جسمانی اور روحانی صحت کے تقاضے

جسمانی اور روحانی صحت کے تقاضے
جسمانی اور روحانی صحت کے تقاضے

  

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ شفاء دینا اللہ تبارک و تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہ اس حوالے سے کسی کا محتاج نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی خدائے بزرگ و برتر نے بیماری کے خاتمے کے لئے علاج کرانے کی تلقین بھی کی ہے حضورنبی اکرمؐ کے پاس ایک صحابی آئے جن کے سینے میں سخت تکلیف ہو رہی تھی آقاؐ کو نور نبوت سے معلوم ہوگیا کہ ان صحابی کو دل کی تکلیف لاحق ہے آپؐ نے اپنا دست مبارک ان کے سینے پر رکھا تو ان صحابی کی تکلیف ختم ہوگئی، لیکن آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اسے فلاں طبیب کے پاس لے جائیں اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کے اذن سے یہ بھی فرمایا کہ وہ طبیب ان کو عجوہ کھجور گٹھلی سمیت کھلائے گا اور ان کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس روایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات قادر مطلق ہے پوری کائنات اس کے ایک حکم سے زیرو زبر ہو سکتی ہے۔ وہ وسائل و ذرائع کا ہرگز محتاج نہیں، لیکن ان تمام حقائق کے باوجود اسی ذات برحق نے ہمیں وسائل کے استعمال کا حکم بھی دیا ہے ہمیں بتایا گیا کہ بیماری کے خاتمے کے لئے دعا کے ساتھ دوا بھی بے حد ضروری ہے، لیکن ضروری ہے کہ طبیب محض پیشہ ور ڈاکٹر ہی نہ ہو، بلکہ وہ صحیح معنوں میں طبیب حاذق ہو اپنے شعبے کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں انسان دوستی مخلوق خدا سے محبت ، رحم دلی جیسے اوصاف حمیدہ بھی موجود ہوں۔

لیکن ہمارے معاشرے میں چونکہ دوسرے تمام شعبوں کی طرح طب کے شعبے میں بھی قحط الرجال کی سی کیفیت پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ایک عام پاکستانی کی اوسط عمر ترقی یافتہ ممالک کے باشندوں سے بہت کم ہے۔ اسی صورت حال کے پیشِ نظرہمارے نامور ایٹمی سائنسدان (ستارہ امتیاز) دانشور سکالر ڈاکٹر سلطان بشیر محمود نے ’’اسلام کا ہمہ گیر نظام صحت اور فطری طریقہ علاج‘‘ کے عنوان سے ایک ایسی کتاب تحریر کی ہے جو عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ علاج کے عمل کے تمام تر گوشوں کو آشکار کرتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اگرچہ روایتی میڈیکل کی تعلیم سے آراستہ تو نہیں ہیں، مگر جس قدر عرق ریزی سے انہوں نے مکمل تحقیق کے بعد یہ کتاب تصنیف فرمائی ہے اس پر کئی نامور ڈاکٹر حضرات بھی اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے اسے طب کے شعبے میں عظیم کارنامہ قرار دے چکے ہیں ڈاکٹر سلطان صاحب نے بڑے مدلل طریقے سے اپنے قاری کو سمجھایا ہے کہ ایلوپیتھی دواؤں کے استعمال سے جہاں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے وہیں یہ ادویات بعض اوقات مرض کو جڑ سے اکھاڑنے کی بجائے اس کو جسم کے اندر ہی دبانے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔اپنی اس تصنیف میں ڈاکٹر صاحب نے انسانی جسم کی قوت مدافعت کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اس کو اس ضمن میں کافی مفید نسخہ جات بھی تجویز کئے ہیں اس حوالے سے انہوں نے اپنے ایک ہمدم دیرینہ میجر (ر) امیر افضل خان صاحب کا بھی حوالہ دیا ہے جو ماشاء اللہ 92 بانوے برس کے ہونے کے باوجود چاک و چوبند زندگی بسر کر رہے ہیں، بلکہ حیران کن امر یہ کہ رمضان مبارک کے روزے بھی رکھ رہے ہیں۔

