جموں کشمیر مسئلے کاحل جنوبی ایشا کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے،لبریشن فرنٹ

جموں کشمیر مسئلے کاحل جنوبی ایشا کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے،لبریشن ...

  

سری نگر(کے پی آئی) سری نگر میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام سیاسی قائدین ، اراکین،ممبران سول سوسائٹی، سماجی شخصیات کے اجلاس میں جموں کشمیر مسئلے کاحل جنوبی ایشا کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر قرار دیا گیا ہے ۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کے حل کیلئے بھارت و پاکستان کے مابین ہونے والے مزاکراتی عمل میں کشمیریوں کی بحیثیت بنیادی فریق شامل کیا جائے بھارت و پاکستان کے وزرائے اعظم کے مابین حالیہ ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کو نظر انداز کرنے اور یوں مسئلہ جموں کشمیر کو Back Burner پر ڈالنے کی ہر کاوش کوبھی مسترد کرتا ہے۔ گزشتہ روز لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے منعقدہ اِفطار پارٹی میں موجود سیاسی قائدین ، اراکین،ممبران سول سوسائٹی، سماجی شخصیات،نمائندگان تاجران، دانشوارن قوم و ملت، قلم کار و کالم نویس، صحافی ،انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ زندگی کے جملہ طبقہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے معزز خواتین و حضرات نے متفقہ طور پر یک زبان ہوکرقرارداد منظور کی ۔قرارداد میں کہاگیا ہے کہ یہ نمائندہ اجلاس جموں کشمیر پر بھارتی تسلط کو ناجائز ،غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کو جب تک آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کے تعین کا حق نہیں دیا جائے گا،۔

ہماری مبنی بر حق و صداقت اور مثالی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

،یہ نمائندہ اجلاس اتحاد بین المسلین کو وقت کی اہم اور ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے مابین اخوت کے فروغ پر زور دیتا ہے۔اجلاس میں کہاگیا کہ جموں کشمیر میں جاری جبر و تشدد، چھاپوں،خانہ تلاشیوں،گرفتاریوں،قدغنوں اوررکاوٹوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ نیز یہ نمائندہ اجلاس پرامن سیاسی کاوشوں کے خلاف جاری سرکاری جبر و تشدد، پرامن سیاسی کاوشوں پر سیاسی زمین تنگ کرنے جیسے غیر جمہوری اورغیر اخلاقی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔قرارداد کے مطابق اجلاس جموں کشمیر مسئلے کے حل کو جنوبی ایشا کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر قرار دیتا ہے اور مسئلہ جموں کشمیر کے حل کیلئے بھارت و پاکستان کے مابین ہونے والے مزاکراتی عمل میں کشمیریوں کی بحیثیت بنیادی فریق عملی شرکت پر زور دیتا ہے۔ نیز یہ نمائندہ اجلاس بھارت و پاکستان کے وزرائے اعظم کے مابین حالیہ ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کو نظر انداز کرنے اور یوں مسئلہ جموں کشمیر کو Back Burner پر ڈالنے کی ہر کاوش کوبھی مسترد کرتا ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ اجلاس جموں کشمیر میں آر ایس ایس کی ایماپر جاری فسطائی کاوشوں خاص طور پر جموں کے مسلمانوں کو زیر عتاب لانے کی پالیسی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ اگر یہ سازشیں اور جموی مسلمانوں کو زچ کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے خلاف بھرپور مزاحمتی تحریک بپا کی جائے گی۔

مزید :

عالمی منظر -