مودی کی منزل کیا ہے؟

مودی کی منزل کیا ہے؟
مودی کی منزل کیا ہے؟

  

یہ سوال نہایت اہم ہے اور ستر سال سے جواب طلب چلا آتا ہے، مگر پاکستان کے حکمران ، جو قائداعظمؒ کی وفات کے بعد سے کرسی کا کھیل کھیلتے آ رہے ہیں، وہ اس سے بالکل ناواقف چلے آرہے ہیں، بس بھارت کے برہمن کے ساتھ صلح صفائی کی تالی بجاتے آ رہے ہیں جو صرف ان کے ہاتھ سے بجتی چلی آتی ہے،مگر ہندو برہمن کا ہاتھ ان کی تالی کی پروا ہی نہیں کر رہا! ان کا صلح صفائی کی تالی بجانے والا ہاتھ صرف ایک گلا کرتا ہے کہ ’’ہندو برہمن نے پاکستان کو دل سے نہیں مانا‘‘۔۔۔ مگر کیوں نہیں مانا؟ اس سے نہ تو ایک ہاتھ سے تالی بجانے والوں کو کوئی غرض ہے اور نہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہندو نے آج تک پاکستان کو کیوں نہیں مانا؟ آخر وہ چاہتا کیا ہے؟ وہ پاکستان کے بارے میں دنیا کو کیابتاتا سمجھاتا رہتا ہے؟۔۔۔اگر آپ غور کریں تو یہ جاننا کچھ مشکل نہیں کہ مکاربرہمن نے آج تک پاکستان کے ساتھ اپنا کوئی جھگڑا اور کوئی مسئلہ حل نہیں ہونے دیا، لیکن ایک ہی ہاتھ سے تالی بجانے میں مست ہمارے حکمران بھارت کے ساتھ تمام مسائل حل کر چکے ہیں اور بیشتر مسائل ’’جرنیل شاہی‘‘ نے حل کر دیئے ہیں۔ نہری پانی کا مسئلہ ایوب خان حل کر گئے! مشرقی پاکستان کا مسئلہ جنرل یحییٰ خان حل کر گئے۔ سیاچن کا مسئلہ ضیاء الحق یہ کہہ کر نمٹا گئے کہ سیاچن تو برفانی میدان ہے، یہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی! کشمیر سمیت باقی تمام مسائل پرویز مشرف امریکہ کی گو دمیں سو کر حل چھوڑ کر تحلیل کر گیا، اس بیچارے کی تو یہ کوشش بھی تھی کہ اسرائیل کو تسلیم کرکے یہودی فیڈر بھی منہ میں ڈلوالے اور مزے سے امریکہ کی گود میں سوتا رہے، مگر اس بیچارے کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جو سوتا ہے ،وہ کھوتا ہے؟

