پاکستان اور اس کے مسائل

پاکستان اور اس کے مسائل
پاکستان اور اس کے مسائل

  

علمائے تاریخ کہتے ہیں کہ :پاکستان 1947ء میں معرض وجود میں آیا۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ تشکیل پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان میں مسائل نے جنم لینا شروع کر دیا۔ گویا دونوں کی پیدائش اور جنم بھومی ایک ہی ہے۔ پاکستان بن جانے کے بعد سب سے پہلے جس مسئلے نے جنم لیا وہ انتقال آبادی کا تھا۔ چنانچہ آبادی کی ادلی بدلی شروع ہوئی۔ ادھر والے ادھر چلے گئے اور ادھر والے ادھر آگئے۔ یہ ادلی بدلی مذہبی اساس پر ہوئی تھی۔ ادھر کے مسلمان ادھر آگئے ۔ ادھر کے ہندو سکھ ادھر چلے گئے۔ اِدھر اُدھرجانے آنے میں بہت سے لوگ مر گئے یا ماردیئے گئے یوں یہ مسئلہ حل ہو گیا۔

اس مسئلے کے حل ہونے کے بعد دوسرا مسئلہ پاگل خانوں میں موجود پاگلوں کا تھا۔ ان پاگلوں میں بھی کچھ ہندو، کچھ سکھ ، کچھ مسلمان تھے۔ طے ہوا کہ ان کو بھی ان کے اصلی ممالک میں بھیجا جائے، یعنی سکھوں ،ہندوؤں کو ہندوستان میں اور مسلمان پاگلوں کو پاکستان میں۔ اس فیصلے کا اعلان بھی پاگل خانوں میں کردیا گیا تاکہ سارے پاگل اس انتقال پاگل آبادی کو ماننے کے لئے ذہنی طورپر آمادہ ہوجائیں۔ بقول سعادت حسن منٹوایک سکھ سردار صاحب جو ہندوستان کے پاگل خانے میں تھا۔ اسے اس اعلان پر بڑا افسوس ہوا ۔ وہ ہرایک سے یہ پوچھتا پھرتا تھا کہ قائداعظم نے پاکستان کہاں بنایا ہے۔ کیا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بنایا ہے۔ اگر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پاکستان بنا ہے تو کس محلے میں لیکن اس کو کچھ سمجھ نہ آئی۔

بالآخر انتقال پاگل آبادی کی تاریخ مقرر ہوگئی۔ پاگلوں کو ان کے اصل ملک میں لے جانے کے لئے بسیں پاگل خانے میں آنے لگیں۔ پاگلوں کو بسوں میں بیٹھنے کے لئے کہا گیا ۔ سارے پاگل تھوڑی رد و قدح کے بعد بسوں میں بیٹھ گئے۔ لیکن سردار صاحب نے بس میں سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا کہ پہلے مجھے یہ بتایا جائے کہ پاکستان ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بنا ہے یا کسی اور شہر میں۔ ابھی وہ یہ بحث کرہی رہا تھا کہ ایک سرکاری اہلکار نے اسے جبراً گود میں اٹھا کر بس کے اندر ڈال دیا اور بس کا دروازہ بند کردیا۔ پاگل سردار مجبور تھا۔ سارے سفر کے دوران سیٹ پر نہیں بیٹھا بلکہ چار پانچ گھنٹے مسلسل کھڑا رہا ۔ پاؤں سوج گئے۔ بس امرتسر پہنچ گئی۔ ان پاگلوں کو اترنے کا حکم دیا گیا۔ سب اتر گئے۔ یہ نہ اترا اور کہنے لگا پہلے بتاؤ قائداعظم نے پاکستان ٹوبہ میں بنایا ہے۔ اسے کہا گیا ہاں اور ٹوبہ آگیا ہے۔ اس پر وہ سکھ ست سری اکال واہ گروجی کا خالصہ کہتا ہوا بس سے نیچے اترپڑا۔ اور اترتے ہی مر گیا ۔ اس طرح یہ مسئلہ بھی بخیر وخوبی حل ہوگیا۔

