شمالی وزیرستان سے فرار شدت پسند پنجاب میں جمع؟پشتو بولنے والے ڈی جی خان میں پھیل رہے ہیں

شمالی وزیرستان سے فرار شدت پسند پنجاب میں جمع؟پشتو بولنے والے ڈی جی خان میں ...
شمالی وزیرستان سے فرار شدت پسند پنجاب میں جمع؟پشتو بولنے والے ڈی جی خان میں پھیل رہے ہیں

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

کراچی گلشن بونیر میں گزشتہ روز انسداد دہشت گردی فورس کی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشتگرد مارے گئے ہیں اس علاقے کومحاصرے میں لے کر یہ کارروائی کی گئی دہشتگردوں نے مقابلہ بھی کیا تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

اس کارروائی سے ان اطلاعات کو تقویت ملتی ہے جن کے مطابق شدت پسند پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں حال ہی میں ایک معاصر میں چونکا دینے والی خبر پڑھی کہ شمالی وزیرستان سے فوجی آپریشن کے دوران فرار ہونے والوں نے بھی افغانستان کی طرف جانے کے علاوہ اندرون ملک کا رخ کیا ہے خبر کے مطابق پشتو بولنے والے شدت پسند اپنے حلئے تبدیل کر کے ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتے ہوئے ڈیرہ غازی خان کے مختلف حصوں میں جمع ہو رہے ہیں، جہاں پہلے سے بنیاد پرست حضرات ہیں اور انہی کو پنجابی طالبان بھی کہا گیا ہے۔ یوں اس حصے میں شدت پسندوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور پنجاب حکومت کو مشکل پیش آ سکتی ہے۔

وفاقی اور پنجاب حکومت کی طرف سے خبردار رہنے کے حوالے سے دعوے تو کئے گئے لیکن عملی کام نظر نہیں آ رہا۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ خفیہ اداروں کی طرف سے اطلاع بہم پہنچائی جانے پر بھی کارروائی نہیں ہوئی۔ معلوم نہیں کس ہدایت اور کس حکم کا انتظار کیا جا رہا ہے، کراچی میں گزشتہ روز جو مقابلہ ہوا اس سے ان شدت پسندوں کی سخت جانی کا بھی مظاہرہ ہوا ہے اور ایسی ہی صورت حال پنجاب میں بھی ہو سکتی ہے کہ یہ حضرات ابتدا میں خود کو خفیہ اور محفوظ رکھتے ہیں اس لئے اس دھوکے میں نہیں آنا چاہئے کہ وارداتوں میں کمی ہو گئی اور انتظامیہ کامیاب ہے ایسا بالکل نہیں یہ شدت پسندوں کی حکمت عملی ہے اور وہ نئی جگہ اپنے ٹھکانے بنا کر وارداتیں شروع کریں گے۔

ایک طرف یہ صورتحال ہے۔ دوسری طرف ملک کے اندر عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔حتیٰ کہ اب تو وزیر برائے پانی و بجلی نے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ کے وقفے میں زیادتی نے لوگوں کومشتعل کر دیا ہے، وزیر موصوف نے مزید برے حالات کا اشارہ بھی دیا ہے، یہ وہی وزیرہیں جو سابقہ حکومت کے خلاف سرگرم عمل رہے اور الزام لگانے کے علاوہ حالات ٹھیک کرنے کے دعویدار بھی تھے، ان دنوں یہ بہت بڑی بڑی باتیں بناتے تھے حتیٰ کہ عدالتوں سے بھی رجوع کیا تھا اب اپنی باری آئی ہے تو اللہ یاد آنے لگے ہیں۔ سبحان اللہ، اب ان کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ وقت کیا چیز ہے جب یہ برا ہو کر آتا ہے تو کسی کو معاف نہیں کرتا۔

یہ حقیقت ہے کہ عوام بے حد تکلیف میں ہیں اس پر وزیر بجلی فرماتے ہیں کہ اللہ سے بارش کی دعا کریں جبکہ لوگ ان سے نجات کی دعائیں کرنے لگے ہیں۔ ان کی تمام تر حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ جب یہ حضرات پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید کر رہے تھے تو ان کو اپنے پنجاب پر بھی غور کرلینا چاہئے تھا اب وقت آیا ہے تو جلد ہی معذرت پر اتر آئے ہیں جبکہ اس معذرت سے دل تو نہیں بھرتا۔ویسے حکمرانوں کو بھی احساس ہے کہ کئی ادارے ایسے ہیں جو ملک کو عدم اعتماد سے دوچار کرنے کے لئے تجوریوں کے منہ کھولے بیٹھے ہیں۔ یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہی۔

ایسے میں ملک میں سیاسی محاذ آرائی نہیں ہونا چاہئے اگر اختلافات ہیں تو وہ معقول انداز میں بات کر کے طے کرنا چاہئیں، احتجاج اور مظاہروں کوٹالا جانا چاہئے۔

مزید : تجزیہ