ایم کیو ایم کی مشکلات بڑھ گئیں۔۔۔!

ایم کیو ایم کی مشکلات بڑھ گئیں۔۔۔!
 ایم کیو ایم کی مشکلات بڑھ گئیں۔۔۔!

  

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

یہ ایک غزل کے بول ہیں جسے مہدی حسن نے گایا اور اپنی آواز کا ایسا جادو جگایا کہ یہ غزل اور اس کے بول زبانِ زدِ عام ہو گئے۔ اگرچہ یہ برسوں پرانی بات ہے، لیکن ایسا لگتا ہے، جیسے یہ غزل آج کے لئے لکھی گئی تھی اور اس کے بول آج کے حالات کے تناظر میں نہ صرف پورا اترتے ہیں، بلکہ اُس کی مکمل عکاسی اور غمازی کرتے ہیں۔ مَیں نے اپنے گزشتہ کالم ’’رینجرز، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ۔۔۔معاملہ کہاں رُکے گا‘‘۔۔۔ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور اس نکتے پر کسی حد تک روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ ایم کیو ایم کے بعد پیپلز پارٹی نے رینجرز کے خلاف جو بیان بازی اور محاذ آرائی شروع کی ہے، اُس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ رینجرز فوج کا حصہ اور اُس کا ذیلی ادار ہ ہے۔ جسے کراچی میں موجود دو بڑی سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے مطالبے یا ایماء پر دہشت گردوں ، انتہا پسندوں ، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد یا مجرموں کی سرکوبی اور اُن کے خاتمے کا ٹاسک سونپا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف خود کراچی آئے اور سندھ حکومت سے مشاورت کے بعد کراچی میں ایک گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا،جس کے مثبت نتائج بھی چند ہی ہفتوں میں سامنے آنا شروع ہو گئے، مگرا س آپریشن سے ایم کیو ایم زیادہ ناراض، پریشان اور نالاں نظر آئی۔ اُس کا مؤقف ہے کہ صرف انہیں ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے رابطہ کمیٹی نے کئی بار کراچی میں میڈیا سے گفتگو کا اہتمام کیا، جبکہ الطاف حسین بھی لندن سے معمول کے مطابق ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے گرجتے برستے رہے۔

12جولائی کو توا نہوں نے حد کر دی۔ وہ قانون اور اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر گئے جو ایک سیاسی جماعت کے قائد کی حیثیت سے ان کے لئے انتہائی نامناسب ہے۔ وہ اپنی تقریر میں رینجرز اور اس کے سربراہ، یعنی ڈی جی رینجرز کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتے رہے۔ ایسے کلمات کہے، جس پر وزیر داخلہ چودھری نثار کو بھی اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ انہوں نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اُن کی تقریر نہایت قابل اعتراض ہے۔ الطاف حسین نے جس طرح فوج اور رینجرز پر رکیک حملے کئے، اُس کا نوٹس لیا جائے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے برطانوی حکومت سے بھی بات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چودھری نثار نے کہا کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر جس قسم کی اشتعال انگیز اور قابل اعتراض تقریریں کرتے ہیں، اُس کا برطانوی حکومت کو نوٹس لینا چاہئے۔ چودھری نثار نے یہ بھی کہا کہ وہ باضابطہ طور پر اس سلسلے میں رابطہ کر رہے ہیں اور یہ ایک حکومت کا دوسری حکومت سے رابطہ ہو گا۔ چودھری نثار نے اس موقع پر الطاف حسین کے بارے میں یہ سخت جملہ بھی کہا کہ ’’وہ اپنے کرتوتوں سے باز رہیں‘‘۔

اس لفظ کو لے کر ایم کیو ایم کے مقامی رہنما بہت بپھرے اور بھڑکے ہوئے ہیں اور بہت کچھ بول کر دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ وہ اب الطاف حسین کی صفائی میں کچھ بھی کہیں، بات بہت آگے نکل چکی ہے اور اب تک اس قابل اعتراض بیان کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں مختلف شہریوں کی جانب سے 153اے کے تحت پانچ مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں۔ مُلک کے دوسرے حصوں میں بھی بہت سے مقدمات درج ہو چکے ہیں اور مزید درج ہو رہے ہیں۔ جب مَیں ایک نجی ٹی وی چینل پر الطاف حسین کے خلاف ان مقدمات کے حوالے سے خبریں سُن رہا تھا تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ بات قانون کی ہے اور بات ٹھیک بھی ہے۔ اگر کوئی جُرم سرزد ہونا پایا جائے تو اُس سے متعلق مقدمے کا اندراج بھی ضرور ہونا چاہئے،لیکن ایک سوال میرے ذہن میں ضرور پیدا ہو رہا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات تو درج کر لئے گئے ہیں، جن میں وہ نامزد ملزم ٹھہرائے گئے ہیں، لیکن انہیں گرفتار کون کرے گا؟کیا کراچی پولیس میں اتنی طاقت، ہمت، جرأت اور اہلیت موجود ہے کہ وہ الطاف حسین کی گرفتاری کے لئے اقدامات کرے، یا اُن کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کے ذریعے مناسب اور ضروری کارروائی عمل میں لائے؟ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ ایف آئی آر رجسٹر میں ہی مقید رہیں گی اور کچھ بھی نہیں ہو گا۔

الطاف حسین کے اس 12جولائی کے بیان کے بعد ایک بار پھر ایم کیو ایم کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نجانے الطاف حسین کو کیا سوجھتی ہے کہ وہ مہینے میں ایک آدھ بار کچھ اس قسم کا بیان دے دیتے ہیں کہ وہ ملکی وحدت اور مُلک کا دفاع کرنے والی فورسز کے خلاف ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں وہ ’’را‘‘ کے حوالے سے خبروں کا موضوع رہے۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایم کیو ایم کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی رہی ہے۔ یہ خبریں تمام پاکستانی میڈیا میں آئیں۔ حکومت پاکستان نے اس حوالے سے برطانوی حکومت کو ایک خط بھی لکھا، جس میں بی بی سی کی اس مبینہ رپورٹ پر خبر کے ذرائع تک رسائی کی بھی بات کی گئی، لیکن ابھی تک برطانیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ الطاف حسین کو نجانے کیا ہو گیاہے کہ وہ جو بھی بیان دیتے ہیں، متنازع بن جاتا ہے اور اُن کے ساتھیوں کو اس سلسلے میں صفائیاں دینا پڑتی ہیں۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ الطاف حسین کو ایسے بیانات کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے ؟ وہ اگر خود کو ایک سیاسی جماعت کا سربراہ اور قومی لیڈر تصور کرتے ہیں تو انہیں معاملہ فہم ہو نا چاہئے اور ہر بات بہت ہی سوچ سمجھ اور ناپ تول کر کرنی چاہئے۔

اب تک کی صورت حال کے مطابق الطاف حسین کئی طرح کے قانونی معاملات میں بُری طرح اُلجھ چکے ہیں،وہ متنازع بیان دے کر اپنے لئے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور آنے والے دن، ہفتے اور مہینے اُن کے لئے کوئی اچھی خبر لے کر نہیں آ رہے۔ منی لانڈرنگ کیس ہو یا ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی بات، بھارت سے فنڈنگ اور اب رینجرز کے خلاف بیان اُن کے گلے پڑنے والا ہے۔ مسائل اور مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

مزید :

کالم -