پھر مہنگائی کا مسئلہ پیدا ہوا۔ جب یہ مسئلہ پیدا ہوا تو اس وقت خواجہ ناظم الدین پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ ان کے دور میں گندم 16روپے من ہوگئی، اس طرح مہنگائی کے مسئلے نے جنم لیا۔ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پریس کانفرنس کی۔ لوگوں نے مہنگائی کی طرف توجہ دلائی اور کہا روٹی بہت مہنگی ہوگئی ہے۔ وزیراعظم کہنے لگے آپ سے کس نے کہا کہ مہنگی روٹی کھائیں اگر روٹی مہنگی ہے تو آپ روٹی نہ کھائیں بلکہ ڈبل روٹی کھایا کریں۔ اور اس طرح مہنگائی کا مسئلہ وزیر اعظم صاحب نے انتہائی آسانی سے حل کردیا۔

ایک مسئلہ انڈیا آفس لائبریری کا تھا۔ یہ ایک لائبریری تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ لائبریری پاکستان کو دی جائے یا ہندوستان کو دی جائے۔ پاکستان اور ہندوستان کے سیاست دانوں کی طرف سے بیان آنا شروع ہوئے کہ ہم اچھے پڑوسی ہیں۔ ہمیں اس مسئلے پر لڑنا بھڑنا نہیں چاہئے ۔ بلکہ اچھے پڑوسیوں کی طرح مل بیٹھ کر طے کر لینا چاہئے۔ اس بات پر دونوں ملکوں کا اتفاق ہوگیا۔ یہ بھی طے ہوا چونکہ یہ معاملہ لائبریری کا ہے لہٰذا دونوں ملکوں کے وزرائے تعلیم اس مسئلے کا حل مل بیٹھ کر نکالیں۔ لہٰذا دونوں ملکوں کے وزرائے تعلیم مل کر بیٹھ گئے تاکہ حل نکال سکیں بہت سوچ بیچار کی گئی بحث ہوئی لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔ جب دونوں وزیر تھک گئے تو پاکستان کے وزیرتعلیم نے کہا کہ ہمیں کوئی درمیانی راہ نکالنی چاہئے۔ میرے پاس ایک تجویز ہے کہ لائبریری پاکستان کو ملے لائبریری کی کتابیں ہندوستان کو دے دی جائیں۔ اس پر اتفاق ہوگیا۔ اس طرح یہ مسئلہ انتہائی خوش اسلوبی اور باہم اتفاق سے طے ہوگیا۔

اسی طرح اور بھی بہت سے مسائل پیدا ہوتے رہے اور اسی طرح حل ہوتے رہے۔ مثلاً دریاؤں کا پانی ہندوستان کو دے دیا جائے وغیرہ وغیرہ ۔ ملک عزیز میں آج کل ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک دوست کا کہنا ہے کہ پھر کیا ہوا صرف بحث ہی چھڑی ہے کوئی لڑائی تو نہیں چھڑی ہم نے اپنے دوست سے کہا کہ پاکستان میں ہرلڑائی بحث سے شروع ہوتی ہے۔ پھر دھیرے دھیرے لڑائی کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ لڑائی پھر کبھی ختم نہیں ہوتی تاآنکہ لوگ بحث بھول جاتے ہیں لیکن لڑائی کو جاری رکھتے ہیں۔ موجودہ بحث کا عنوان ’’اسلام ریاست اور حکومت‘‘ ہے۔ یہ بحث کس نے چھیڑی کیوں چھیڑی ۔ اس کے محرکات کیا ہیں۔ اس بحث سے کیا نتائج نکلیں گے۔ شاید یہ بات بحث چھیڑنے والوں کو ہی معلوم ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو بھی نہ ہو۔ تاریخ کا سبق ہے کہ جو قومیں ہدف کھو بیٹھتی ہیں وہ صرف بحثیں چھیڑتی ہیں اور اس چھیڑ چھار کا نام علمی بحث رکھ دیتی ہیں حالانکہ بحث برائے بحث علم نہیں ہوا کرتی صرف پھلجھڑی اور دل لگی ہوتی ہے جس سے ضیاع وقت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جب بحثیں الجھتی ہیں تو قومیں بھی الجھ جاتی ہیں اور پھر بھول بھلیوں میں کھو جایا کرتی ہیں۔

