امریکی صدر کا مسلم رہنماﺅں کو اسرائیل کے حق میں’ لیکچر‘

امریکی صدر کا مسلم رہنماﺅں کو اسرائیل کے حق میں’ لیکچر‘
امریکی صدر کا مسلم رہنماﺅں کو اسرائیل کے حق میں’ لیکچر‘

  

واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکی صدر براک اوباما نے مسلم ممالک کے سفراء کو مخاطب کرتے ہوئے غزہ پر اسرائیلی حملوں کو بالوسطہ طور پر جائز اور دفاعی ضرورت کا حق دے دیا اور واضح کیا کہ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں پر راکٹ حملے برداشت نہیں کر سکتا۔وہ منگل کے روز وائٹ ہاوس میں سالانہ دعوت افطار کے موقع پر مختلف مسلم ممالک کے سفراءسے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بڑے واضح اور دوٹوک انداز میں غزہ سے اسرائیل پر پھینکے جانے والے راکٹ حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کوئی ملک بھی راکٹ حملے برداشت نہیں کر سکتا ہے اور نہ یہ کہ اس کے شہریوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا جائے۔امریکی صدر نے اس موقع پر عراق کی صورت حال پر بھی بات کی۔ اوباما  نے کہا '' ہم سب جانتے ہیں دنیا کے بہت سے حصوں میں تشدد اور دہشت گردی ہے، تشدد اور دہشت گردی کرنے والے دنیا کی تعمیر کے بجائے اس کی تخریب چاہتے ہیں۔ اس لیے میں بڑے صاف انداز سے کہتا ہوں '' کوئی ملک یہ قبول نہیں کر سکتا کہ اس کے شہریوں پر راکٹ چلائے جائیں۔''

انہوں نے مزید کہا ''اس وجہ سے ہم اسرائیل کے حق دفاع کے حوالے سے بھی بہت واضح ہیں، میں سمجھتا ہوں اسرائیل پر راکٹ حملے ناقابل معافی ہیں۔ ''واضح رہے آٹھ جولائی سے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر شروع کی گئی بمباری سے اب تک دو سو سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جن کی بڑی تعداد عام شہریوں پر مشتمل ہے، جبکہ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسی بمباری سے زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1500 کو چھو رہی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام مسلم ممالک کے رہنما اور سفیر خاموشی سے صدر اوباما کا لیکچر سنتے رہے اور کسی نے بھی یہ پوچھنے کی ہمت نہ کی کہ جو کچھ اسرائیل کر رہا ہے وہ کس طرح قابل برداشت ہو گیا۔

دوسری جانب اس دوران غزہ سے اسرائیل کے مختلف علاقوں میں فائر کیے گئے راکٹوں سے اب تک ایک اسرائیلی کے مارے جانے اور چند ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔اوباما نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کو اس کا حق قرار دیتے ہوئے کہا امریکا کا نصب العین اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے امن اور سلامتی ہے۔انہوں نے کہا فلسطینیوں کا جاں بحق اور زخمی ہونا ایک المیہ ہے۔ اسی وجہ سے ہم شہریوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں خواہ وہ کسی بھی شناخت کے حامل ہوں اور کہیں بھی رہتے ہوں۔صدر اوباما نے چند روز قبل مشرق وسطی میں جنگ بندی کرانے کی پیش کش بھی کی تھی۔عراق کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا'' ہم عراق میں ایک ایسی نئی حکومت کی تشکیل پر زور دیتے رہیں گے جو عراق کو متحد رکھ سکے اور عراق کے تمام طبقات کے جذبات کو سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھا سکے۔''

مزید : انسانی حقوق