4حلقوں کی بات ختم ،اب افغانستان کی طرح پورے الیکشن کا آڈٹ ہو گا ،عمران خان

4حلقوں کی بات ختم ،اب افغانستان کی طرح پورے الیکشن کا آڈٹ ہو گا ،عمران خان ...

                                    اسلام آباد(اے این این) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 4 حلقوں کی بات ختم، اب افغانستان کی طرح پورے الیکشن کا آڈٹ ہوگا، دھاندلی ثابت ہوئی تو واحد راستہ مڈٹرم الیکشن ہیں، حکومت، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں، زرداری نے بھی ہمارے موقف کی تائید کردی،14 اگست کو ہر صورت اسلام آباد آئیں گے، فوج سے تصادم نہیں ہوگا، شمالی وزیرستان آپریشن پر نواز شریف استعفیٰ دیں، جشن آزادی تقریب ہمارے مارچ کو سبوتاژ کرنے کیلئے رکھی گئی ،حکومت مہنگائی ، لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں ناکام ہوگئی، نندی پور ناکامی پر عابد شیر علی اور خواجہ آصف استعفیٰ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام جلسے پرامن تھے اور14 اگست کا آزادی مارچ بھی پرامن ہونا تھا پھر حکومت نے جشن آزادی کی تقریب کیوں رکھی۔ پاک فوج کی پریڈ صبح ہوگی ہم شام کو آئیں گے، ہمارا فوج سے کوئی تصادم نہیں ہوگا۔14 اگست کو ضرور نکلیں گے اور اگر ہمیں روکا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔14 اگست کوحقیقی یوم آزادی منائیں گے۔ ڈی چوک پر دھاندلی کے ثبوت عوام کے سامنے رکھیں گے اور خفیہ سیلوں کا انکشاف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عبداللہ عبداللہ نے دھاندلی کا الزام لگایا تو اب پورے80 لاکھ ووٹوں کی وہاں دوبارہ گنتی ہوگی یہی جمہوریت ہے۔ ہم نے تو4حلقوں کی بات کی تھی لیکن معلوم نہیں الیکشن کمیشن کس سے خوف زدہ ہے کہ ہمیں آج تک انصاف نہیں ملا۔ آصف زرداری نے بھی کہہ دیا ہے کہ 4 سے 40 حلقوں کی دوبارہ گنتی ہونی چاہیے۔ زرداری حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی ان سے بہتر تھی اور اب عوام نے بھی یہی کہنا شروع کردیا ہے۔ زرداری کے دور میں لوڈشیڈنگ تھی مگر بجلی تو سستی تھی اب لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہے اور بجلی کی قیمت بھی دگنا ہوگئی ہے ۔ وزیر بجلی معافیاں مانگ رہے ہیں اور بارش کی دعائیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے لوگ کام سیٹس کے دفتر میں بیٹھ کر 4 حلقوں کے نتائج تبدیل کررہے ہیں جس کی تفصیلات ہمیں مل گئی ہیں۔ جو حلقہ کھلتا ہے دھاندلی زدہ نکلتا ہے اب تو تمام سیاسی جماعتیں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ نادرا کے چیئرمین کو اسی مقصد کیلئے برطرف کیا گیا تھا کہ حقائق سامنے نہ آسکیں۔ نیا نادرا کا چیئرمین عارضی اور ان کا اپنا بندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے بعد اب تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا وہ کس حیثیت میں خیبرپختونخوا میں جاکر پیسے بانٹ رہے ہیں کیا کسی اور صوبے کے وزیراعلیٰ کو پنجاب میں جاکر پیسے بانٹنے کا اختیار ہے؟ گورنر خیبرپختونخوا کس حیثیت میں شہباز شریف کا استقبال کرنے گے؟ کیا پرویز خٹک لاہور جاتے ہیں تو کیا گورنر پنجاب ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اگر پنجاب حکومت نے آئی ڈی پیز کو پیسہ دینا ہے تو مروجہ روایات کے مطابق کے پی کے حکومت کو دے۔ پنجاب آئی ڈی پیز کو تو اپنے ہاں گھسنے نہیں دے رہا اور نام نہاد ہمدردیاں دکھا رہا ہے۔ آئی ڈی پیز فاٹا سے تعلق رکھتے ہیں جو وفاق کے زیر اہتمام ہے پھر بھی خیبر پختونخوا حکومت نے انہیں مہمان بنایا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے میرے گھر میں آکر مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر شمالی وزیرستان آپریشن کیا تو آپ کو اعتماد میں لوں گا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا غلط بیانی پر اب ان کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ آئی ڈی پیز کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار نواز شریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بادشاہت قائم ہے، سمدھی وزیر خزانہ ہے، حمزہ شہباز ڈپٹی پرائم منسٹر بنے ہوئے ہیں، مریم نواز سکیمیں چلا رہی ہیں، بھانجے عابد شیر علی کو وزارت ملی ہوئی ہے، عوام کا پیسہ اشتہارات پر خرچ ہورہا ہے اور ا ب تک 10ارب روپے کے اشتہارات جاری ہوچکے ہیں۔ نندی پور منصوبہ فراڈ نکلا جو چار دن بعد ہی بیٹھ گیا جس پر 100ملین ڈالر اضافی خرچ کیے گئے۔ حکومت اشتہارات پر چل رہی ہے، میرٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر شہباز شریف نے اب تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ترقی کی شرح نمو4.4 فیصد ہے جبکہ آئی ایم ایف کو 3.4 فیصد بتایا اب کہتے ہیں کہ ٹائپنگ کی غلطی ہوگئی ہے۔ انتخابات میں دھاندلی بھی ٹائپنگ کی غلطی تھی۔ آصف زرداری نے بھی ان کی حکومت کو بادشاہت قرار دے دیا ہے۔ ہمارے ہاں سے تو ہندوستان کے حالات اچھے ہیں جہاں کسانوں کو بجلی پر سبسڈی ملتی ہے۔

مزید : صفحہ اول