کہتے ہیں یہ بحث جاوید احمد غامدی کی چھیڑی ہوئی ہے۔ جاوید احمد غامدی کا شمار ملک کے دانشوروں میں ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کی رسائی ٹی وی چینلوں تک ہے اور میڈیا ان کی شہرت کا سبب ہے۔ اگر میڈیا کی بیساکھی ان کے پاس نہ ہوتی تو وہ قلعہ گجر سنگھ کی کسی مسجد میں خطیب ہوتے یا اپنے نام سے دو چار پمفلٹ شائع کرچکے ہوتے۔ اس لئے ملک کے بعض دیگر دانشوران کو دانشور نہیں مانتے نہ ہی عالم دین ماننے کو تیار ہیں بلکہ بھٹکا ہوا راہی خیال کرتے ہیں۔ بقول اقبال :

منزل ہے کہاں تیری اے لالٰہ صحرائی

بھٹکا ہوا راہی تو بھٹکا ہواراہی میں

ہمیں اس سے بحث نہیں۔ غامدی صاحب کا اپنا ایک مقام ہے۔ وہ ایک خاص مکتب فکر کے حامل ہیں ۔ اور اپنے نظریات کو آگے بڑھانے میں کوشاں ہیں۔ فکری آزادی کا حق ہر شخص کو حاصل ہے یہ حق اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسان کے سب سے بڑے دشمن شیطان کو بھی دے رکھا ہے۔ جو بحث غامدی صاحب نے چھیڑی ہے اس بحث کا عنوان ’’اسلام ریاست اور حکومت ‘‘ ہے۔ ان کا پہلا مضمون روزنامہ جنگ میں 22جنوری 2015ء کو شائع ہوا۔ اس مضمون پر ملک میں کچھ کھسر پھسر ہونے لگی تو جاوید احمد غامدی نے دوسرا مضمون وضاحتی لکھا جو تقریباً ایک ماہ بعد 21فروری کو روزنامہ جنگ ہی میں چھپا۔ بس پھر کیا تھا دانشور کہلانے والوں کو عنوان ہاتھ لگا بلکہ عنوان غزل کا طرح مصرع ثابت ہوا۔ قافیے ردیفوں کی بارش شروع ہوئی دانش وروں نے خم ٹھونکے۔ میدان میں اترے۔ سب نے اپنی اپنی ہانکی، پطرس بخاری کے بقول : ’’وہ مشاعرہ برپا ہوا کان پڑی سنائی نہ دی ہم کھڑکی میں سے آرڈر آرڈرپکارتے رہے لیکن ہماری کون سنتا‘‘

ہمارے نزدیک یہ بحث لذت گوش ونیوش کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ذریعے ریستورانوں کی رونق میں تو اضافہ ہوگا لوگ میزوں پر چائے کی پیالیوں کے گرد بیٹھیں گے بحث مباحثے کے ذریعے خوب لذت لیں گے۔ اور اپنے تئیں خود کو بڑا دانشور بھی خیال کریں گے۔ دوسرے کو کمتر خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ دل میں اپنی بڑائی کا خیال باطل جنم لے گا۔۔۔ رسول اللہ ؐ کافرمان ہے کہ : ’’اگر کوئی شخص سبک سربن کر بحث کرے یعنی بحث کے ذریعے خود کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرے اس کا یہ عمل قابل گرفت ہے ‘‘۔۔۔ بعض دانشوروں نے مجھے بھی اچکل دی کہنے لگے تم پروفیسر ہو۔ تم پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہو۔ تم اسلامیات کے استاد ہو۔ تم نے کتابیں لکھی ہیں۔ تم فکر رکھتے ہو۔ تم سوچ کے حامل ہو۔ اس بحث میں حصہ لو اس علمی بحث کا حل نکالو۔ میں نے عرض کی یہ بحث علمی ہے نہ اجتہادی۔ علم کے سارے سوتے کتاب وسنت سے پھوٹتے ہیں عمل صحابہ علم کے لئے راستے ہموار کرتا ہے۔ اجتہاد کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں کتاب اللہ خاموش ہو یا سنت رسول خاموش اشارہ دے۔ اس لئے مذکورہ بحث علمی نہیں نہ ہی اجتہادی ہے۔ محض علم کے نام پر وقت گزاری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کی مدینہ تشریف لے آئے۔ آپ ؐ نے مدینہ میں ایک ریاست قائم کی۔ خالی زمین تو مکہ میں بھی تھی۔ آپ ؐ کے چاہنے والے مکہ میں بھی بہت تھے حتیٰ کہ آپ ؐ کے دشمن بھی آپ ؐ کو صادق اور الامین کہہ کر پکارتے تھے۔ لیکن مکہ میں اسلامی ریاست قائم نہ ہونے دیتے تھے جس کے لئے آپ ؐ سو صعوبتیں برداشت کرکے مدینہ تشریف لائے۔ بعض اہل مدینہ نے کہا۔ اے اللہ کے رسول ؐ اب آپ ہمارے ساتھ پیمان باندھ رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ جب آپ ؐ کے لئے مکہ کے رہنے والوں نے دروازے کھول دیئے آپ کو غلبہ حاصل ہو تو آپ ؐ ہمیں چھوڑ کر مکہ آجائیں اور ہمیں تنہا کردیں۔ رسول اللہ ؐ نے جواب دیا۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ میں مدینہ کی خاک اپنا مستقل مسکن بناؤں گا۔ اور قیامت کے روز مدینہ کی خاک یعنی ریاض الجنتہ ہی سے اٹھوں گا۔ مدینہ جس کی بنیاد اسلام کے نام پر تھی۔ قرآن مجید میں ہجرت کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ۔۔۔ ’’ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً‘‘۔۔۔اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔

اس طرح لوگ مدینہ میں نہیں بلکہ اسلامی ریاست میں پناہ لے رہے تھے۔ جانے اتنی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی اس لئے مذکورہ بحث علمی ہے ہی نہیں۔ نہ ہی اجتہادی ہے۔ ہم نے عرض کیا اجتہاد صرف ان باتوں میں ہوتا ہے جن کا حل کتاب وسنت میں نہ ملے۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ لفظ خلافت کی اصطلاح خود قرآن مجید میں اللہ نے استعمال کی۔ جب یہ اصطلاح خود اللہ رب العزت نے قرآن میں استعمال فرمائی تو پھر تصور خلافت کو غیراسلامی یا اسلامی قرار دینے کے لئے کھرا تلاش کرنا چہ معنی۔ اس سلسلے میں یہ کوشش تحصیل حاصل کے سوا کچھ نہیں۔ ارشاد ہے ۔۔۔’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘‘۔۔۔’’وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے دیگر سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو براہی کیوں نہ لگے‘‘ ۔۔۔ اس حوالے سے قران مجید کی یہ آیت کتنی واضح ہے۔۔۔ ’’الذین ان مکنھم فی الارض اقامو الصلوٰۃ واتو الزکوٰۃ وامروبالمعروف ونھو عن المنکر‘‘۔۔۔ ’’دنیا میں ہم جن لوگوں کو اقتدار کی مسند عطا کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ نظام صلوۃ، نظام زکوٰۃ قائم کریں اور نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے روکنے کی کوشش کریں‘‘۔

اس آیت میں صاحبان اقتدار کے لئے فرائض کی حدبندی کی گئی ہے۔ جہاں قرآنی آیات اتنی واضح ہوں تو اس معاملے میں اجتہاد کے کیا معنی۔ یہاں ایک بات اور بڑی واضح ہے۔ حضور اکرم ؐ نے اسی سوچ پر بندش لگائی فرمایا: اللہ نے لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا۔ کثرت سوال اور بحث برائے بحث کو ناپسند کیا ہے۔ اس فرمان رسولؐ کی روشنی میں خود ہی سوال گھڑنا اور خودہی نئی بحث چھیڑنا ایک عبث سے زیادہ نہیں۔ رسول اللہ ؐ کا یہ فرمان بھی ہے۔۔۔’’من احدث فی امرنا ماھولیس منہ فھورد‘‘

جس شخص نے ہمارے امور میں کوئی نئی راہ پیدا کی جواسلام میں نہیں ہے ایسی بات قابل رد ہے بعض لوگ اس حدیث سے صرف بدعات مراد لیتے ہیں۔ کیا نئی بحثوں کا پیدا کرنا پھر ان میں الجھنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ پاکستان کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں۔ میڈیا کا پھیلاؤ اپنی ذات میں مستقل مسئلہ ہے، جس میں اینکر حضرات روزانہ مزید اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔ بہتر ہو گا غامدی جیسے دانشور حضرات ان مسائل پر توجہ دیں۔

کس کس کا ذکر کیجئے کس کس کورویئے

دن رات لوٹ مارہے مذہب کے نام پر

مزید :

کالم -