برہمن نے تمام مسائل جوں کے توں رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کو حل کرنا بیکار ہے، اس لئے آج بھی ہندو انہی قدموں پر کھڑا ہے، جہاں وہ تقسیم سے پہلے تھا! اور یہ قدم اسے اس کا باپو گاندھی سمجھا گیا ہے کہ انگریز کے یہاں سے دفع ہونے کے بعد ’’ان مسئلوں‘‘ سے بھی ہم نمٹ لیں گے ،جبکہ گاندھی کو یہ سبق ہندو مہاسبھا نے سمجھایا تھا کہ ان سے ایک ہزار سالہ غلامی کا انتقام اس طرح لینا ہے کہ انہیں یا تو ہندو مزاج بنا لو ،یعنی یہ ہندومت میں اس طرح گھل مل جائیں، جس طرح اکبر بادشاہ نے لالچ اور ڈنڈے سے ہندو مزاج مسلمان بنا دیا تھا! یا انہیں بھارت سے مار بھگاؤ اور جو نہ ہندو بنیں اور نہ بھاگنا پسند کریں، انہیں ان کے قبرستان میں پہنچا دو! تو یہ ہے برہمن کا ایجنڈا اور مسائل کا حل! اس کے نزدیک چھوٹے چھوٹے مسائل (جیسے مسئلہ کشمیر!) میں وقت مت ضائع کرو، بس پاکستان کو ختم کر دو تمام مسائل خو دہی حل ہو جائیں گے! یا اسے ہندو مزاج بنا کر اپنا طفیلی بنا لو اور مسلمانوں کو سدھار کر ہندو معاشرہ میں پانچواں درجہ دے کر اچھوت سے بھی نیچے لے کر جا کر انہیں ملیچھ یا ناپاک کے درجے میں رکھ لو۔ ہمارے کرسی اور کرپشن مست حکمرانوں نے یہ جاننے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہیں فرمائی کہ ستر سال ،بلکہ اس سے بھی پہلے سے ہندو ہمارے بارے میں دنیا میں کیا پراپیگنڈہ کرتا رہتا ہے؟ وہ دنیا سے یہ کہتا ہے کہ محمد علی جناح ؒ ایک فرقہ پرست لیڈر تھا، جس نے مذہب کی بنیاد پر ملک تقسیم کروا دیا، اب مسلمان اپنے پاکستان کو ایک اسلامی ملک بنا رہے ہیں جو آگے چل کر تمام دنیا کو جہاد کرکے اپنا غلام بنا لے گا، اس لئے اس کا راستہ روکنا ، بلکہ قابو کرنا ضروری ہے۔ اس طرح دوسری اقوام خصوصاً صلیبی مغرب ہندو سے بھی زیادہ خائف اور پاکستان دشمن بن چکا ہے ۔۔۔اور تو اور عربوں کو بھی یہ باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان تو انگریز نے بنایا تھا، کیونکہ وہ ہندوستان کو متحد رکھنے کے خلاف تھا۔

یہ تو دنیا کو ہندو بتاتا پھرتا ہے، مگر دنیا کو یہ بتانے والا کوئی نہیں کہ حقیقت میں تو ہندو متعصب اور مذہبی جنونی ہے جو دوسرے مذاہب کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا قائل ہی نہیں! وہ صرف ہندو مت( کی متحدہ قومیت) کی بنیاد پر ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتا تھا اور اب بھی صرف ہندو مت کی بنیاد پر ہی برصغیر کو متحد رکھنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت کسی دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کیا جائے گا! یہ تو صرف محمد علی جناح ؒ تھا جو تمام مذاہب کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر ہندوستان کو متحد رکھنے کے لئے آخری دم تک کوشاں رہا، مگر وہ اس کے لئے دستوری ضمانت مانگتا تھا، جس کے لئے ہندو نہ پہلے تیار تھا، نہ آج تیار ہے۔ ایک ہندو خاتون قائداعظم ؒ کو صرف اس لئے پسند کرتی تھی کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کی بنیاد پر متحدہ ہندوستان کے سفیر تھے، مگر وہ ہندو اکثریت کو خونخوار اکثریت کہتے تھے اور دستوری ضمانت کے بغیر اس خونخوار اکثریت پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور اب یہ خونخوار اکثریت ستر سال میں اس کا ثبوت دے چکی ہے،حتیٰ کہ یہ خونخوار اکثریت تو پاکستان کا پرامن پڑوسی بننے کے لئے بھی تیار نہیں!

یہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے، میں عین شمس یونیورسٹی قاہرہ میں مہمان پروفیسر تھا، یونیورسٹی نے ’’قیامِ پاکستان کیوں‘‘؟کے موضوع پر میرا لیکچر رکھ دیا، قاہرہ میں بھارت کے ’’مولانا آزاد کلچر سنٹر‘‘ کی خاتون ڈائریکٹر بھی تشریف لائیں، میرا لیکچر تو عربی زبان میں تھا، مگر خاتون نے انگریزی میں سوال کرنے کی اجازت مانگی۔ میں نے کہا سوال کیجئے، کہنے لگیں مسٹر جناحؒ نے مذہب کی بنیاد پر بٹوارہ کروا دیا، میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ غلط ہے! دراصل ہندو دستور میں تمام مذاہب کے لئے پرامن بقائے باہمی کی ضمانت دینے کے بجائے صرف ایک ہندو مت کی بنیاد پر برصغیر کو متحد رکھنے کی بات کی گئی ہے اور اب بھی پاکستان توڑ کر اور دستور میں تمام مذاہب کو آزادی دینے کے بجائے صرف ہندو اکثریت کے مذہب کی بنیاد پر برصغیر کو متحدہ ملک بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مَیں نے یہ بھی کہا کہ کیا قائداعظمؒ کا یہ قول سچ ثابت نہیں ہو چکا کہ ہندو اکثریت ایک خونخوار اکثریت ہوگی؟ کیا آپ بھارت کی غیر ہندو آبادی کو یہ حق دلوانے کے لئے تیار ہیں کہ وہ آزاد ریفرنڈم کے ذریعے بتائیں کہ قائداعظمؒ کا یہ قول سو فیصد سچا ثابت ہوا ہے یا نہیں؟ مگر وہ سر جھکا کر چپ ہو گئیں!

تو گاندھی سے لے کر مودی تک ہندو کا ایجنڈا مسلمان یا پاکستان کو آزاد چھوڑنے کے بجائے مہاسبھائی فارمولے کے مطابق ان سے ’’نمٹنا‘‘ ہے اور یہ نمٹنا یوں ہے کہ زبردستی ہندو بناؤ، یا ملک سے بھگاؤ اور یا پھر مسلمانوں کی گردنیں اڑا دو! تو یہ ہے ہندو کا فارمولا اور یہ ہے مودی کی منزل، مگر ایک ہاتھ سے تالی بجانے (یعنی مسائل حل کرکے قیام امن کی تالی بجانے) کے عامل پاکستانی حکمران کو مودی کی اس منزل کانہ علم ہے، نہ احساس ہے، نہ دنیا کو یہ بتا رہے ہیں اور نہ بیچارے پاکستانیوں کو بتا رہے ہیں! صلح صفائی، مسلمان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی یا برصغیر میں قیام امن مودی کی منزل نہیں ہے! یہ تو صرف ہماری ایک ہاتھ کی تالی ہے، یہ تالی بجاتے ہوئے اگر ہم کشمیر سے بھی دست بردار ہو جائیں، تب بھی مودی کی تسلی نہیں ہوگی۔مودی کی تسلی صرف اپنی منزل پا کر ہوگی اور مودی کی یہ منزل اسلام، مسلمان اور پاکستان کو ختم کرنا ہے یا اسے ہندو مزاج بنا کر طفیلی بنانا ہے! اللہ بچائے مودی کی اس منزل سے اور ہوش میں لائے ہمارے ایک ہاتھ سے تالی بجانے والوں کو اور ہمیں دنیا کے سامنے کھل کر جرات سے بات کرنے کی توفیق بخشے کہ ہم دنیا پر حقیقت حال واضح کر سکیں ۔ آمین!! یعنی ہم دنیا کو یہ بتا اور سمجھا سکیں کہ ہندو برہمن چاہتا ہے کہ مسلمان اور پاکستان ہندو مت میں گھل مل کر آخر کار بدھ مت اورجین مت کی طرح ہندومت میں تحلیل ہو جائیں تو سب مسائل حل ہو جائیں گے! گزشتہ ستر سال میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہندو اکثریت ایک خونخوار اکثریت ہے اور قائداعظم ؒ کی بات سو فیصد سچی ثابت ہو چکی ہے! مودی کی منزل بھی اس خونخواری سے غیر ہندو آبادی کو ہندومت میں تحلیل کرنا ہے، اس کے بغیرمسائل کا کوئی پُرامن حل ہے ہی نہیں!!

مزید :

کالم -