دہشت گردی کے زخم تازہ

دہشت گردی کے زخم تازہ
دہشت گردی کے زخم تازہ

  

پاک فوج کی یونٹ کو لے کر ایک ریل گاڑی پنو عاقل صوبہ سندھ سے کھاریاں کینٹ صوبہ پنجاب جا رہی تھی، اس ریل کو گوجرانوالہ ضلع میں نہر کے پل پر حادثہ پیش آیا، ریل کی بوگیاں نہر میں گر گئیں جس سے بہت سا جانی نقصان ہوا ،مَیں اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو نہیں روک سکا جب ایک خاندان خاوند بیوی 2 بچے بیٹی بیٹا کی تصویریں اخبار میں شائع ہوئیں۔ ریلوے حکام اور دوسرے لوگ بتا رہے ہیں کہ چند گھنٹے پہلے اس پل سے گزر کر ایک ریل گاڑی گئی تھی تو پھر لا محالہ اس حادثے کو دہشت گردی کے واقعات کی طرز پر سوچا جا سکتا ہے، ملک میں پاک آرمی میں بڑے بڑے اچھے لوگ صحیح تحقیقات کر سکتے ہیں، پاک آرمی کی اپنی تحقیقاتی ایجنسیاں ہیں، وہ ہر صورت میں اس المناک اور افسوس ناک واقعہ کی صحیح انکوائری کریں گی۔ یہ خالصتاً پاک آرمی سے منسلک حادثہ ہے، ہر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی پر پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیتی ہے۔

مئی کے مہینے میں بلوچستان کے علاقے مستونگ کے قریب ایک درجن سے زائد دہشت گردوں نے کراچی جانے والی 2 فلائنگ کوچوں کو روک کر تقریباً 20 مسافروں کو خاک و خون میں نہلا دیا اور تقریباً تیس مسافروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ پہاڑوں پر لے گئے۔ ان دہشت گردوں نے مسافروں کو قتل کرنے سے پہلے ان کی قومیت کی شناخت کی، پھر ان کو گولیوں سے بھون دیا۔ قتل کئے جانے والوں میں اکثریت کا تعلق پختونوں سے تھا جو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ قتل کرنے کا مقصد بلوچوں اور پختونوں کے درمیان لسانی بنیادوں پر فساد کروانا تھا ۔ بلوچستان کی حکومت کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں بڑی وضاحت سے کہا کہ یہ بھیانک کارروائی بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے کرائی ہے جو عرصہ دراز سے پاکستان میں کر رہی ہے۔ ہمارے پاس اس کے شواہد موجود ہیں، جب سے انتہا پسند سوچ کا حامل نریندر مودی اقتدار میں آیا ہے ’’را‘‘ کی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان آرمی کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تو عام پاکستانی بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

پاکستان کے شکوک و شبہات کو ہندوستانی وزیراعظم کے بیان نے حقیقت میں بدل دیا کہ مَیں خود پاکستان کو توڑنے میں مکتی باہنی کے ساتھ ساتھ شامل تھا ہندوستانی وزیراعظم کے بیان کے بعد پاکستان میں بسنے والا کون سا پاکستانی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ ہندوستان پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ نہیں ڈال رہا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت میں ہندوستان اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، اس کی گواہی بھی اخباروں میں شائع ہو چکی ہے۔ مستونگ کے واقعہ سے پہلے کراچی میں صفورہ گوٹھ کے مقام پر دہشت گردوں نے آغا خان کمیونٹی کے افراد کو دہشت گردی کر کے مار دیا۔ اس بس میں سوار افراد کے ساتھ خواتین بھی شامل تھیں۔ شنید ہے کہ سندھ پولیس نے چند دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد کے حوالے سے سندھ پولیس نے کہا تھا کہ اس واقعہ میں بھی ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے، جو گزشتہ کئی سال سے کراچی اور ملک کے دوسرے حصوں میں سرگرم ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ کراچی میں بعض سیاسی جماعتوں کو بھی ’’را‘‘ کی حمایت حاصل ہے، یہی لوگ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک گھناؤنی سازش ہے اس میں اگر پاکستان میں رہنے والے لوگ ’’را‘‘کے آلہ کار نہ بنیں تو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات نہیں ہو سکتے۔

پاکستان کے ذمہ دار لوگوں اور قانون پر عمل درآمد کروانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ ’’را‘‘کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ اس کے حمایت یافتہ لوگوں کو بھی کٹہرے میں لائیں۔ پاکستان میں کبھی مذہب کے نام پر دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں کبھی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے دہشت گردی کے واقعات کروائے جاتے ہیں۔ ’’را‘‘کے یہ ایجنٹ بلوچستان میں دیگر لسانی و ثقافتی اکائیوں کو اپنی دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں، خصوصیت کے ساتھ ہزارہ، شیعہ کمیونٹی کو تاکہ ایران کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی تعلقات کو خراب کیا جا سکے۔ ’’را‘‘کی بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی مذموم کارروائیوں سے جہاں پاکستان کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے، وہیں پاکستان کو تیزی کے ساتھ عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ان معروضی حالات کے پیش نظر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو یہ سوچنا چاہئے کہ ’’را‘‘کی جانب سے پاکستان کے اندر کی جانے والی کھلی دہشت گردی کو کس طرح روکا جا سکتا ہے کہ پانی اب سر سے اُونچا ہوتا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت کا قومی ایکشن پلان بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہا، حالانکہ عسکری قیادت اپنی پوری توانائی، تندہی اور وسائل کے ساتھ ان غیر ریاستی عناصر کا صفایا کرنے کا عزم کر چکی ہے اور کر بھی رہی ہے۔ یہ اپنے سپاہیوں اور افسران کی قربانیاں بھی پیش کر رہی ہے، لیکن پاکستان کی بعض سیاسی پارٹیوں کا وتیرہ پاکستان کے باشعور طبقے کی سوچ میں سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی پارٹیاں دہشت گردی کے خلاف کیوں اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر رہیں۔سیاست دانوں کی طرف سے اخبارات میں شائع ہونے والے مذمتی بیانات سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں کمی نہیں ہو سکتی، اور اس کی کوئی خاص اہمیت بھی نہیں ہے۔ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان میں چند سیاسی مہرے ہندوستان سے احترام کا رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان کے اندرونی حالات جو کسی نہ کسی وجہ سے خوشگوار نہیں ہیں اور ہندوستان کا وزیراعظم بھی انتہا پسندی کی سوچ کا مالک ہے، خدانخواستہ دونوں ملکوں میں جنگ کی صورت حال پیدا نہ ہو جائے۔ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی سوچ کو کچھ بڑی طاقتیں سپورٹ کرتی ہیں، جبکہ ہندوستان، افغانستان میں ہر طرح سے اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکا ہے اور یہ اثر و رسوخ بلوچستان میں دخل اندازی کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان آرمی شمالی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف نبردآزما ہے، جس میں پاکستانی فوج کو کامیابیاں ہو رہی ہیں۔ملک کے دیگر حصوں میں بھی فوج مصروف ہے۔ کراچی میں قتل و غارت، لوٹ مار، بھتہ خوری میں فوجی جوانوں اور رینجرز کی وجہ سے کسی حد تک کمی ہوئی ہے اور پاکستانی عوام بھرپور طریقے سے پاک فوج کی حمایت کرتے ہیں۔

حکومت ابھی تک قومی اسمبلی میں ’’را‘‘ کے خلاف متفقہ قرارداد پیش نہیں کر سکی اور نہ ہی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف ’’را‘‘کی مذمت کر سکی ہے، حالانکہ ہندوستان ہر وقت، ہر سطح پر پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف زہر اُگلتا رہتا ہے امریکہ پاکستان کے خلاف ’’را‘‘کی دہشت گردی کی کارروائیوں پر کیوں خاموش ہے؟ یہ بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے، جبکہ امریکہ اپنی دوستی کا بڑا چرچاکرتا ہے۔ اب اگر پاکستان اپنی ترقی اور خوشحالی کے لئے چین کی طرف جھکا ہے تو اس سے ہندوستان اور امریکہ پریشان ہیں۔ امریکہ پاکستان کو قرضوں میں جکڑ کر پھنسانا چاہتا ہے۔

مزید :

کالم -