری کے لئے دوڑ اس کا سبب بنی لیکن کیا اس بات سے انکار ممکن ہے کہ میڈیا مینجمنٹ کا کردار اس کارکردگی کے زوال کا ذمہ دار نہیں؟

 میڈیا نے قوم کی یکجہتی کے لئے کیا کیا؟ بلکہ معاشرے کو مختلف طبقات میں بانٹنے کے لئے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ نہیں کیا؟ اس کا بنیادی سبب یہ تھاکہ میڈیا کے انتظامی معاملات ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے جنہوں نے کسی چینل، اخبار یا جریدے میں ایک دن بھی کام نہیں کیا اور کسی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حصہ نہیں لیا۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے مالکان وہ لوگ بن گئے جو صرف کاروباری پس منظر کے حامل تھے اور کاروباری ذہن کے مالک ہونے کے ناطے اُنہوں نے ان چینلوں کو کاروباری انداز میں چلایا۔ کئی تو ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی کالی دولت کی حفاظت کی آڑ کے لئے میڈیا کو بزنس کا درجہ دیا۔ اُنہوں نے بڑے بڑے میڈیا ہاﺅسز کی داغ بیل ڈالی تاکہ اس دھن دولت کے ساتھ شہرت کی بلندیوں کو چھوا جا سکے۔ اُنہوں نے اپنے چینلوں کے لئے اُن اینکرز کا تقرر کیا جو پیشہ ور صحافتی بیک گراﺅنڈ کے حامل نہیں تھے اور اُنہوں نے صحافتی اقدار کو مد نظر رکھنے کی بجائے ذاتی پسند و ناپسند کا خیال رکھا۔ ان اینکر حضرات نے خود ہی عدلیہ کا بہروپ دھارا اور اپنے تئیں خود ہی تجزیہ کار بن کر فیصلہ ساز بھی بن بیٹھے۔ سنسنی خیزی میڈیا رینکنگ کا معیار ٹھہری۔

یہ اس لئے بھی ہوا کہ عام طور پر رپورٹر حضرات کو اینکرز کا درجہ دے دیا گیا۔ ان میں سے اکثر کو پالیسی سازی کا اختیار بھی مل گیا۔ یہ پالیسی پیشہ ور افراد کی بجائے اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی جن کا اپنا بھی مخصوص ایجنڈا تھا اور ماضی میں صحافتی میدان میں اُنہوں نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا تھا، بلکہ صحافت کے میدان سے ان کا کبھی دور کا تعلق بھی نہیں رہا تھا۔ ان اینکرز کے ہاتھ میں سیاست پر تجزیہ نگاری کرنا، مذہبی اقدار پر گفتگو میں حصہ لینااور معاشرتی اور تہذیبی اقدار کے دھارے کی سمت کا تعین کردیا گیا۔ اُنہوں نے اپنے غیر پیشہ ورانہ رویہ کی بنا پر یا اپنے ہاﺅسز کے مالکان کی پالیسی کو مقدم جانتے ہوئے ٹی وی چینلوں کے پروگرام ترتیب دیئے۔ ان کو اس قدر مراعات سے نوازا گیا کہ کرپٹ معاشرے میں وہ بہت پھلے پھولے۔ ان میں سے اکثر بڑے بڑے فارم ہاﺅسز کے مالکان بن گئے، بلکہ ملک سے باہر پراپرٹی بنانے میں بھی وہ یکتا نظر آئے۔ پاکستان میں دولت کی بہتی ہوئی گنگا میں اُنہوں نے بھی خوب ہاتھ رنگے ۔ حقائق پہ مبنی رپورٹنگ خواب بن گئی اور پروگراموں کی اساس ذاتی مخاصمت یا مالکان کی کاروباری رقابت پر رکھی جانے لگی۔ عدلیہ پر بے جا تنقید کو اپنا وطیرہ بنایا گیا۔ عسکری اداروں کی بے حرمتی اُن کی منزل ٹھہری۔ اسلامی شعائر کا کھلے عام مذاق بنایا گیا۔ فحاشی اور عریانی کو پروگراموں کی کامیابی کی کلید سمجھا گیا اور ثقافت کے نام پر ایسے شوز کا انعقاد کیا گیا جو کسی طور پر ہماری ثقافت کے عکاس نہیں تھے۔

 افسوس کا مقام یہ ہے کہ اُن کے ان اقدامات پر کسی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ دروغ گوئی اور سنسنی خیزی خبریت کا معیار بن گئی اور میڈیا نے اپنا رعب اور خوف جمانے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی، یہاں تک کہ سول سوسائٹی کے لئے میڈیا کی آزدی رحمت کی بجائے زحمت بننے لگی اور اس سے خیر کی بجائے شر برآمد ہوا۔ ایسے عناصر کو آزادی کے اس طرح کے استعمال کی ایسی کھلی چھٹی دے دی گئی، یہ لوگ بھتہ مافیا کی طرح ہر طرف چھائے ہوئے محسوس ہونے لگے جو اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ صحافتی اقتدار کا پاس رکھنا ان لوگوں کی ڈکشنری میں ہی موجود نہیں۔ خبر کو سنسنی خیزی کا پہناوا پہنا کر پیش کرنا ان کا وطیرہ ٹھہرا۔ ٹاک شوز کے ذریعے یہ لوگ مذہبی منافرت، سیاسی داﺅ پیچ اور تفرقہ بازی کے لئے لیڈز فراہم کرنے کو ہی صحافت گردانتے ہیں۔ تحقیقاتی جرنلزم کے نام پر کہانیوں کا گھڑنا ان کی رپورٹنگ کا خاصہ ہے جن میں شرفاءکی پگڑیوں کا اُچھالا جانا اُن کا معمول ہے۔

اس سب کے باوجود اگر مَیں یہ کہوں کہ جرنلزم کے شعبے کے سب لوگ اس میں شامل نہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ میڈیا چینلوں پر ان لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں جو خبر کو خبریت تک محدود رکھ کر اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اور صحافتی اقدار کی عباءاوڑھے رکھتے ہیں جو معاشرے کے لئے اپنے وجود کے اعتبار سے نعمت ہیں۔ وہ خبروں پر تبصرہ کرتے وقت افراط و تفریط کا شکار نہیں ہوتے اور اپنے بے لاگ تبصروں سے عوام کو اطلاعات کا بیش بہا خزانہ فراہم کرتے ہیں، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں اور وہ معاشرے کا مطمح نظر کامیابی سے پیش کرتے ہیں۔ خود بھی غیر وابستہ ہو کر آراءکا اظہار کرتے ہیں اور بطور اینکر ملکی مسائل پر اظہار خیال کے لئے اپنے شوز میں اُن لوگوں کو مدعو کرتے ہیں جو بلند پایہ صحافی یا معاشرے میں اپنی کلاس کے یکتا اکابرین ہیں ۔اُن کی کہی ہوئی بات مصدقہ بھی ہوتی ہے اور قابل اعتبار بھی ،اگر مَیں یہ کہوں کہ میڈیا کا حقیقی احترام و اکرام ان لوگوں کی وجہ سے قائم ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ وگرنہ میڈیا کی بے توقیری جو آج کل ہم دیکھ رہے ہیں ،اس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں، بلکہ خودمیڈیا پر ہی ہے۔

