مختلف تنظیموں کے زیر اہتما م شاہ حسین کانفرنس،فخر زمان نے صدارت کی

مختلف تنظیموں کے زیر اہتما م شاہ حسین کانفرنس،فخر زمان نے صدارت کی

  

لاہور (پ ر) انٹرنیشنل رائٹرز کونسل، اکیڈمی آف لیٹرز، ڈبلیو پی سی اور ادارہ فکر و فن کے زیر اہتمام شاہ حسین کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت ورلڈ پنجابی کانگرس کے چیئرمین فخر زمان نے کی۔ شاہ حسین کی شاعری کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ ان کی کافیاں گہرے درد اور کرب کا اظہار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ حسین ورکنگ کلاس کے نمائندہ تھے۔ وہ ایسے صوفی شاعر تھے، غریب عوام کے دکھوں سے بخوبی آگاہ تھے ان کا کلام ایک سلگتی چنگاری کی مانند تھی۔انہو ں نے کہا شاہ حسین لاہور کی شناخت ہیں۔ انہوں نے چرخے اور اس کے مختلف حصوں کو انسانی زندگی کے نشیب و فراز کی علامت کے طور پر بہت خوبصورتی سے استعمال کیا۔ شاہ حسین نے شیر شاہ سوری، ہمایوں اور اکبر کے عہد کو دیکھا۔ یہ شاہ حسین ہی تھے جو رات بھر راوی دریا میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر عوام کو دکھوں سے نجات دلوانے کی دعا کرتے تھے۔ شاہ حسین ایک انقلابی تھے اور وہ دوسرے انقلابی دلا بھٹی کی پھانسی کے وقت موجود تھے۔ فخر زمان نے کہا کہ مادھو سے ان کی نسبت، ان کی رواداری، سیکولر رویے کا استعارہ تھی۔ فخر زمان نے ایک بار پھر حکومت سے پنجابی زبان کو پرائمری کی سطح پر لاگو کرانے اور لاہور میں پہلی پنجابی یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان کے صوفی شعرا کے بارے میں کانفرنسیں جاری رہیں گی۔ عید کے بعد سلطان باہوؒ اور خواجہ فرید کے بارے میں کانفرنس ہوگی اور اس کے بعد سندھ کے صوفی شعرا شاہ لطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شاہ عنایت، بلوچستان کے مست توکلی اور کے پی کے خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کے بارے میں کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ جس میں متعلقہ صوبے کے دانشور شرکت کریں گے۔ انٹرنیشنل رائٹرز کونسل کی صدر ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے شاہ حسین کی کافیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا اور کہا شاہ حسین کی شاعری کی علامت نگاری نے وجد میں آنے والے صوفی شعرأ کو متاثر کیا۔ ادارہ فکر و فن کے صدر ممتاز راشد نے کہا کہ شاہ حسین کی شاعری پنجاب کے لوک کلچر کی نمائندہ ہے اور ان کا ادارہ صوفی شاعروں پر کانفرنسوں میں پورا تعاون کرے گا۔ اکادمی ادبیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد جمیل نے کہا کہ صوفیا پر کانفرنسوں سے قومی یکجہتی بڑھتی ہے اور اکادمی اس سلسلہ کو جاری رکھے گی۔اکرم شیخ نے برصغیر میں صوفی تحریک اور بھگتی اور دیدانت تحریک کا بھر پور جائزہ لیا۔ غافر شہزاد نے شاہ حسین کی شاعری کی مختلف جہتوں پر بھرپور گفتگو کی اور کہا آج کے حالات میں صوفیوں کا پیغام ہر ایک سطح پر پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کالج اور یونیورسٹی میں صوفی ازم بطور لازمی مضمون پڑھایا جانا چاہیے۔اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر اور معروف ادیب عاصم بٹ نے کہا کہ اکادمی صوفی شعراء کا کئی زبانوں میں ترجمہ کرچکی ہے اور دنیا کی بڑی لائبریریوں میں کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا صوفیا پر نئے اور جدید ڈھنگ پر تحقیق ہونی چاہیے اور یہ فریضہ اکادمی نبھانے کے لئے تیار ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -