مقبوضہ کشمیر کے عسکریت پسند نوجوانوں کے لیے بھارتی حکومت کی خود سپردگی اور بحالی پالیسی ناکام ہوگئی

مقبوضہ کشمیر کے عسکریت پسند نوجوانوں کے لیے بھارتی حکومت کی خود سپردگی اور ...

  

سری نگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر کے عسکریت پسند نوجوانوں کے لیے بھارتی حکومت کی خود سپردگی اور بحالی پالیسی ناکام ہوگئی ہے ۔ پالیسی کے تحت آزاد کشمیر سے صرف 453افراد اپنے بال بچوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر واپس چلے گئے ان کی مشکلات کو دیکھ کر آزاد کشمیر میں مقیم دیگر ہزاروں لوگوں نے گھر واپسی کا ارادہ ترک کرلیا ہے ۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر سے باز آباد کاری پالیسی کے تحت دہائیوں بعد اپنے اہل و عیال سمیت وادی میں واپس گھروں کو لوٹے سابق عسکریت پسندوں کے کنبے بے یار و مدد گار ہوکرشدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

یہ کنبے معاشی ، مالی اور سماجی بد حالی کے نتیجے میں قوت برداشت کھونے کے ساتھ ساتھ ذہنی تنا میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے چہرے پر اداسی نہ ہو اور بات کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو نہ ٹپکتے ہوں ۔کوئی لاکھوں روپے کے قرضے کے بوجھ تلے دب گیا ہے تو کوئی سر چھپانے کیلئے دو کمرے بنانے کا محتاج ہے ۔سال 2010میں نیشنل کانفرنس حکومت کی قیادت والی حکومت نے سرحد کے اس پار پھنسے لوگوں کی گھر واپسی کیلئے باز آبادکاری پالیسی کا اعلان کیا تھاتاہم اس پالیسی کے تحت محض 453افراد اپنے بال بچوں کے ہمراہ وادی کشمیر میں وارد ہوئے۔ یہاں پہنچنے پر انہیں جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ،انہیں دیکھ کر سرحد پار مقیم دیگر ہزاروں لوگوں نے گھر واپسی کا ارادہ ترک کرلیا ۔اس دوران دعوی کیا گیا تھا کہ حکومت باز آباد کاری پالیسی کے تحت گھر واپس لوٹے افراد کو نہ صرف روز گار فراہم کرے گی بلکہ انہیں سماجی تحفظ بھی دیاجائے گالیکن ایسا نہیں ہو سکااوراب حالت یہ ہے کہ سابق عسکریت پسندوں کے بچوں کو سکولوں میں داخلے کی اجازت تک نہیں ملتی ۔ ان سابق عسکریت پسندوںں سے کئی ایک کی بیویاں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں جو اب اپنے والدین اور رشتہ داروں کو ملنے نہیں جا سکتی کیونکہ ان کنبوں کو حکومت کی جانب سے نہ ہی روٹ پرمٹ فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی ویزا۔ ظہور احمد لون نامی ایک سابق عسکریت پسندنے بتایا کہ جب انہوں نے یہ خبر سنی کہ ریاستی حکومت نے سرحد پار گئے نوجوانوں کو واپس بلانے کیلئے پالیسی بنائی ہے تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا، وہ اپنے گھر کو واپس لوٹنے کے لئے بے چین ہوگئے ۔اس دوران کئی کنبوں نے آنے کے لئے درخواستیں جمع کیں اور پھر کچھ نے نیپال کے راستے اور کچھ ایک نے دیگر علاقوں سے غیر قانونی طور سرحد پار کر کے اپنے آپ کو سیکورٹی ایجنسیوں کے حوالے کر دیا۔ ظہور کے مطابق ان لوگوں کو اپنے آبائی گاں میں رہنے کی اجازت تو دی گئی لیکن ان کی باز آباد کاری کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی بھی اقدام نہیں کیاگیا۔