صنعتی و تجارتی تنظیموں نے ایس آر او 608کی واپسی کا مطالبہ کردیا

صنعتی و تجارتی تنظیموں نے ایس آر او 608کی واپسی کا مطالبہ کردیا

لاہور(کامرس رپورٹر)شہر کی تمام صنعتی و تجارتی تنظیموں نے ایس آر او 608(I)/2014کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس کے موقع پر پیش کیا گیا جس کی صدارت لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کی۔ نائب صدر کاشف انور، سابق سینئر نائب صدر عرفان اقبال شیخ،ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید، محمد ہارون اروڑہ، حاجی محمد اکرم اور صدر انجمن تاجران اشرف بھٹی بھی اجلاس میں موجود تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کاروباری برادری کو ایس آر او کی واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے حکومت پر زور دے چکے ہیں کہ پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ کا طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ کاروبار دوست پالیسیاں تشکیل دینا ممکن ہوسکے۔ انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ بھاری سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کی موجودگی میں یہ ایس آر معاملات مزید خراب کرے گااور حکومت کے لیے مطلوبہ معاشی نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب ملک کو بجلی و گیس کے بحران اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا ہے، ایس آر او 608(I)/2014جیسے نئے ٹیکسیشن اقدامات حکومت کی ساکھ کو متاثر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکسیشن اقدامات اٹھانے سے قبل حکومت کو سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان کو نچوڑا جارہا ہے جو بہت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے قیام کا مقصد صنعت و تجارت کو سہولیات مہیا کرنا تھا لیکن یہ پیسہ بنانے والی مشین بن چکی ہے ، ارباب اختیار کو نہ تو زمینی حقائق کا ادراک ہے اور اور نہ ہی وہ تاجر برادری کو درپیش مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صنعت و تجارت کو ریلیف پیکیج کی ضرورت ہے مگر اس کے بجائے ایس آر او 608(I)/2014جیسے اقدامات اٹھاکر مزید مسائل پیدا کیے جارہے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس سسٹم کی ٹریکنگ اور مانیٹری کا بوجھ کاروباری برادری پر منتقل کرناچاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری یہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانا وقت کی ضرورت ہے لیکن یہ تاجروں کے مسائل میں کمی لاکر ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اگر ایس آر اوز کے ذریعے دستاویزی معیشت کو فروغ دینا چاہتا ہے تو لاہور چیمبر اس کی حمایت نہیں کرے گاکیونکہ یہ چاہتا ہے کہ ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور پروفیشنل ٹیکس کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کاروباری برادری کی مشاورت کے بغیر نئے ایس آر اوز متعارف کرانے سے گریز کرے اور ایس آر او 608(I)/2014ءفوری طور پر واپس لے۔

مزید : کامرس