غزہ کے مظلوم اورامت کی بے حسی!

غزہ کے مظلوم اورامت کی بے حسی!
غزہ کے مظلوم اورامت کی بے حسی!

  

عالمی نقشے پر فلسطین آج وہ نہیں جو خلافت عثمانیہ میں ہوا کرتا تھا۔ عالم اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر گاڑا گیا۔ اس کے نتیجے میں فلسطین ایک لمبی سی پٹی بن کر رہ گیا۔ اس فلسطین میں غزہ ایک بہت چھوٹا سا خطہ نظر آتا ہے۔ اہل غزہ نے کئی سال قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ان نمایندوں کو اپنا ووٹ دیں گے جو حقیقی معنوں میں آزادی وحریت کے علم بردار ہوں اور جن کی زندگی اس بات کا ثبوت پیش کرے کہ وہ کسی طاغوتی قوت سے نہ مرعوب ہیں، نہ اس کے ہاتھوں بِک سکتے ہیں۔انہیں حماس کی قیادت اپنے ان خوابوں کی تعبیر نظرآئی۔ انہوں نے حماس کو اپنی نمایندگی کے لئے منتخب کرلیا۔ شیخ احمد یاسین شہید، جناب عبدالعزیز رنتیسی شہید، جناب خالد مشعل اور جناب اسماعیل ہنیہ تاریخ کی ایسی شخصیات ہیں جن کے ظاہر وباطن میں کبھی کوئی فرق نہیں دیکھا گیا۔ غزہ میں حماس کی حکومت قائم ہوئی۔ عالمی نقشے پر یہ خطہ ایک چھوٹے سے نقطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ کل رقبہ 360مربع کلومیٹر ہے اور آبادی 16,60,000کے لگ بھگ ہے۔

اس چھوٹے سے خطے میں ایک چھوٹی سی حکومت دنیا کی نام نہاد سپرطاقت امریکہ اور اس کے حواریوں کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ سارا عالم کفر اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہوگیا کہ اس کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ غزہ کی جمہوری اور آئینی حکومت کو ظالمانہ طریقے سے ختم کردیا گیا۔ پھر غزہ پر اسرائیل نے بار بار امریکی آشیرباد اور عالم اسلام کی بے حسی کے نتیجے میں نہایت سفاکی اور درندگی سے حملے کیے۔ ان حملوں کی بھی ایک دردناک تاریخ ہے۔ ہم اس خونی تاریخ کو کبھی بھول نہیں سکتے۔ تازہ ترین حملہ سفاکی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ معصوم بچے، بے گناہ عورتیں، بزرگ مرد اورروزہ دار فلسطینی روزے اور نماز کی حالت میں اسرائیلی بموں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ او آئی سی نے بالآخر اپنے اجلاس کے لئے 14جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اجلاس تو ہوجائے گا لیکن حسب سابق اس اجلاس سے ”نشستندوگفتند وبرخاستند“ سے زائد کسی چیز کی توقع عبث ہے۔

امت مسلمہ بحیثیت مجموعی پرآشوب حالات سے گزر رہی ہے۔ غزہ اور اسرائیل کے آس پاس کے خطوں میں مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے قتل عام میںمصروف ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل خوش ہیں کہ ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“ ۔ ایسے میں انہیں سنہری موقع ملا ہے کہ وہ غزہ کے غیرت مند مسلمانوں کو اپنی خباثت اور سفاکی کا نشانہ بنائیں اور اسلام دوستی وحریت پسندی کے ”جرم“ کا مزہ چکھائیں۔ یہ درست ہے کہ مسلمان تنظیمیں دنیا بھر میں احتجاج کررہی ہیں۔ جن کے اختیار میں احتجاج ہے وہ احتجاج ہی کے مکلف ہیں۔ اس کے ساتھ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ دعائے نیم شبی میں آنسو¶ں سے وضو کرکے ان مظلومین کے حق میں اللہ کے در پہ دستک دے۔ مجھے بہت سے مناظر بے چین کردیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بے شمار اہلِ ایمان اسی کیفیت سے دن رات میں کئی بار گزرتے ہوں گے۔ وہ ماں جو اپنے تین معصوم بچوں کی شہادت پر بے بسی کے عالم میں کہہ رہی تھی: ”حسن البنا کے فرزندو! تم پر مصر میں جو بیت رہی ہے اس پر ہمارے دل زخمی ہیں، مگر ہم پر جو قیامت ہمیشہ ٹوٹتی رہی ہے اس پر کچھ امید بندھی تھی تو صدر مرسی کی حکومت سے۔ مگر آہ! پوری دنیا کو وہ حکومت ایک آنکھ نہ بھائی۔ اب ہم اس نیلی چھت والے سے فریاد کرتے ہیں، جس تک مظلوم کی فریاد پہنچنے میں دیر نہیں لگتی اور نہ ہی اس کے راستے میں کوئی چیز حائل ہوسکتی ہے۔ میرے شہید بچے جنت میں جاچکے ہیں۔ میرے اور جنت کے درمیان صرف میری موت حائل ہے۔“

