عوام کو معافی کب ملے گی؟

عوام کو معافی کب ملے گی؟
عوام کو معافی کب ملے گی؟

  

شیدے ریڑھی والے کا کہنا ہے کہ جس دن اس ملک کے حکمرانوں نے اپنی ناکامی پر عوام سے معافی مانگنے کی بجائے عہدوں سے استعفے دینے کی روایت ڈال دی، اُس دن سے ملک کے تمام مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ایسی بصیرت افروز باتیں شیدے کی زبان سے سن کر مجھے یقین آ جاتا ہے کہ حالات نے وطن عزیز کے شیدوں اور میدوں کو بہت سیانا کر دیا ہے۔ اب اُنہیں خالی خولی نعروں اور مصنوعی دعوﺅں سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ شیدے نے یہ تبصرہ بجلی و پانی کے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کی اُس معافی پر کیا تھا جو اُنہوں نے لوڈشیڈنگ میں شرمناک حد تک اضافے کے بعد قوم سے مانگی ہے۔ ساتھ ہی قوم کو یہ بیش قیمت مشورہ بھی دیا ہے کہ لوڈشیڈنگ سے بچنا ہے تو بارش کی دعا مانگیں، اُنہوں نے یہ شعر تو نہیں پڑھا کہ:

کمالِ ڈرائیور نہ انجن کی خوبی

چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے

البتہ یہ ضرور کہا کہ ملک کے سارے معاملات اللہ کی آس پر چل رہے ہیں یہ کہتے ہوئے اُن کے چہرے پر جو شرمندگی فطرتاً عود کر آئی، اس پر میں سوچنے لگا کہ خواجہ صاحب اگر تھوڑی سی ہمت کر کے اس ناکامی پر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیتے تو آج شیدا ریڑھی والا بھی اُن کے لئے تالیاں بجا رہا ہوتا۔ جب کہ اُن کی خالی خولی معافی پر نہ شیدا ریڑھی والا خوش ہے اور نہ ہی وہ کروڑوں عوام، جنہیں شدید گرمی اور روزے کی حالت میں ایک جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ خواجہ صاحب نے معافی مانگی تو ہے مگر میرا خیال ہے عوام اُنہیں معاف کریں گے نہیں۔ اس کی وجہ میرے نزدیک بہت سادہ اور واضح ہے۔ اس وقت جس قیمت پر بجلی مل رہی ہے وہ ایک سال پہلے کے مقابلے میںدوگنا سہ گنا ہے اس بار ماہ جون کے بلوں کی ادائیگی کرتے ہوئے عوام نے حکومت کو جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر بد دعائیں دی ہیں۔ یعنی اب عوام کے لئے عذاب دہرا ہے۔ اُنہیں ایک طرف بجلی کے بھاری بل موصول ہو رہے ہیں اور دوسری طرف بجلی مل نہیں رہی۔ ایسی اندھیر نگری تو شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں ہوتی ہو۔ اس طرح کی صورت حال میں جب پانی و بجلی کا وفاقی وزیر ٹی وی سکرینوں پر آکر مخول ٹھٹھے کے انداز میں عوام سے معافی مانگتا اور بارش کی دعاﺅں کا مشورہ دیتا ہے تو عوام سینے پر دوہتڑ مار کر اُ ن کی خبر لیتے ہیں۔

وزیر موصوف کی زبان سے یہ بات بھی سننے کو ملی کہ نندی پور پاور پراجیکٹ اس لئے فعال نہیں رہا کہ اُس سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے، وہ بہت مہنگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں اگر نندی پور پراجیکٹ پر کام نہیں ہوا تھا تو یہ فیصلہ درست تھا۔ موجودہ حکومت کے دور میں یہ منصوبہ مکمل ہوا تو اس کے افتتاح پر خوب جشن منایا گیا۔ کروڑوں روپے کے اشتہارات دیئے گئے اور اسے ایک بڑا کارنامہ بنا کر پیش کیا گیا۔ کیا اُس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس سے پیدا ہونے والی بجلی پر لاگت کیا آئے گی؟ یہ کام تو منصوبہ شروع ہونے سے پہلے فزیبلٹی رپورٹ میں ہی ہو جانا چاہئے تھا، چہ جائیکہ آخر تک نہیں ہوا۔ یہ کس قسم کی منصوبہ بندی ہے اور اربوں روپے کو کس بری طرح ضائع کیا جا رہا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے اس پراجیکٹ کے خلاف تحریک التواءجمع کرا دی ہے اور اپوزیشن نے احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے، اب لگتا ہے کہ اس کے ذمہ داران کو ایک معافی اور مانگنا پڑے گی۔ کیا ملک معافی ناموں پر ہی چلتا رہے گا۔

حالیہ لوڈشیڈنگ دیکھ کر عوام کو پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں کی جانے والی لوڈشیڈنگ بھول گئی ہے۔ یہ لوڈ شیڈنگ اس لئے بھی عوام کے لئے دہری اذیت کا باعث ہے کہ اب اُنہیں بل بھی دوگنا سہ گنا آ رہے ہیں یعنی مرے کو مارے شہ مدار والی صورتِ حال ہے۔ بجلی آئے نہ آئے بل باقاعدگی سے آ رہے ہیں اور اُن کا کوئی قانون ہے نہ ضابطہ۔ اوور بلنگ کی شکایت تو اب معمول بن گئی ہے۔ کوئی ادارہ اس بات کو چیک کرنے کے لئے موجود نہیں کہ بجلی کے جو میٹر نصب کئے گئے ہیں، وہ اپنی رفتار کے لحاظ سے معیار کے مطابق ہیںکہیں وہ جنگلی گھوڑوں کی طرح سرپٹ تو نہیں دوڑتے۔ بجلی کے بلوں کو عوام کا خون نچوڑنے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اس میں ٹی وی کی فیس کے ساتھ ساتھ کئی سرچارج، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور نجانے کیا کیا شامل ہے۔ اتنا کچھ بھگت لینے کے بعد بھی جب عوام کو بجلی میسر نہیں آتی ا ور ایک شخص ٹی وی پر آکر ڈھٹائی کے ساتھ معافی مانگ لیتا ہے تو اُن کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، یعنی غور کریں کہ حکومتی ذمہ داروں نے اپنی مجرمانہ کوتاہی اور نا اہلی کا کس قدر آسان حل ڈھونڈ لیا ہے۔ ٹی وی پر آ کر پریس کانفرنس کرو اور معافی مانگ لو اللہ اللہ خیر صلا، ہنگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے، جھوٹی واہ واہ بھی ہو جائے کہ دیکھو وزیر کتنا شریف آدمی ہے کہ سر عام معافی مانگ رہا ہے اور عوام کچھ کہنے کے قابل بھی نہ رہیں کاش یہ سہولت عوام کو بھی کسی دن ملے، وہ بھی ٹی وی پر آکر حاکمانِ وقت سے کہیں کہ ہمیں معاف کر دو، ہمارے لہو سے اپنے محلات کے چراغ نہ جلاﺅ، ہمارے بدن سے لہو کا آخری قطرہ تک نہ نچوڑو، ذرا اس لوڈشیڈنگ میں زیادہ نہیں صرف آدھ گھنٹہ تو گزار کے دکھاﺅ، جو 45 ڈگری درجہ حرارت پر روزے کی حالت میں برداشت کرنا پڑتی ہے۔

ایک سادہ سا سوال ہے کہ جس ملک میں انرجی کا شدید ترین بحران ہو، کیا اس کی ترجیحات اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہیں کہ اس بحران کو ختم کرنے پر توجہ دی جائے۔ میٹرو بسوں اور ٹرینوں کے منصوبے تو تبھی کارآمد ہو سکتے ہیں جب ملک میں بجلی ہو، کارخانے چلیں، روزگار ملے، یہاں تو سب کچھ اٹھتا جا رہا ہے اور آپ جدید دنیا کے ذرائع آمد و رفت چلانے کے منصوبوں میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ ترجیحات کا تعین کرنا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مریض ادویات کی کمی سے مر رہا ہو تو اس کے لئے مرغن غذائیں تیار کرنا احمقانہ بات ہے۔ مجھے تو شک ہے کہ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت دونوں ہی عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف بڑھک بازی میں اپنے فرائض کو بھول گئے ہیں، بلکہ میں تو یہ سمجھ رہا ہوں کہ اُنہوں نے اس معاملے میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بھی اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ اس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ دو روز پہلے وزیر اعظم نوازشریف نے بدترین لوڈشیڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افراد کو فوری ریلیف کی ہدایت کی۔

 وزیر اعظم کی اس برہمی کا کیا نتیجہ نکلا؟ پانی و بجلی کے دونوں وزیر اپنی سیکرٹری کے ساتھ پریس کانفرنس کے لئے نمودار ہوئے اور معافی مانگنے کا ریلیف دے کر چلتے بنے۔ عوام اب سوچ رہے ہیں کہ اس معافی سے پنکھا چلائیں یا بلب جلائیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزارت پانی و بجلی نے وزیر اعظم کو پہلے سے آگاہ نہیں کر رکھا تھا کہ ملک میں بجلی کی شدید قلت ہے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ملک کا چیف ایگزیکٹو عوام کو ریلیف دینے کا حکم دیتا ہے اور متعلقہ ادارے کا وزیر ٹھینگا دکھا دیتا ہے تو عوام کا جمہوریت یا اپنے منتخب وزیر اعظم پر کیا اعتبار قائم ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں خواجہ محمد آصف کی معافی نامے پر مشتمل پریس کانفرنس نے وزیر اعظم کے اختیارات کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

لوڈشیڈنگ پر معافیاں مانگنے کی تکنیک کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی یہ معاملہ گزشتہ دورِ حکومت میں بھی ’جرم عظیم‘ تھا اور اس عہد میں بھی نا قابل معافی جرم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کردار بدل گئے ہیں کل تک وزیر اعلیٰ شہباز شریف لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے تھے، اب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ کل اس لوڈشیڈنگ نے پیپلزپارٹی کو عوام کی نظروں میں گرا دیا تھا اور آج بھی یہی لوڈشیڈنگ انقلاب یا لانگ مارچ کے لئے ایندھن ثابت ہو سکتی ہے۔ ذمہ داران اب مسکرا کر معافی مانگنے کی گھسی پٹی ترکیب سے نکلیں اور کوئی عملی ریلیف دینے کی کوشش کریں۔ موجودہ حالات میں عوام اس ایشو پر معافی دینے کے موڈ میں نہیں، بلکہ وہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ظالمو ہمیں معاف کر دو۔٭

مزید : کالم