سعودی عرب میں ایک پاکستانی کو سنگین سزا

سعودی عرب میں ایک پاکستانی کو سنگین سزا
سعودی عرب میں ایک پاکستانی کو سنگین سزا

  

افصح العرب و العجم، مخبر صادق محسن انسانیتﷺ نے ایک حدیث شریف میں ارشاد فرمایا ہے کہ انسان جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو جسم کا ایک ایک جوڑ، ایک ایک انگ زبان کے شر اور غلط استعمال و بدگوئی سے پناہ مانگتا ہے، کیونکہ وہ تو بدگوئی اور بدکلامی کے بعد دانتوں کے حصار میں پناہ گزین ہو جاتی ہے، مگر اس کا خمیازہ جسم کے اعضاء کو بھگتنا پڑتا ہے، اس لئے سیدنا آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ:’’اپنی زبان سے اچھی بات نکالو ورنہ خاموش رہو‘‘۔۔۔ علاوہ ازیں امیر المومنین حضرت علیؓ کا ایک شعر ہے:

جَرَاحۃ السنانِ لھا التیام

وَلا یکتام مَا جَرحَ اللسَان

تلوار کا زخم تو مٹ جاتا ہے، مگر زبان کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا، ان ارشادات گرامی اور نصیحت آموز فرمودات کی روشنی میں اس افسوسناک خبر کا جائزہ لیں، جس کے مطابق ایک پاکستانی لیڈر اور بزعم خویش مذہبی رہنما زید حامد نے سعودی حکمرانوں کو ہدف تنقید وتنقیص بناتے ہوئے ایسی خلاف واقعہ باتیں کہی ہیں، جس کی پاداش میں اسے وہاں کی شرعی عدالت کے قاضی نے دس ہزار کوڑوں اور آٹھ سال کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ اس سلسلے کی خبر میں زید حامد کی تقریر اور سعودی حکومت پر تنقید کے الفاظ نہیں بتائے گئے ہیں، اس کے تنقیدی الفاظ سے کوئی سروکار نہیں۔ ہمیں تو زید حامد کے طرزعمل پر سخت اعتراض ہے کہ اسے پاکستان سے باہر کسی بھی ملک میں جا کر وہاں کے نظام حکومت اور وہاں کے حکمرانوں کو ہدفِ تنقید ہر گزنہیں بنانا چاہیے تھا۔

بیرون ملک خصوصاً سعودی عرب کے سفر پر بغرضِ حج و عمرہ بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول اللہ و مسجد نبویؐ روانہ ہونے والوں کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے ہمیشہ یہ تاکید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اس سفر مقدس میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، وہاں پر پاکستان کا نام روشن کرنے کے اقدامات کریں اور اپنے ملک اور ملت کو بدنامی کے ناگفتنی طرزِ عمل سے اجتناب کی کوشش کریں، تاکہ ملک کا وقار اور قوم کی عزت مجروح نہ ہو، حج و عمرہ کی سعادت کا مقصد اور فلسفہ یہی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اخوت و یگانگت کی فضا پیدا ہو اور دنیائے اسلام کے لوگوں کے مابین اخوتِ اسلامی کا رشتہ مضبوط ہو اور ان کے درمیان معاشرتی، اقتصادی اور تہذیبی تعلقات استوار ہوں، لیکن اگر خدانخواستہ بیرونی ممالک سے کچھ لوگ حج و عمرہ کے مقدس عنوان سے سفر کرکے وہاں کے عوام اور سعودی حکمرانوں کوہدف تنقید بنانے کا طرزِ عمل اختیار کرلیں تو سرزمین مقدس کی عظمت اور اس کا تقدس کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ جیسا کہ زید حامد نے طرزِ عمل اختیار کرکے نہ صرف پاکستان، بلکہ پوری دنیائے اسلام کو رسوائی اور اہانت سے شرمسار کر دیا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زید حامد کا طرزعمل پاکستان خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا میں ہمیشہ ناگفتنی، جذبات خیز اور منافرت انگیز رہا ہے، یہاں کا کوئی معقول باشندہ اور کوئی بھی دینی موثر جماعت اس کی حامی اور موید ہر گز نہ تھی، اس کی بابت حکومت پاکستان خصوصاً وزارت مذہبی امور اور وزارت خارجہ کو اس کے توہین آمیز اور طرزعمل سے بریت کا اظہار کرنا چاہیے۔

یہاں پر ایک اہم واقعے کا تذکرہ برمحل معلوم ہوتا ہے کہ 1972ء میں شاہ فیصل شہید کی دعوت پر پاکستان کے سات صحافیوں کا ایک وفد حج کے ایام میں سعودی عرب روانہ ہوا تھا، جس میں مولوی محمد سعید ایڈیٹر پاکستان ٹائمز، ضیاء الاسلام انصاری ایڈیٹر مشرق، شورش ملک نمائندہ جنگ، حفیظ الرحمن اے پی پی، سید قمرالزمان شاہ ایڈیٹر ہلال پاکستان، مصطفیٰ صادق ایڈیٹر وفاق اور راقم الحروف خدام الدین کے ایڈیٹر کی حیثیت سے شامل وفد تھے۔حج کی سعادت کے بعد ہم مدینہ منورہ کے فندق الزھراء میں مقیم تھے کہ نماز فجر اور اشراق کے نوافل ادا کرکے ہم مسجد نبویؐ کے باب عمر بن خطابؓ کے سامنے واقع ہوٹل فندق الزھرا میں پہنچے ہی تھے کہ ایک قد آور، خوبصورت اور باوقار شخصیت جناب آیت اللہ خمینی صاحب اپنے رفقاء کے جلو میں تشریف لائے۔ جناب خمینی صاحب تو صوفے پر تشریف فرما ہو گئے۔ اراکین وفد نہایت و احترام کے ساتھ ایستادہ تھے، خمینی صاحب ان دنوں شاہِ ایران کے خلاف مختلف ممالک میں زبردست مہم چلا رہے تھے۔ انہوں نے پاکستانی صحافیوں سے مخاطب ہو کر پہلے تو دریافت کیا۔۔۔ اَتیکم یتکلم بالعربی‘‘۔۔۔ (تم میں سے عربی زبان میں کون گفتگو کر سکتا ہے؟

مولوی محمد سعید نے میری جانب اشارہ کیا میں نے نہایت ادب سے ان کی خدمت میں ’’اھلاً و سھلاً ‘‘ کہہ کر خوش آمدید کہا، پھر انہوں نے مختصراً اپنا مقصد آمد بیان کرکے ہمیں اپنے ہاں چائے نوشی کی دعوت دی۔ مَیں نے اپنے ساتھیوں سے پنجابی زبان میں مشورہ کرکے ان کی دعوت چائے کی بابت عرض کیا۔ کہ اس سرزمین مقدس میں ہم اور آپ دونوں حکومت سعودیہ کے خصوصی مہمان ’’ضیوف المملکہ‘‘ ہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ سعودی حکومت سے اس دعوت کی منظوری حاصل کریں تو ہم ان کی اجازت اور حسب ہدایت حاضر ہو سکیں گے، ورنہ بہتر یہ ہے کہ آپ پاکستان میں تشریف لائیں وہاں ہم خود مختار اور آزاد ہوں گے، ہم آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے خوش آمدید کہیں گے، یہ سنتے ہی جناب خمینی صاحب اپنے رفقاء کے ساتھ اپنی قیام گاہ کو روانہ ہو گئے۔یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک میں جا کر سوچ سمجھ کر اور بیدار رہ کر وقت گزارنا چاہیے اور وہاں کی حکومت اور اس کے نظام کار پر تنقید کرنی ہو تو واپس اپنے ملک میں آکر دل کی بھڑاس نکالنی چاہیے اور ہمہ وقت سفارتی آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔

سیدنا رسول ﷺ کا مکتوب اقدس جب شاہ ایران خسرو پرویز نے دو ٹکڑے کرکے آپؐ کی خدمت میں ایک قاصد کی وساطت سے واپس کر دیا تھا تو رسول کریم و حلیمﷺ نے فرمایا تھا کہ دنیا میں اگر قاصدوں کو قتل کرنے کا رواج ہوتا تو میں بھی تجھے قتل کرا دیتا، مگر یاد رکھوکہ شاہ ایران پرویز نے میرا مکتوب نہیں پھاڑا، بلکہ اس کا جسم اس کے بیٹے نے دو ٹکڑے کر دیا ہے، چنانچہ قاصد نے واپس آکر دیکھ لیا کہ شاہ ایران خسرو پرویز کی جگہ اس کا بیٹا بادشاہ بن گیا ہے۔بہر نوع مقصود یہ کہ ہر مسلمان کا یہ اسلامی فریضہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ سفارتی آداب پر نگاہ رکھے اور اشارۃً یا کنایتہً بھی ایسی گفتگو نہ کرے جو اپنے ملک اور اپنی قوم کی عظمت و وقار کے منافی ہو اور بعد میں اس پرپشیمانی اور ندامت کا اظہار کرنا پڑے۔

پشتو گانوں میں بھی اسلحہ؟

اے ایف پی کی خبر کے مطابق پاکستان میں تشدد، دہشت گردی، بم دھماکوں اور ڈرون حملوں کے الفاظ اس قدر عام ہو گئے ہیں کہ ان کا استعمال زندگی کے ہر شعبے میں کیا جانے لگا ہے،چنانچہ پشتو گانوں میں اسلحہ کے استعمال کے سلسلے میں 2014ء میں بنائی گئی فلم میں اداکارہ کئی مسلح افراد میں گانا گاتی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:مَیں گانا گاتی ہوں ،مَیں آنکھوں سے حملہ کرتی ہوں، میری آنکھیں ڈرون حملوں سے بھی زیادہ مہلک ہیں۔ ایک اور فلم میں گلوکار رحیم شاہ کے الفاظ یہ ہیں، آؤ میرے دل پر حملہ کرو اور ہر چیز تباہ کر دو، جواب میں خاتون کہتی ہے، مجھے دیکھو میرا دل ’’بم‘‘ جیسا ہے، علی ہذا القیاس اندازہ لگایئے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں فلموں کے ذریعے دہشت گردی اور تشدد کی تربیت کس طریقہ سے دی جا رہی ہے۔

حکومت پنجاب نے ان کتب، رسالوں اور پمفلٹوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جن میں لوگوں کو دہشت گردی، تشدد اور فرقہ وارانہ نفرت پیدا کی جا رہی ہو، حکومت پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کو پورے ملک میں ایسی فلموں، گانوں وغیرہ پر پابندی عائد کر دینی چاہیے، جن میں لوگوں کے جذبات تشدد، نفرت اور دہشت گردی کی جانب ابھارنے کی تربیت اور ترغیب دی جاتی ہو۔ہم جس طرح لوگوں کو متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے زبردست اشتہاری مہموں پر بے دریغ سرکاری خزانہ استعمال کیا کرتے ہیں۔ کیا معاشرے کو اخلاق باختگی اور درندگی سے بچانے کے لئے کوئی مہم بروئے کار نہیں آ سکتی؟ کھیتی کو سیلاب سے بچانے کے لئے اگر پیشگی انتظام کر لیا جائے تو سیلاب کی تباہی سے بچنا ممکن ہے، مگر سیلاب کی تباہ کاریوں کے درمیان بند باندھنے کی سرگرمی کا مظاہرہ ماسوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ نہیں حاصل ہو سکتا۔

مزید :

کالم -