معافی کی نہیں، بجلی کی ضرورت ہے

معافی کی نہیں، بجلی کی ضرورت ہے


وفاقی وزیر بجلی و پانی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مطلوبہ بجلی پیدا نہیں کر سکتے اس لئے عوام حالات میں بہتری کے لئے بارش کی دعا مانگیں۔ طویل لوڈشیڈنگ پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بجلی کا سسٹم اللہ کی مدد سے ہی چل رہا ہے، اُمید ہے اگلے تین روز میں اللہ کی طرف سے مدد آئے گی اور حالات بہتر ہوں گے، قوم رب العزت سے توبہ استغفار کرے۔۔۔۔ خواجہ آصف، وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سارے کام اللہ کی مدد سے ہی چل رہے ہیں، ایک دو روز میں بارش ہونے سے باقی روزے اور عید اچھی گزر جائے گی۔ انہوں نے تنبیہہ بھی کی کہ اگر موسم خشک اور گرم رہا تو توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیر بجلی و پانی کے اِس بیان سے تو لگتا ہے کہ وہ وفاقی وزیر نہیں، بلکہ تعویز دینے والے کوئی پیر فقیر ہیں جو دوائی دینے کے ساتھ ساتھ موذی مرض سے نجات حاصل کرنے کے لئے اللہ سے دُعا کرنے کی خاص ہدایت کرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ دوا دے کر مریضوں کی تسلی تشفی کر رہا ہوتا ہے اور یہاں خواجہ آصف نے اُس کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انہوں نے عوام کو کوئی ریلیف یاروڈ میپ دینے کی بجائے سارے کا سارا معاملہ ہی اللہ کے سپرد کر دیا، گویا خود کو ہر ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا۔ اگر عوام کو بارش کی دعائیں مانگ کر ہی بجلی ملنی ہے اور ہمارے ملک میں بجلی کا سسٹم اللہ توکل چل رہا ہے تو پھر کوئی ارباب اختیار سے پوچھے کہ ہمیں وزارت بجلی و پانی کی کیا ضرورت ہے؟اور اگر معاملات دُعاؤں سے ہی حل کرنے ہیں تو ہم بجلی کیا باقی سارے کام بھی اجتماعی دُعاؤں سے ہی کر لیتے ہیں پھر باقی ماندہ کابینہ، وزیراعظم ، گورنراور وزرائے اعلیٰ وغیرہ کی بھی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ خواجہ آصف صاحب شاید یہ بھول گئے ہیں کہ اللہ بھی انہی قوموں کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت آپ بدلنا چاہتے ہیں، جو کوشش کرتے ہیں، صرف غیبی مدد کا انتظار نہیں کرتے۔ اللہ نے انسان کو عقل و فہم سے نوازا ہے تاکہ وہ اس کا صحیح استعمال کر کے موثر منصوبہ بندی کر سکے۔ منصوبہ بندی تو دور کی بات انہوں نے تو عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے۔ خواجہ صاحب کی معافی سے کیا تلافی بھی ہو جائے گی؟ لوگ اُنہیں معاف کر دیں گے اور صبر و شکر کر لیں گے؟

انہوں نے معافی پر ہی بس نہیں کیا، بلکہ قوم کو تلقین بھی کی ہے کہ وہ توبہ استغفار کرے یعنی یہ کام بھی قوم ہی کرے، کم ازکم کوئی کام تو ہمارے وفاقی وزراء بھی کر لیں۔ الیکشن مہم کے دوران بجلی بحران کو لے کر مسلم لیگ(ن) نے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے وہ تو ایک ہی سال میں مٹی کا ڈھیر ثابت ہو گئے۔ اقتدار میں آتے ہی وہ اپنی زبان سے پھر گئے اور ان کو لگا کہ اس وقت انہوں نے ’’جذبات کی رو‘‘ میں بہہ کر قوم سے وعدہ کر لیا تھا۔اب تو یہ سوچ کر ڈر لگ رہا ہے کہ چار سال بعد یہ ہمیں کس حال میں چھوڑ کر جائیں گے، اللہ ہی کے سہارے!

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر گرمی کی یہی صورت حال رہی تو لوڈشیڈنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، ملک میں بجلی کی پیداوار 13ہزار جبکہ طلب 19ہزار میگاواٹ ہے،انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے ہمیں بجلی چوری اور لائن لاسز کو ختم کرنا ہو گا۔ یقیناًکرنا ہو گا، لیکن خواجہ صاحب یہ کام آپ کی وزارت کا ہی ہے اور کرنا بھی آپ کو ہی چاہئے۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ آپ بتاتے کہ اب تک اس سلسلے میں آپ نے کون سا تیر مارا ہے اُلٹا آپ بھی ’’ہمیں یہ کرنا ہو گا وہ کرنا ہو گا‘‘ کی گردان کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ ’’ہمیں‘‘ کون ہے اور یہ کب کرے گا؟ یہ کام حکومت کا ہے یا یہ بھی عوام کے سر پر ہی ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے 3 سے 4سال کے دوران 6 سے7ہزار میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل کی جائے تاکہ لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔ساتھ ہی ساتھ خواجہ آصف نے کہا کہ نندی پور سے بجلی ڈیزل سے پیدا ہوتی ہے، جو بہت مہنگی پڑتی ہے اسے ٹریٹڈ فرنس آئل سے چلایا جا سکتا ہے، جس کی حکومت کے پاس سہولت موجود نہیں ہے۔کیا اس کا اندازہ حکومت کو پہلے نہیں تھا؟ کیا اس کے لئے مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی یا یہ پراجیکٹ بھی آنکھیں بند کر کے شروع کر دیا گیا تھا۔ کیا ہم اس قسم کے تجربات کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ واپڈا کے سسٹم میں 16ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل کی گنجائش ہے اس سے اوپر بجلی پیدا کرنے سے سسٹم ٹرپ کر جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی ناکامیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں،لیکن چیزیں درست سمت میں بڑھ رہی ہیں اور امید ہے کہ آئندہ تین سے چار سال میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ کتنی آسانی سے انہوں نے کہہ دیا کہ وہ کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے، حالانکہ اُن کو مکمل روڈ میپ دینا چاہئے تھاکہ یہ معاملات کب تک ٹھیک ہوں گے۔ انہیں قوم کو اعتماد میں لے کر یہ بتانا چاہئے کہ یہ سسٹم کیسے بہتر ہو گا۔ انہیں فوری طور پر ٹائم فریم دینا چاہئے کہ اچانک خراب ہو جانے والی یہ ٹرانسمیشن لائنیں اور بجلی کا ترسیلی نظام کب تک صحیح ہو گا؟

مسلم لیگ(ن)کی حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سڑکیں اور میٹرو بسیں ضروری ہیں،لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری دوسرے مسائل ہیں جن کا فوری حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ رمضان کے مہینے میں روزے دار کو بجلی اور پانی میسر نہ ہو تو قیامت صغریٰ کا گمان ہونے لگتا ہے، لیکن یہ بات ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے، جنریٹر کے بل پر سہل زندگی گزارنے والے حکمران کیسے سمجھیں گے؟ اُن کے نزدیک تو انہوں نے معافی مانگ کر عظیم انسان ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اب قوم کو اُن کی عظمت کو سلام کرنا چاہئے۔ حضور والا، معافی مانگنے سے کام ہرگز نہیں چلے گا آپ کو کچھ کر دکھانا ہو گا، یہی آپ کا وعدہ تھا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ آصف کی یہ پریس کانفرنس وزیراعظم نوازشریف کے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے سخت نوٹس کا جواب ہے۔ ہمارے وفاقی وزراء جانے کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں جو آئے روز ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں،جن سے اُن میں عقل و شعور کی کمی کا شک یقین میں بدلنے لگتا ہے۔

سب سے بڑھ کر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایسے وعدے نہیں کرنا چاہتے جو کل ہمارے گلے پڑ جائیں اور قوم کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے۔ واقعی ان لوگوں کو شرمندگی بھی ہوتی ہے؟ اگر ہوتی تو اس سے بچنے کے لئے یقیناًسسٹم اپ گریڈ کرنے کی کوشش کی جاتی ،اعلیٰ معیار کے ٹرانسفارمرز لگانے اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری کے لئے کوششیں کی جاتیں ۔اس لئے خواجہ صاحب اللہ سے مدد مانگنے کا مشورہ دینے کی بجائے کہیں بہتر ہو گا کہ آپ ہنگامی بنیادوں پر بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں، موثر منصوبہ بندی کریں اور قوم کو ریلیف دیں تاکہ آنے والے دنوں میں معاملات بہتر ہو سکیں پھر شائد قوم آپ کو معاف کر دے۔

مزید : اداریہ