پھر مجھے وہ نوجوان یاد آیا جس نے تصویر میں اپنے تین سالہ شہید بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔ معصوم بچے کا چہرہ کفن سے باہر ہے۔ میں نے اس کی تصویر دیکھی تو آنسو ضبط کرنا ناممکن ہوگیا۔اے غزہ والو! تمہاری عظمت کو سلام! کیا صبر ہے اور کیا قربانی! اللہ اللہ یہ مقامِ بلند اور یہ عزیمتِ بے مثال ! گذشتہ کئی دنوں سے جس راستے سے بھی گزر ہوتارہا، مسلمان نوجوانوں کو فٹ بال کے کھلاڑیوں، برازیل، ارجنٹائن، نیوزی لینڈ، جرمنی اور دیگر ممالک کے تذکرے کرتے سنتا تو عجیب لگتا۔ عموماً یہ نوجوان نماز کے بعد مسجد کے باہر کھڑے اپنی اپنی رائے کا اظہار کررہے ہوتے۔ عام حالات میں اس میں کوئی قباحت بھی نہیں، مگر غزہ کی ہولناک صورت حال جاننے کے باوجود یہ تبصرے زوال کی علامت ہیں۔ الحمدللہ مجھے وہ نوجوان بھی مل گئے جو چار پانچ کی ٹولی میں کھڑے ایک دوسرے کو اسماعیل ہنیئہ کے ٹویٹر پیغام کا حوالہ دے رہے تھے۔ غم کے باوجود مجھے ان نوجوانوں کی صورت میں امید کی ایک کرن نظر آئی۔

وہ کہہ رہے تھے، غزہ کے لیڈر نے اپنے پیغام میں کہا ہے: ”برادران اسلام السلام علیکم ! معاف کیجیے آپ کے آرام میں مخل ہورہا ہوں۔ ہم پر کئی دنوں سے دن رات اسرائیلی بم برس رہے ہیں۔ آپ کو اطلاع دینا مقصود ہے“۔ آپس میں وہ بچے طے کررہے تھے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے موبائل سے اپنے تمام روابط کو یہ پیغام بھیجے گا۔بے ساختہ میرا جی چاہا کہ میں ان سب کے ماتھے چوموں۔ وہ افطار اور نماز مغرب کے بعد مسجد سے نکل کر گھروں کی طرف جانے سے قبل یہ تبادلہ¿ خیالات کر رہے تھے۔ جب میں نے ان کے ماتھے چومے تو انھیں کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے زیر بحث جو موضوع تھا، وہ میرے دل کی آواز تھی۔ میں نے ان سے کہا ”میرے بچو! ہمارے درمیان کوئی عمر بن خطاب اور صلاح الدین ایوبی تو نہیں لیکن تمھاری روح میں ان کی ارواح کی خوش بو اللہ نے داخل کردی ہے۔ خوش نصیب ہو کہ فٹ بال کی کریز کے بجائے ایک اعلیٰ اور بامقصد موضوع پر سوچ بچار کررہے ہو“....مجھے بے ساختہ وہ منظر یاد آگیا جب ایک مظلوم فلسطینی ماں اپنی معصوم بچی کی شہادت کے بعد اس کی میت ہاتھوں میں اٹھائے بلند آواز سے کہہ رہی تھی: ”ہائے عمر بن خطاب ، صلاح الدین ایوبی! میں تمہیں کیا بتا¶ں کہ تمہاری بیٹیوں پہ کیا گزر رہی ہے۔“ مَیں نے بچوں کو الوداع کہتے ہوئے کہا: ”یقینا ان عظیم ہستیوں کی ارواح تمہارے ان جذبات سے مطمئن ہوئی ہوں گی۔“ آج امت مسلمہ بحیثیت مجموعی بے حسی، انحطاط اور بدترین زوال کا شکا رہے، مگر کہیں کہیں بادِ بہاری کے جھونکے مشامِ جاںکو معطر کردیتے ہیں۔ یہ نوجوان مجھے بادِبہاری کے جھونکے نظرآئے۔ اے کاش کہ ساری امت میں یہ روح زندہ ہوجائے۔ اے فرزندانِ اسلام! ذرا سوچو، کہیں ہماری حالت بھی تو یہ نہیں ہے:

خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی؟

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ!

مزید : کالم