جاسوسی سے بچنے کے لئے جرمنی کاٹائپ رائٹر استعمال کرنے پر غور

جاسوسی سے بچنے کے لئے جرمنی کاٹائپ رائٹر استعمال کرنے پر غور
جاسوسی سے بچنے کے لئے جرمنی کاٹائپ رائٹر استعمال کرنے پر غور

  

برلن (نیوز ڈیسک) امریکہ نے اپنے مخالف اور حامی ممالک کی یکساں جاسوسی کرتے ہوئے ساری دنیا کو پریشان کردیا ہے اور یورپی ملک جرمنی امریکی جاسوسی سے اس قدر تنگ آگیا ہے کہ یہاں جدید کمپیوٹروں اور انٹرنیٹ کو چھوڑ کر پرانے وقتوں کے ٹائپ رائٹر استعمال کرنے کے بارے میں غوروفکر شروع ہوگیا ہے۔ پچھلے سال جرمن سربراہ اینگلا مرکل کی فون کالز کی جاسوسی کا انکشاف ہوا تو اس سال جرمنی سے دو امریکی جاسوس پکڑے گئے۔ جرمن ایجنسیاں ایک عرصے سے امریکی جاسوسی کے شواہد اکٹھے کررہی ہیں اور متعدد بار امریکہ سے شکایت کی گئی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ حال ہی میں پکڑے جانے والے جاسوسوں کے معاملہ پر اظہار ناراضگی کیلئے جرمنی نے اپنے ملک میں کام کرنے والے سی آئی اے کے سٹیشن ہیڈ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا لیکن اس کے باوجود امریکی جاسوسی کارروائیوں میں کمی نہ دیکھ کر جرمن سیاستدانوں نے اس بات پر غور شروع کردیا ہے کہ اہم سرکاری و غیر سرکاری رابطوں اور معلومات کے تبادلے کیلئے ٹائپ رائٹر کو استعمال کیا جائے۔ امریکی ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) کی جاسوسی سرگرمیوں کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ جرمن سیاستدان پیٹرک سینسبرگ کا کہنا ہے کہ امریکہ انٹرنیٹ اور کمپیوٹروں کی مسلسل جاسوسی کررہا ہے اس لئے ٹائپ رائٹروں کا استعمال زیادہ محفوظ ثابت ہوگا۔ اس سے پہلے روس بھی امریکی جاسوسی کے ڈر سے ٹائپ رائٹروں کا استعمال شروع کرچکا ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس