انسانی سمگلنگ کے ملزم کی اہلیہ کی ہائی کورٹ میں خودسوزی کی دھمکی ،پولیس نے پکڑ کر باہر نکال دیا

انسانی سمگلنگ کے ملزم کی اہلیہ کی ہائی کورٹ میں خودسوزی کی دھمکی ،پولیس نے ...
انسانی سمگلنگ کے ملزم کی اہلیہ کی ہائی کورٹ میں خودسوزی کی دھمکی ،پولیس نے پکڑ کر باہر نکال دیا

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) انسانی سمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور نہ ہونے پر ملزم کی بیوی کی بچوں سمیت احاطہ عدالت میں خود سوزی کی کوشش عدالتی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے ناکام بنا دی، اگر انصاف نہ ملا تو خود سوزی کر لوں گی ، خاتون نورین کی احاطہ عدالت میں دہائیاں، لاہور ہائیکورٹ کی مسز جسٹس ارم سجاد گل نے انسانی سمگلنگ کے مقدمہ میں ملوث ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، درخواست گزار ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے ملزموں ملک سلیم اور ملک زاہد کو انسانی سمگلنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر رکھا ہے جبکہ ایف آئی اے کے پاس ملزموں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود نہیں اس کے باوجود گزشتہ 3ماہ سے ملزموں کو جیل میں قید رکھا گیا ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے جس شخص کو باہر بھجوانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ ترکی میں موجود ہے اور روزگار کما رہا ہے اوراپنے گھر والوں کو آمدن کی رقم بھی بھجوا رہا ہے جبکہ کے ایف آئی اے نے جھوٹے بیان پر بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے ،ملزم ملک سلیم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست ضمانت کی ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے درخواست کی سماعت ملتوی کی تو ملزم کی اہلیہ نورین بی بی نے بچوں سمیت احاطہ عدالت میں آہ و زاری شروع کر دی۔ نورین بی بی نے ہاتھ میں مٹی کا تیل اٹھاتے ہوئے بچوں سمیت خودسوزی کی دھمکی دی جس پر وہا ں موجود لوگوں نے اسے کوئی بھی انتہائی اقدام کرنے سے روکا بعد ازاں ہائی کورٹ سکیورٹی نے خاتون اور بچوں کوحراست میں لے احاطہ عدالت سے باہر لے گئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ سکیورٹی سے تفصیلات طلب کر لیں۔

مزید :

لاہور -