داعش کے جنگجو میکسیکو کے راستے امریکہ داخل ہو سکتے ہیں،سی آئی اے

داعش کے جنگجو میکسیکو کے راستے امریکہ داخل ہو سکتے ہیں،سی آئی اے

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ”اسلامی ریاست“ داعش کی دنیا بھر کے ممالک کو دھمکیاں نظر انداز نہیں کرنی چاہئیں انٹیلی جنس کی اطلاعات کے مطابق داعش کے جنگجوﺅں میں یورپی نسل کے افراد بھی شامل ہیں جو امریکہ میں دہشت گردی پھیلا نے کے لئے عام شہریوں کی صورت میں میکسیکو کے بارڈر سے امریکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سی آئی اے کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کا میکسیکو کے ساتھ منسلک بارڈر ہزاروں میل پر پھیلا ہوا ہے جہاں سے داعش کے یورپی نسل کے جنگجو اپنی گوری رنگت کے باعث بڑی آسانی سے عام شہریوں کی طرح امریکہ داخل ہو سکتے ہیں اور پھر دہشتگردی کی وارداتیں کر سکتے ہیں۔ ”اسلامی ریاست“ کے نام نہاد خلیفہ ابوبکر بغدادی نے شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد مستقبل کا جو نقشہ جاری کیا ہے اس میں مزید ہمسایہ ممالک کے علاوہ افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ بغدادی کی یہ تنظیم القاعدہ کی فرنچائز ہونے کے باعث اسامہ بن لادن کا ایجنڈا ہی آگے بڑھا رہی ہے جس کے مطابق اس نے امریکہ سمیت نیٹو ممالک کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں نے اطلاع دی تھی کہ متعدد امریکی مسلمان شام اور عراق کی جنگوں میں شریک ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جب محاذ جنگ سے لوٹ کر آئیں گے تو دہشت گردی میں تربیت حاصل ہونے کے بعد وہ ایسی کارروائیاں امریکہ میں بھی کر سکتے ہیں۔ اب انٹیلی جنس کی تازہ رپورٹ میں ”اسلامی ریاست“ کے یورپی جنگجوﺅں کے میکسیکو کے راستے میں امریکہ داخل ہونے کے خطرے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ امریکی حکام نے ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ملک کی سرحدوں کے علاوہ اہم سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

مزید : صفحہ اول