جنوبی وزیرستان ،اہم طالبان کمانڈر عدنان رشید زخمی حالت میں گرفتار

جنوبی وزیرستان ،اہم طالبان کمانڈر عدنان رشید زخمی حالت میں گرفتار

                                              میران شاہ (مانیٹرنگ ڈیسک) آپریشن ضرب عضب میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے جس میں فوج نے اہم طالبان کمانڈر عدنان رشید کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا ہے۔ تفصیل کے مطابق عدنان رشید کو جنوبی وزیرستان کی وادی شکائی سے چار روز قبل گرفتار کیا گیا۔ وہ فوج کے محاصرے سے بچ کر فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا اور زخمی حالت میں تھا، گرفتاری کے بعد اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ذرائع کیمطابق تحریک طالبان پاکستان نے بھی عدنا ن رشیداور اسکے تین ساتھیوںکی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور الزام لگایا ہے کہ عدنان رشید کو انکے مخالف دھڑے نے گرفتار کرایاوہ انکی گرفتاری کابدلہ لیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ عدنان رشید سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے جرم میں قید کی سزا کاٹ رہا تھا کہ پندرہ اپریل 2012ءکو بندوقوں، دستی بموں اورراکٹوں سے مسلح دہشت گردوں نے بنوں جیل پر حملہ کرکے اسے رہا کرالیا۔ اس حملے میں مجموعی طور پر طالبان دہشت گردوں سمیت تین سو چوراسی قیدیوں کو چھڑا لیا گیا تھا۔ عدنان رشید کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی کے گاﺅں "چھوٹا لاہور " سے تھا اور 1997 میں جوانی کے دنوں میں اس نے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔اسی دوران 2004 میں 24 سال کی عمر میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں گرفتار ہوا اور 2005 میں موت کی سزا کا حکم دیا۔ بنوں جیل میں سزا پر عملدرآمد کا منتظر تھا کہ اپریل 2012 میں انہیں چھڑا لیا گیا۔اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور جیل میں داخل ہوتے ہی پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھے اور باآواز بلند عدنان رشید کو پکارنا شروع کیا، رہائی کے بعد عدنان نے ملالہ یوسف زئی کو ایک خط لکھا جس میں اس پر حملے کی وضاحت کی اور اسے واپس آکر اسلامی و پختون روایات کے مطابق پڑھنے کا مشورہ دیا لیکن طالبان نے عدنان کے اس خط کو اس کی ذاتی رائے قرار دیا تھا۔اس کے بعد عدنان رشید نے قیدیوں کی مدد کیلئے ایک تنظیم "انصار الاسیر" قائم کی، پچھلے سال جولائی میں ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل پر حملے کا واقعہ پیش آیا جہاں اس حملے کا ماسٹر مائنڈ عدنان رشید کو ہی قرار دیا گیا۔اس واقعہ میں دو سو تینتالیس قیدی فرار ہوئے۔ذرائع کے مطابق عدنان رشید کو پھانسی گھاٹ میں بھی موبائل فون کی سہولت حاصل تھی۔ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں اس نے دعویٰ کیا کہ 2002 کے ریفرنڈم میں پرویز مشرف کے خلاف ووٹ دینے پر اس کا پیچھا شروع کردیا گیا تھا۔

مزید : صفحہ اول