ظہور احمد نے بتایا کہ ان کا کنبہ حاجی ناڑ کرناہ سے 1983میں غیرقانونی طورپر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلا گیاتھامیں نے اور میرے بھائی محمد اشرف لون نے وہیں شادیاں کر لیں اور تجارت شروع کرکے روزی روٹی کمانے لگے،جب مظفر آباد سے وادی لوٹنے والوں کے بارے میں سنا تو سال 2008میں اپنے اہل خانہ کو لیکر کرناہ کے ہجترہ گاں سے غیرقانونی طور وادی چلے آئے اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا،پولیس کارروائی کے بعد ہمیں اپنے آبائی گاں میں رہنے کی اجازت تودی گئی لیکن اب ہم یہاں آکر دانے دانے کے لئے ترس رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اوپر سے عدالتوں میں کیسوں پر بھی لاکھوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ظہور کی بیوی نصرت بیگم نے بتایا کہ وادی آنے سے قبل سرحد کے اس پار ان کی زندگی عیش و آرام سے گذر رہی تھی ، وہاں کی حکومت کشمیری مہاجرین کو فی فرد کے حساب سے1500 روپے ماہانہ امداد دیتی تھی، لیکن یہاں کسی قسم کی کوئی امداد نہیں دی جاتی جس کے نتیجہ میں وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ کئی مرتبہ اس پار لوٹنے کا ارادہ کر چکی ہے لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہو ئی۔ ظہور احمد کے کنبے میں اس کی بیوی نصرت بیگم ، اس کی والدہ گل جان بیگم اور ایک بیٹی مسکان شامل ہیں۔ مظفرآباد کی ایک خاتون شبانہ اسی پالیسی کے تحت اپنے خاوند کے ساتھ یہاں آئی ہے اور اب سرینگر کے چھتہ بل علاقے میں رہائش پذیر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل اس کے والد عبدالمجید فوت ہو گئے اور جب سے اس نے یہ خبر سنی ہے تب سے کافی پریشان ہے ۔اس کاکہناہے کہ اگر حکومت انہیں سرحد پار خوشی کے موقعہ پر جانے کی اجازت نہیں دیتی لیکن غمی میں شریک ہونے کی اجازت تودی جانی چاہئے ۔شبانہ کے بیٹے ریاض احمد نے بتایا کہ حکومتیں صرف سیاست کر رہی ہیں اور ان لوگوں کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ۔ ہاہیامہ کپوارہ کے رہنے والے اعجاز احمد ولد سلمان نے بتایا کہ 7سال قبل نیپال کے راستے سے چار کنبوں پر مشتمل 25افراد وادی آئے لیکن یہاں آکر وہ دانے دانے کے محتاج ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار ان کی زندگی عیش وارام سے گذرتی تھی لیکن یہاں وہ فاقہ کشی کے شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اعجاز کے مطابق ان کے کنبے کے 8افراد سرحد پار سے یہاں آئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں اب امید نہیں ہے کہ ان کی کوئی مدد ہوگی کیونکہ پچھلے 7برسوں سے انہیں کسی طرف سے کچھ نہیں ملا ۔بانڈی پورہ میں اپنے کنبہ کے ساتھ رہ رہی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی والی عائشہ بیگم کا کہنا ہے کہ وہ لوگ اس امید کے ساتھ اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ یہاں آئے کہ یہاں کی حکومت ان کی باز آباد کاری کا پورا پورا بندو بست کرے گی لیکن یہاں پہنچنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ یہاں ایک جیل خانے میں بند ہیں۔عائشہ نے بتایا کہ وہ اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی ایسی تمام خواتین ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں کیونکہ یہاں آنے کے بعد انہیں سماجی ، مالی اور معاشی بد حالی کا سامنا ہے اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ بچوں اور بچیوں کا مستقبل بھی مخدوش بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں پنڈتوں کو گھر واپسی کیلئے نوکری اور بازآبادکاری پیکیج دیا گیا وہیں انہیں یکسر نظر انداز کیاگیا اور ان پر صرف سیاست کی جارہی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -