سگریٹ نوشوں کو دھوکہ دینا آسان

سگریٹ نوشوں کو دھوکہ دینا آسان
سگریٹ نوشوں کو دھوکہ دینا آسان

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) سگریٹ نوش عام طور پر اپنے پسندیدہ برانڈ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور اکثر فخریہ طور پر ذکر کرتے ہیں کہ وہ صرف فلاں برانڈ ہی پیتے ہیں لیکن ایک جدید سائنسی تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ برانڈ کے اوصاف کے بارے میں سگریٹ نوشوں کی رائے صرف کمپنیوں کی تشہیری مہم کا نتیجہ ہوتی ہے اور اگر سگریٹ نوشوں کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ کون سا برانڈ پی رہے ہیں تو انہیں سارے سگریٹ ایک جیسے ہی لگتے ہیں۔ یونیورسٹی آف نیوکاسل نے اپنی تحقیق میں درجنوں عادی سگریٹ نوشوں کو شامل کیا۔ یہ تحقیق خصوصاً آسٹریلیا میں 2012ءمیں متعارف کروائے گئے خصوصی پیکٹ کے حوالے سے کی گئی تھی جس میں حکومت نے یہ پابندی لگادی تھی کہ مختلف برانڈ اپنی تشہیر پیکٹ پر نہ کریں بلکہ سب کمپنیاں ایک ہی قسم کا سارہ پیکٹ تیار کریں جس پر محکمہ صحت کی وارننگ اور بیماریوں سے متعلق تصاویر بھی ہوں۔ سگریٹ نوشوں نے بتایا کہ پیکٹ ایک جیسے ہونے کے بعد سارے سگریٹ بھی ایک جیسے لگنا شروع ہوگئے ہیں اور عمومی طور پر تمباکو کی کوالٹی کو پہلے سے گھٹیا قرار دیا گیا۔ آسٹریلیا میں اس پابندی کے بعد سگریٹ نوشی میں مجموعی طور پر کمی دیکھی گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دوسرے ممالک کیلئے بھی مثال بن سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس