حافظ سعید سے بھارتی صحافی کی ملاقات: بھارتی راجیہ سبھا میں ہنگامہ

حافظ سعید سے بھارتی صحافی کی ملاقات: بھارتی راجیہ سبھا میں ہنگامہ

بھارت میں ایوانِ بالا راجیہ سبھا کے اجلاس میں اس وقت سخت ہنگامہ ہوگیا جب کانگرسی رکن نے ایک بھارتی صحافی وید پر تاپ ویدک کی پاکستان میں جماعت الدعوٰۃ کے امیر حافظ سعید سے ملاقات پر اعتراض کیا۔اجلاس میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔بالآخر اسے پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کیا گیا ،جس کے بعد وزیراطلاعات نے ایوان میں بیان دیا کہ حکومت کے نزدیک حافظ سعید مجرم ہیں، لیکن ہم کسی صحافی کی ملاقات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

ویدپرتاپ ویدک یوں تو صحافی ہیں لیکن ان کی دوسری حیثیت سرکاری بھی تھی وہ سابقہ حکومت کے دور میں بین الاقوامی امور کے تھنک ٹینک میں شامل اور مشیر بھی رہے ہیں۔وہ اس حیثیت سے بھی پاکستان آئے اور صحافیوں سے لے کر سرکاری زعماء اور اہم شخصیات سے مختلف امور خصوصاً پاک بھارت دوستی پر تبادلہ خیال کرتے رہے وہ ہمارے ایک معاصر میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے ہیں اس مرتبہ بھی وہ لاہور آئے تو انہوں نے وزیراعظم ،متعدد وزراء، اہم شخصیات اور صحافیوں سے ملاقاتوں کے علاوہ حافظ سعید سے بھی ملاقات کر ڈالی، جس پر یہ ہنگامہ ہوا۔

اس احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا دلچسپ پہلو یہی ہے کہ ہنگامہ کرنے والے کانگرس کے رکن ہیں اور مذکورہ صحافی اس جماعت کی حکومت کے دور میں خدمات بجا لاتے رہے، حتیٰ کہ انہوں نے بیک ڈور ڈپلومیسی میں بھی حصہ لیا، اب اگر انہوں نے بہت ساری ملاقاتوں میں ایک ملاقات حافظ سعید سے بھی کرلی تو اس میں کیا قباحت ہے؟حافظ سعید پاکستان کے آزاد شہری ہیں ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور عدالتوں نے ہی ان کو آزاد کیا، لیکن بھارت کی راجیہ سبھا میں کانگرس کے رکن نے اسے ایشو بنا لیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کی سیاسی جماعتوں کی ذہنیت کیا ہے جو انسان دوستی اور سیکولر ازم کی بھی دعویدار ہیں، پاکستان حکومت کو بھارتی سوچ پر گہری نظر رکھنا چاہیے۔

مزید : اداریہ