وہ دوست جو آپس میں رشتہ دار نہیں ہوتے ان کا بھی DNA ملتا جلتا ہوتا ہے

وہ دوست جو آپس میں رشتہ دار نہیں ہوتے ان کا بھی DNA ملتا جلتا ہوتا ہے

نیویارک (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوستوں کی پسند ناپسند اور مشاغل ہی ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ ان کا DNA بھی اسی طرح ملتا جلتا ہوتا ہے جیسے ایک خاندان کے افراد کا اور اس بنیاد پر سائنس یہ بتاسکتی ہے کہ کن دو افراد کی دوستی کا زیادہ امکان ہے یا کون سے دو افراد ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے۔ ییل یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک تازہ تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ وہ دوست جو آپس میں رشتہ دار نہیں ہوتے ان کا بھی DNA ایک مفید ملتا جلتا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک عام آدمی کیلئے ایک فیصد اہم نہیں ہو سکتا لیکن سائنسدانوں کی نظر میں یہ بہت اہم ہے کیونکہ ہمارے دور کے رشتہ داروں کا DNA بھی ہم سے تقریباً ایک فیصد مماثلت رکھتا ہے یعنی ہمارے دوست جینیاتی لحاظ سے ہمارے رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔ تحقیق کاروں نے بتایا کہ اس دریافت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ DNA ٹیسٹ کرکے یہ بتایا جاسکتا ہے کہ کون سے لوگ ایک دوسرے کے دوست بن سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے دوستوں کے ملتے جلتے DNA کو ”فنکشنل کنشپ“ کا نام دیا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ہمارا حیاتیاتی ارتقاءہوسکتا ہے۔ ارتقائی لحاظ سے انسان کیلئے یہ بات فائدہ مند تھی کہ وہ ملتی جلتی عادات کے انسانوں سے قریبی رابطہ رکھے اور چونکہ ہمارے رویے بڑی حد تک ہمارے DNA پر منحصر ہوتے ہیں اسی لئے دوست وہی بنتے ہیں جن کا DNA ہمارے ساتھ مماثلت رکھتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر