شمالی وزیرستان میں آدم خور بازار کی موجودگی کا انکشاف

شمالی وزیرستان میں آدم خور بازار کی موجودگی کا انکشاف
شمالی وزیرستان میں آدم خور بازار کی موجودگی کا انکشاف

  

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے شمالی وزیرستان میں ”آدم خور بازار“ کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے ۔صوبائی دارلحکومت میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس بازار کی شہرت کی وجہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش ایک دن کیلئے بازار میں لٹکائے رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رنگ، نسل اور گروپوں سے بالاتر ہے اور دہشت گردی میں ملوث ہر شخص کو ٹارگٹ کیا جائے گا، فوج قوم کی توقعات پر پورا اترے گی اور آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ آپریشن کو نتیجہ خیز بنانا ہے تاہم اس دوران کم از کم جانی نقصان ہونا چاہئے ، سول سٹرکچرزد میں آئے نہ ہی سویلین ٹارگٹ بنیں جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ مولوی فضل اللہ اور خالد خراسانی افغانستان میں ہیں، افغان حکومت سے کہہ دیا کہ ان کے خلاف خود کارروائی کرے یا انہیں ہمارے حوالے کیا جائے، اچھے اور برے طالبان کی کوئی تفریق نہیں کی جارہی ہے ، ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے اور جو بھی دہشتگردی میں ملوث ہوگا اسے ماریں گے، پاکستان سے دہشتگردوں کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے، اس خام خیالی کو دل سے نکال دینا چاہیئے کہ علاقے سے بھاگنے والے دہشتگرد واپس آجا ئیں گے، اب شمالی وزیرستان دہشتگردوں سے پاک ہی رہے گا اور وہ عسکریت پسند جو ملک کے دیگر حصوں میں چھپے بیٹھے ہیں انہیں ٹارگٹ کرنے کیلئے دیگر حکومتی ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں، ہمیں دہشتگردی کے ناسور کو ملکر ختم کرنا ہوگا۔

مزید : دفاع وطن