ڈاکٹرصاحب نے اپنی اس کتاب میں محض مختلف بیماریوں کے علاج پر ہی زور نہیں دیا، بلکہ اچھی صحت کے لئے کچھ ایسے بنیادی اصول بھی اپنے قاری کو بتا دیئے ہیں جو آفاقی نوعیت کے لئے اور جن کا جاننا ہر صحت مند آدمی معاشرے اور فرد کے لئے ازحد ضروری ہے خصوصاً ڈاکٹر صاحب نے دلائل کی قوت سے یہ ثابت کیا ہے کہ حرام سے کمائے گئے مال سے خریدی گئی حلال اشیاء میں بھی صحت کے لئے نقصان دہ عنصر شامل ہو جاتے ہیں، لہٰذا ہمیں ہر حال میں لقمہ حرام سے بچنا چاہئے تاکہ ہم ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔ یہاں محترمہ آپا بانو قدسیہ یاد آرہی ہیں، جو اپنے معرکتہ الاراء ناول راجہ گدھ میں تحریر کرتی ہیں کہ ’’حرام سے خریدی گئی غذا کھانے سے انسانی جسم میں ایسے جینز پیدا ہوجاتے ہیں جو اپنی اساس میں بیمار اور کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اپاہج نسلیں پیدا ہوتی ہیں‘‘ اوریہ ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ مال حرام کھانے سے انسانی ذہنی آسودگی ہرگز حاصل نہیں کر پاتا، جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ذہنی اور جسمانی صحت کی خرابی کی صورت میں ہی نکلے گا۔

مختلف غذاؤں کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے وہ خوبصورت حدیث بھی نقل کی ہے کہ ’’انسان جو کچھ کھاتا ہے اس کے اثرات اس کے جسم اور ا س کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔‘‘ اگر ہم مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں غذاؤں کے حوالے سے احتیاط برتیں تو ہم بہت ساری بیماریوں اور شخصی کمزوریوں سے بچ سکتے ہیں خصوصاً آج کل رمضان کے مہینے میں ہم لوگ افطاری اور سحری کے اوقات میں اس قدر روایتی بسیار خوری کا مظاہرہ نہ کریں تو ہم روحانی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی صحت کو بھی قابل رشک بناسکتے ہیں، ہم لوگ بچپن سے کھانے پینے کی عادات کے حوالے سے مختلف ہدایات اپنے بڑوں سے سنتے رہے ہیں۔ مثلاً کھانے میں پھونک نہ ماری جائے، بہت گرم کھانا نہ کھایا جائے، کھڑے ہو کر نہ کھایا پیا جائے، عجلت میں کھانے سے گریز کیا جائے بھوک رکھ کر کھاناوغیرہ، اورہم انہیں محض مذہبی یا تہذیبی احکامات ہی سمجھتے رہے ہیں، لیکن ڈاکٹر بشیرسطان صاحب نے اپنی تصنیف میں ان احکامات کی حقانیت پر سائنسی نقطہ نظر سے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس طرح مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لئے لاتعداد نسخہ جات تجویز کیے گئے ہیں۔ جڑی بوٹیوں، پھلوں سبزیوں کے ذریعے علاج پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی مقدس آیات کے ذریعے مختلف بیماریوں خصوصاََ کینسر جیسے موذی امراض کے علاج پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب بیماریوں سے نجات اور صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ایک ’’ روحانی و طبی فارما کو پیا‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’اسلام کا ہمہ گیر نظام صحت اور فطری طریقہ علاج ‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جس میں درج طبی و روحانی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہم بے شمار جسمانی و روحانی عوارض سے محفوظ رہ سکتے ہیں خصوصاً رمضان کے بابرکت مہینے میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہم رمضان المبارک کے ثمرات سے حقیقی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -