افغان انتخابات: خطے پر اثرات

افغان انتخابات: خطے پر اثرات
افغان انتخابات: خطے پر اثرات

  

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کابل میں دونوں صدارتی امیدواروں سے ملاقات کی۔دونوں ہی جیتے ہیں؟ یا دونوں ہی ہارے ہیں۔مل کر حکومت بنائیں گے یا افغانستان بھی عراق اور شام بن جائے گا؟کیونکہ اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان ہوا ہے اور عبداللہ عبداللہ نے اسے ”دھاندلی“ قرار دے کر متوازی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔جان کیری نے دونوں سے کہا ہے کہ بین الاقوامی نگرانی میں ان کے متفقہ طریقہ کار کے مطابق ووٹوں کا Auditکیا جائے گا۔امریکی وزیرخارجہ نے حامد کرزئی جو اس سارے فساد کی جڑ ہے سے بھی ملاقات کی اور کرزئی نے تجویز کیا کہ 8000پولنگ اسٹیشنوں کا Auditکیا جائے، جسے اشرف غنی نے قبول کر لیا، لیکن ابھی تک عبداللہ عبداللہ کیمپ نے آمادگی کا اظہار نہیں کیا ہے۔22جولائی کو انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان ہونا ہے اور نئے صدر کے حلف لینے کی تاریخ 2اگست ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ عبداللہ عبداللہ کی شکایات کب تک؟ اور کیسے؟ دور کی جائیں گی۔امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی فارمولا طے نہیں پاتا تو امریکی امداد فوری بند کر دی جائے گی، جس کے بغیر افغانستان جی نہیں سکتا....( امریکی افواج کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا گیا)....14جون کو ہونے والے Run Offانتخابات کے ساتھ ہی عبداللہ عبداللہ نے دھاندلی کی شکایت کر دی تھی،لیکن اشرف غنی نے اسے ”شفاف“ قرار دیا تھا۔ان حالات میں امریکی وزیرخارجہ کی آمد صورت حال کی سنگینی اور امریکی پریشانی دونوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔اس کشمکش کو ایک تیسرا فریق یعنی طالبان بڑی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ پشتون اشرف غنی اور تاجک عبداللہ عبداللہ کے حوالے سے دونوں قبائل میں جتنی دوری بڑھے گی۔ طالبان کے لئے اتنا ہی فائدہ ہے اور یہی امکان امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث ہے، لیکن دونوں امیدواروں کے درمیان الفاظ کی جنگ نے صورت حال میں جتنی کشیدگی اور بداعتمادی پیدا کر دی ہے، اس میں فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ جان کیری اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔آغاز میں محسوس ہوتا تھا کہ دونوں فریق کسی سمجھوتے کے قریب ہیں، لیکن اچانک عبداللہ عبداللہ نے اپنے حامیوں کے ایک پُر جوش اجتماع میں خود کو صدر قرار دے دیا، جس پر ان کے حامیوں نے شہر میں لگے حامد کرزئی کی تصاویر پھاڑ کر اس کی جگہ عبداللہ عبداللہ کی تصاویر آویزاں کر دیں اور عبداللہ عبداللہ صدر صدر کے نعرے شروع ہو گئے۔اگرچہ فی الحال بھرپور خانہ جنگی کے آثار تو نہیں بن رہے، لیکن دونوں کے حامیوں میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔دونوں طرف نسلوں سے اور کئی دہائیوں کے تربیت یافتہ لڑاکے موجود ہیں۔

امید کی کرن یہ ہے کہ دونوں نے جان کیری کی آمد کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کسی سمجھوتے کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔گو اس سے پیشتر اقوام متحدہ کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات ہو رہے تھے۔ عبداللہ عبداللہ کے ترجمان محمود شہکال نے جان کیری کی آمد کو ”ایک موقع“ قرار دیا ہے۔ غنی کے ترجمان حمید اللہ فاروقی نے امید تو قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دوسرے کیمپ کے ہر روز بدلتے رنگ اور تقاضے جان کیری کے مشن کو ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بنا دیں گے، ہرر وز جب ہم جاگتے ہیں تو ایک نئی تجویز، ایک نیا تقاضا ہمارے سامنے ہوتا ہے۔اکتوبر 2013ءسے شروع یہ الیکشن مہم ابھی ختم ہوتی نظرنہیں آتی۔ایک مبہم سی تجویز سننے میں آتی ہے کہ ایک نیا عہدہ تخلیق کرکے عبداللہ عبداللہ کو کچھ اختیارات دے کر وزیراعظم بنا دیا جائے ،لیکن فاروقی نے اسے خارج از امکان قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جان کیری کی تجاویز بھی افغانستان کے موجودہ قوانین اور اداروں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی تسلیم کی جا سکتی ہیںیعنی کوئی نیا عہدہ یا ادارہ تخلیق نہیں کیا جائے گا۔ جان کیری کی آمد کی وجہ عبداللہ عبداللہ کی متوازی حکومت بنانے کی تحریک تھی۔انتخابات کے دوسرے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کو 43.56ووٹوں کے ساتھ دوسری حیثیت حاصل ہوئی تو انہوں نے الیکشن کمیشن پر ”دھاندلے“ کا الزام عائد کر دیا کہ غنی کو بڑی تعداد میں جعلی ووٹ ڈلوائے گئے اور انتخابات دوبارہ کرانے کا مطالبہ کر دیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلہ والے تمام امیدواروں نے دوسرے مرحلے کے لئے اشرف غنی کو ووٹ ڈالے، اس لئے اشرف غنی کو سبقت حاصل ہو گئی۔

جان کیری نے اپنی مصروفیات کا آغاز اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے سربراہ سے ملاقات اور تبادلہ خیال سے کیا،جس نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو 2ہفتہ میں ووٹAudit کرنے کا کام سرانجام دیا جا سکتا ہے۔جان کیری کا تبصرہ تھا کہ ہم ایک بہت ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں، جو تعمیر کی طرف بھی جا سکتا ہے اور تخریب کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔اس لئے ہر قدم بڑی احتیاط سے اٹھا نا ہوگا۔ اس سے پیشتر 2009ءاکتوبر میں جان کیری نے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی تھی اور انتخاب کا طریقہ کار طے پایا تھا کہ پہلے مرحلے پر اگر کوئی امیدوار 50فیصد سے زائد ووٹ نہ لے سکا تو پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کے درمیان دوسرا مرحلہ ہوگا، تاکہ جیتنے والے صدر کو 50فیصد سے زائد ووٹروں کا اعتماد حاصل ہو نہ کہ پاکستان کی طرح امیدواروں کا ہجوم اور 20فیصد ووٹ لینے والا کامیاب قرار دے دیا جائے، جبکہ حقیقت میں 80فیصد عوام اس کے خلاف ہوتے ہیں۔صدر حامد کرزئی اگلے 3ہفتے میں عہدہ صدارت چھوڑ دیں گے اور 2اگست کو نئے صدر کا حلف ہو جانا چاہیے، لیکن حالات کا رُخ کہتا ہے کہ شاید ایسا نہ ہو سکے۔دونوں کی ملاقات میں Auditکے طریقہ کار اور ٹائم فریم پر غور کیا گیا۔کرزئی کی تجویز تھی کہ 8050پولنگ اسٹیشنوں پر یہ عمل کیا جائے جو کہ ووٹوں کی کل تعداد کا تقریباً 45فیصد بنتا ہے اور یہ عمل دو ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا،1، وہ پولنگ اسٹیشن جہاں 595سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔2، خواتین کے پولنگ اسٹیشن کی گنتی مرد عملہ کرے گا۔3، ایسے پولنگ اسٹیشن جہاں خواتین کے ووٹ مرد ووٹ سے زیادہ ڈالے گئے تھے۔4، ایسے پولنگ اسٹیشن جہاں ووٹ Round Figuresمیں تھے۔5، وہ 4000پولنگ اسٹیشن جو Run offمرحلہ کے لئے زائد شامل کئے گئے تھے۔

اس ملاقات میں کرزئی نے واضح کر دیا تھا کہ جو ہوگا دونوں امیدواروں کی تائید اور حمایت سے ہی ہوگا، لیکن افغانستان کے قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے ، لیکن یہ بات بھی بڑی واضح طور پر کہہ دی کہ نئے صدر کا حلف 2اگست کو ہی ہوگا(یعنی دونوں امیدواروں میں سمجھوتہ ہو یا نہ ہو).... عبداللہ عبداللہ کے کیمپ نے یہ تجویز فوری طور پر رد کر دی کہ Auditگیارہ ہزار پولنگ اسٹیشن کا ہو گا اور ایسے تمام پولنگ اسٹیشن کا خصوصی طور پر جہاں اشرف غنی کو 93فیصد کے قریب ووٹ ڈالے گئے اور وہ 4000پولنگ اسٹیشن جو زائد بنائے گئے تھے کہ دوسرے مرحلہ کے لئے ووٹروں کو آسانی ہو۔دس ماہ کی الیکشن مہم اور پہلا مرحلہ واقعی ایک تھکا دینے والا وقت رہا۔اشرف غنی احمد زئی اور اقوام متحدہ کا متعلقہ ادارہ ان نئی تجاویز کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور عبداللہ عبداللہ کیمپ جان کیری پر زور دے رہا ہے کہ ان کی تجاویز کے مطابق Auditکیا جائے۔

جان کیری نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مَیں اس لئے یہاں موجود ہوں کہ صدر اوباما اور امریکی انتظامیہ ایک متحد، مستحکم اور جمہوریت کے راستے پر چلتا ہوا افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ بحران اس انداز میں حل ہو کہ افغانستان کے باشندوں کو یقین اور اعتماد ہو کہ ان کا صدر اور حکومت یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ افغانستان متحد ہے اور ترقی کی منزل کی طرف سفر جاری رکھ سکے، لیکن یہ کیسے ہوگا کسی کے پاس ابھی کوئی جواب نہیں ہے۔اشرف غنی کا ردعمل مثبت تھا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں اور دنیا کو بھی دکھلانا چاہتے ہیں، جس لمحہ میں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے یہی خیال اور ارادہ میرے ساتھ رہا ہے کہ آنے والی حکومت پر ہر افغان باشندے کا اعتماد اور یقین ہو اور آئین میں دیئے ہوئے حقوق بلا لحاظ ہر افغان باشندے کو حاصل ہوں اور حکومت عوام کی خدمت کرے۔جان کیری نے بھی دونوں امیدواروں سے ایسے ہی انداز میں ایسے ہی الفاظ میں بات کی اور کہا کہ نتائج کا اعلان حتمی نہیں ہے۔عبداللہ عبداللہ نے بھی امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اب تک ہر مرحلہ پر امریکی امداد اور حمایت حاصل رہی۔امریکنوں کی قربانی بھی اس میں شامل ہے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ایک متحدہ، مستحکم افغانستان کے لئے مستقبل میں بھی امریکہ کی امداد اور حمایت حاصل رہے گی۔یہ تمام ملاقاتیں اور مذاکرات امریکی سفارت خانے کی عمارت میں ہوتے رہے ہیں۔

جان کیری کی آمد سے قبل صدر اوباما نے دونوں امیدواروں اور صدر حامد کرزئی سے بات کی تھی اور واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کی باہمی رضا مندی سے ووٹ Auditکرنے کا طریقہ کار طے ہو جائے ، لیکن کیری کی آمد کے بعد بھی واضح نہیں کہ دونوں امیدوار کسی ایک فارمولے پر رضامند ہوگئے ہیں یا ہو جائیں گے۔اُدھر واشنگٹن میں افغانستان اور پاکستان کے لئے امریکی نمائندے جیمز ڈوبن نے ایک گفتگو میں کہا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ جیتنے والا سیاہ وسفید کا مالک ہوگا، غالباً ان کا اشارہ Coalition Government کی طرف تھا، لیکن اُدھر اشرف غنی کے ترجمان فاروقی نے کسی ایسی تجویز کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔آزاد الیکشن کمیشن نے غیر حتمی نتائج کا اعلان کیا تھا، جس کے مطابق اشرف غنی احمد زئی کو 56.44فیصد ووٹ ملے اور عبداللہ عبداللہ کو 43.56فیصد اور جو ووٹ ڈالے گئے ان کی تعداد 8.1ملین رہی،لیکن عبداللہ عبداللہ جو پہلے مرحلے میں ایک نمبر پر تھے، انہوں نے ان نتائج کو مسترد کردیا کہ دوسرے مرحلے میں بے شمار جعلی ووٹ ڈال کر نتائج حاصل کئے گئے ۔حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان 22جولائی کو ہو جانا چاہیے۔افغانستان تو بلاواسطہ ان انتخابات سے متاثر ہوگا ہی، لیکن بالواسطہ اثرات میں افغان۔امریکہ باہمی سلامتی کا معاہدہ غیر یقینی تاخیر کا شکار ہوگا۔حامد کرزئی نے امریکہ کی پوری کوشش کے باوجود اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے تھے، لیکن دونوں صدارتی امیدواروں نے اس پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔اقتدار کی منتقلی میں تاخیر خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جس سے پورا خطہ متاثر ہوگا۔عراق جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔افغانستان کی پشتون اور غیر پشتون تقسیم بھی ہو سکتی ہے۔عراق میں بھی ماہرین نے شروع شروع میں ایسے کسی امکان کو رد کردیا تھا، لیکن آج ہر لمحہ عراق کی تقسیم کو نزدیک لاتا دکھائی دیتا ہے۔جان کیری بھی صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر چین میں ہونے والے چین، امریکہ، تجارتی اجلاس کے بعد پھر واپس افغانستان آئیں گے۔

پاک بھارت تعلقات پر اثر پڑے گا۔وسط ایشیاءتک راہداری کامنصوبہ التواءکا شکار ہوگا، بلکہ شائد ترک کرنا پڑے، جس سے پاک بھارت تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے.... اور سب سے بڑھ کر افغانستان سے ملحقہ پاکستان کی سرحدی پٹی پاکستان کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ضرب عضب آپریشن شروع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔آپریشن میں تاخیر کی کوئی بھی وجہ ہو، کوئی ذمہ دار ہو، پاکستان کے لئے بہتر نہیں تھی اور یہ تاخیر کسی ہچکچاہٹ کا نہیں ایک باقاعدہ معاہدے اور ”یقین دہانی کا حصہ اور معاوضہ تھی،جس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔محترمہ بے نظیر کی شہادت کا فیصلہ Extensionنتیجہ GHQ میں دہشت گردوں کا داخل ہو جانا، مہران بیس پر حملہ، کراچی ائرپورٹ پر ناکام حملہ، سب نام نہاد ہچکچاہٹ کا نتیجہ تھا۔میجر جنرل اطہر عباس سچے ہیں، آنے والے ادوار میں جمہوریت کو بچانے کے نام پر اقتدار کی تقسیم سب طے شدہ تھا۔

قوم کو فوج کی موجودہ قیادت کا احسان مند ہونا چاہیے۔وزیرستان میں جو اسلحہ ساز فیکٹریاں پکڑی گئیں،اسی رفتار سے مصروف رہتیں تو نوبت تو پہلے ہی ایک میجر جنرل کی شہات تک پہنچ گئی تھی۔پورا پاکستان جہنم بنا دیا جاتا۔پاک فوج کو سلام، شہیدوں اور نمازیوں کو سلام، اس مرحلے پر قوم کی توجہ تقسیم کرنے والے پاکستان کو نقصان پہنچائیں گے۔ ریاست محفوظ رہے گی تو اصلاحات بھی ہو جائیں گی۔احتساب بھی ہو جائے گا، لیکن ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔یہ وقت پاکستان کو مشرق وسطیٰ بنانے سے بچانے کا ہے۔

ماﺅں کے کیپٹن مجاہد جیسے بیٹے، بہنوں کے بھائی اور بیویوں کے سہاگ بچانے کا ہے جو ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کررہے ہیں۔وہ جاگتے ہیں کہ ہم آرام سے سو سکیں۔وہ جانیں نچھاور کررہے ہیں کہ ہماری جان و مال اور عزت محفوظ رہے۔وہ سردی اور گرمی کی پروا نہیں کرتے، تاکہ ہمارے عیش میں خلل نہ پڑے۔لیکن وہ ہمارے ہیرو نہیں ہیں، بھارت کا کوئی فلم سٹار مر جائے ،ٹی وی سارا دن سوگ کی کیفیت میں رہتے ہیں، کسی کا جنم دن ہو یا برسی، خصوصی پروگرام نشر کئے جاتے ہیں، لیکن کیپٹن مجاہد جیسے نام بھلا دیئے جائیں گے، پھر بھی ہمارا اصرار ہے کہ ہم ”زندہ قوم ہیں؟“ قوم ہونا تو دور کی بات کیا ہم زندہ ہیں؟َ کیا ہمارے ضمیر زندہ ہیں؟میں اپنی بہادر ، دلیر ، سرفروش افواج سے قیادت سے Hot Persuitکا مطالبہ کرتا ہوں ۔عزت سے مرنے کا سبق تو سب دیتے ہیں، عزت سے جینے کا سلیقہ بھی سیکھنا ہوگا۔ ٭

مزید : کالم