افغانستان خود کش حملے اور ریموٹ کنٹرول دھماکے میں 91 ہلاک ،درجنوں زخمی

افغانستان خود کش حملے اور ریموٹ کنٹرول دھماکے میں 91 ہلاک ،درجنوں زخمی

                                  کابل( مانیٹرنگ ڈییسک +اے این این )افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کے مصروف بازار میں خودکش حملے اور کابل میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں مجموعی طورپر91 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ،سب سے زیاد89ہلاکتیں خودکش حملے میں ہوئیں،ہلاک ہونے والوں میں دوپولیس ا فسران بھی شامل ،متعدد دکانیں تباہ ،ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں صدارتی محل کے ملازمین کی گاڑی کونشانہ بنایاگیا۔افغان میڈیارپورٹ کے مطابق صوبہ پکتیکاکے ضلع ارگون کے بازار میں منگل کی صبح ساڑھے دس بجے اس وقت خودکش حملہ کیاگیا جب وہاں بہت بھیڑ تھی اور لوگ خریداری میں مصروف تھے ۔ افغان وزرات دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی کے مطابق حملے میں 89 افراد ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے ۔واقعہ کے بعدفوری طورپرامدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں اورلاشوں اورزخمیوں کوقریبی ہسپتالوں میں منتقل کیاگیا ۔امدادی کارروائیوں میں ہیلی کاپٹر اور ایمبولینسوں نے بھی حصہ لیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق دھماکا خیز مواد ایک ٹرک میں رکھا گیا تھا اور حملہ آور نے خود کو اس وقت اڑا لیا، جب پولیس نے ایک مارکیٹ میں اسے روکنے کی کوشش کی ۔ ضلع ارگون کی انتظامیہ کے سربراہ اور گورنر محمد رضا خروطی نے کہا کہ خودکش حملہ ایک مصروف بازار اور ایک مسجد کے قریب ہوا۔ جبکہ قریب ہی ایک پولیس چیک پوائنٹ بھی واقع ہے ۔ہلاک ہونے والوں میں دوپولیس افسراور زیادہ ترعام شہری شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حملے کے نتیجے میں متعدد دکانیں بھی تباہ ہو گئی اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے ۔انہوں نے کہاکہ یہ غریب شہریوں کے خلاف ایک بہت سفاکانہ خودکش حملہ تھا۔ اس کے قریب کوئی فوجی اڈہ نہیں تھا۔ خروطی کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ حملہ آور کا اصل ٹارگٹ کیا تھا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ پورا علاقہ اس کی آواز سے گونج اٹھا۔ افغان حکام کے مطابق مقامی ہسپتال زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں سے بھر چکا ہے جبکہ لوگوں کی طرف سے زخمیوں کو سڑک پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ فوری طورپرکسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔واضح رہے کہ افغانستان میں رمضان کے مہینے میں ہونے والا یہ بدترین حملہ تھا۔دریں اثناء ایک دوسرے حملے میں ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے دارالحکومت کابل میں صدارتی محل کے ملازمین کی وین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر تین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے تمام متاثرین کا تعلق صدارتی میڈیا آفس سے ہے۔ چند روز پہلے اقوام متحدہ کی منظرعام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ برس کے برعکس رواں برس شہری ہلاکتوں میں چوبیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید : صفحہ اول