تیس چالیس ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لا کر انقلاب نہیں لایا جا سکتا ،انقلاب کا ایجنڈا لانیوالے شرمندہ ہونگے ،وزیر اعظم

تیس چالیس ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لا کر انقلاب نہیں لایا جا سکتا ،انقلاب کا ...

                      اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ تیس چالیس ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لاکر انقلاب نہیں لایا جا سکتا ¾انقلاب کا ایجنڈا لانے والے شرمندہ ہوں گے ¾80 اور 90 کی سیاست کا وقت گزرچکا ¾ منفی سیاست کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے ¾ پہلے ہی کہہ دیا تھا بجلی کا بحران چھ ماہ میں حل نہیں ہو سکتا ¾ نیلم جہلم سے 2016 کے ا?خرتک 1 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہوگی ¾چاہتے تو ڈالر50 یا 60 روپے تک لے جاسکتے تھے۔ منگل کو بہترین ٹیکس دہندگان کو اعزازی کارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چند ہزارلوگ کروڑ افراد کے مینڈیٹ کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام انقلاب اوراحتجاج کے نام پرنعرے لگانے والوں کی نہ سنیں، ہم نےکروڑوں ووٹ حاصل کیے،50 ہزار لوگ اکٹھے کرنیوالے کیا انقلاب لائیں گے، ہماری حکومت بھرپورمینڈیٹ والی ہے، عالمی ادارے اعتماد کا اظہارکرچکے ہیں،ہمارے دورمیں کوئی کرپشن کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا،تبدیلی ایک دن یا ایک سال میں نہیں آتی، وقت لگتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم 21ویں صدی میں آگئے، منفی سیاست کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے، اب وقت مثبت سیاست کا ہے،ہم نے کسی حکومت کا تختہ الٹانے کی کوشش نہیں کی، پاکستان کے مسائل حل کرنے کیلئے قوم نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہم اپنا مینڈیٹ پورا کریں گے، اگرآپ کو مینڈیٹ ملتا تو آپ پورا کرتے۔ نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ بجلی کا بحران 6 ماہ میں حل نہیں ہوسکتا،عوام سے وعدہ کیا تھا کہ بجلی کے بحران کو حل کرنیکی کوشش کریں گے، نیلم جہلم سے 2016 کے آخرتک 1 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہوگی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ جتنی جلدی لاہورمیں میٹرو بنائی اتنی ہی جلدی کراچی میں بھی بنائیں گے اور گڈانی میں ہم اپنی جیٹی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارہ کم ہوکر4 فی صد ہوگیا،ٹیکسوں کی وصولوں میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر14 ارب ڈالرز تک ہوگئے،چاہتے تو ڈالر50 یا 60 روپے تک لے جاسکتے تھے، موڈیز کی ریٹنگ میں معیشت کی بہتری دکھائی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یوروبانڈز کیلئے توقع سے بڑھ کر 7 ارب ڈالر ز کی پیشکشیں وصول ہوئیں ضرورت کے تحت آئندہ بھی یوروبانڈ جاری کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باوجود لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے بجلی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، وسائل اجازت نہیں دیتے کہ بڑے بڑے کارخانے خود لگائیں تاہم چین کے تعاون سے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں اور خواہش مند افراد کو پیشکش کی ہے کہ چینی قرضے لے کر بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاریں کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پورٹ قاسم میں 1300 میگاواٹ کے 2 کارخانے لگ رہے ہیں۔ تھر میں 600 میگاواٹ کا کارخانہ لگے گا، جامشورو میں بھی 1300 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والا منصوبہ لگایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کمہاکہ ججز بحالی تحریک میں اگر ہمارا تخریبی ایجنڈا ہوتا تو گوجرانوالہ سے اسلام آباد جاتے تاہم ججز کی بحالی کے بعد یہ نوبت پیش نہیں آئی۔وزیر اعظم نے کہاکہ عوام نے ہمیں بدعنوانی، دہشت گردی، معاشی بدحالی اور توانائی کے بحران سے نجات کےلئے مینڈیٹ دیا ہے اور ہم اپنی مسلسل کوششوں اور محنت سے اقتصادی بحالی عمل میں لائیں گے انہوںنے کہاکہ عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کو ہر صورت میں پورا کریں گے ¾اقتصادی پالیسیوں اور اصلاحات کی بدولت ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے، ترقی کے عمل کو چلنے دینا چاہئے، کسی کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قومی ترقی سب کا ایجنڈا ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی کار کر دگی کوسراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ آئندہ چند ماہ میں وعدہ کے مطابق 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر حکومت کی کوششوں سے مستحکم ہوئی۔ وزیر اعظم نے کراچی ٹرانسپورٹ پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت منصوبے کے لئے فنڈ فراہم کرےگی اور یہ کم سے کم ممکنہ وقت میں مکمل کیا جائے گا، اس کے علاوہ فراہمی آب اور کراچی لاہور موٹر وے منصوبوں کا بھی آغاز کیا گیا وزیراعظم نے مختلف کیٹیگریز کے سرکردہ ٹیکس دہندگان میں اعزازی کارڈز تقسیم کئے۔ یہ کارڈز ایک سال کے لئے کار آمد ہوں گے۔

مزید : صفحہ اول