 ریاست کے اس اہم ترین ستون کا موجودہ بحران ایسے ہی عناصر کی کارکردگی کا مرہون منت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس گراوٹ کا مداوا کیسے ہوگا؟ اس کا علاج کسی اور کے پاس نہیں خود اس کے اپنے پاس ہے۔ اگر اس سلسلے میں اصلاحاتی اقدام نہ اُٹھائے گئے تو میڈیا کی موجودہ بے توقیری اس کے دو لخت یا سہ لخت ہونے پر منتج ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی اور دیگر طبقات یکساں طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ میڈیا کو اس بحران سے نکالنے کی ایک ہی راہ ہے کہ وہ اپنے لئے خود احتسابی کا ایسا نظام وضع کرے جو وقت کی ضرورت کے مطابق ہو۔ یہ نظام کسی دباﺅ، سیاسی عمل دخل اور حکومتی دباﺅ سے پاک ہو اور یہ شخصیات یا میڈیا ہاﺅسز کے مالکان کی پالیسی کا عکاس نہ ہو، بلکہ قومی امنگوں کا ترجمان ہو۔ اس کو مرتب کرنے کے لئے اس شعبے سے وابستہ با اثر اور پیشہ ور عناصر مل کر بیٹھیں اور ایک ضابطہءاخلاق مرتب کریں۔ ایسا کرنے میں ریاست کا بہت اہم کردار ہے جو اسے ادا کرنا چاہئے۔ اسے ریاستی عمل دخل سے پاک رکھنے کے لئے خود ریاست ہی کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ ضروری ہے کہ جو ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے ،پھر اس پر عملدرآمد کرانے کا نظام بھی ساتھ ہی وضع ہونا چاہئے۔ چونکہ اس نظام کی جزئیات خود میڈیا کو ترتیب دینی ہیں اس لئے اس پر عملدرآمد کرانا بھی اسی کا فرض ہونا چاہئے۔ پیمراءجیسی ریگولیٹری اتھارٹی اس میں صرف ریفری کا کردار ادا کرے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں تعزیر کے لئے ایک کمیشن کی تشکیل دی جائے جو میڈیا کے سب طبقوں پر مشتمل ہو۔ اس کمیشن کو عدم عمل درآمد کی صورت میں احتساب کرنے اور تعزیر نافذ کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ یہی وہ اصول اور طریقے ہیں جو اس شعبے کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں۔ ریاست کو گومگو کی حالت سے نکل کر میدانِ عمل میں آنا چاہئے اور اصلاحِ حال کی کوشش میں میڈیا کی مدد کرنی چاہئے۔ لیکن یہ اہتمام جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے، ایسے پیشہ ور سینئر صحافی حضرات کی سرکردگی میں ہونا ضروری ہے جن کے بارے میں کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے اور جو اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں ،کیونکہ موجودہ صحافتی مخاصمت کی اندرونی کشمکش کا بیرون ملک جو تاثر جا رہا ہے وہ پاکستان کے پہلے سے مکدر شدہ تاثر میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

ایسا نہ ہو کہ دہشت گردی، منافت، دھوکہ دہی اور کرپشن کے بارے ملک کا جو امیج بیرونی دنیا میں ہو چکا ہے، اس میں میڈیا سے نفرت کا عنصر بھی شامل ہو جائے۔ اس لئے فوری طور پر ریاست کے کرنے کا کام یہ ہوگا کہ میڈیا کے با اثر طبقہ کی مشاورت سے پیمرا کی تشکیل نو کی جائے جو ضابطہ اخلاق کی تیاری کا کام شروع کرے، تاکہ اس ادارے میں بحران میں اضافہ نہ ہو، کیونکہ یہ بحران صرف میڈیا کے لئے ہی زہر قاتل نہیں، بلکہ جمہوری نظام کے لئے بھی خطرناک ہے۔ اس بحران میں اچھی پیش رفت کے لئے پیمرا میڈیا کی مختلف تنظیموں مثلاً Cpne, Apns اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی مدد بھی لے سکتا ہے۔ ان تنظیموں میں پیشہ ور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ ہم سب کے لئے ایک امتحان ہے کیونکہ آنے والا وقت پاکستان کے بڑھتے ہوئے مسائل کا مداوا کرنے کا وقت ہے۔ ہم اس وقت غیر یقینی اور گومگو کی صورتِ حال میں مزید نہیں رہ سکتے ۔

مزید : کالم