ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ!

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ!
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ!

  

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان پرسوں منگل وار (14جولائی 2015ء) کو وی آنا میں جس معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اسے دنیا بھر میں تاریخی معاہدہ کہا جا رہا ہے۔ امریکہ کے صدر اوباما اور ایران کے جناب حسن روحانی اپنی اپنی قوموں کو فتح کی جو بشارتیں دے رہے ہیں وہ عالمی امن کے قیام کے لئے خوش آئند ہیں۔ پاکستان نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم دنیا کے دو ملک ایسے بھی ہیں جو اس قصیدہ خوانی میں شامل نہیں۔ ایک تو اسرائیل ہے جس کے نیتن یا ہو نے معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ٹیلی ویژن پر آکر نوحہ خوانی شروع کر دی اور کہا کہ یہ ’’تاریخی معاہدہ ایک تاریخی غلطی ہے۔۔۔اور اس کا پتہ بہت جلد دنیا کو لگ جائے گا‘‘۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ ہم نے ایران کو ایٹم بم بنانے کی صلاحیت سے (کم از کم آنے والے دس پندرہ برسوں تک) محروم کر دیا ہے اور جناب حسن روحانی نے کہا ہے کہ ہم تو اول روز سے کہہ رہے تھے کہ ہمارا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ مغربی ممالک نے ہم پر پابندیاں لگا کر خواہ مخواہ ہماری قوم کو اتنے طویل عرصے سے مبتلائے آزار رکھا۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے مختلف پابندیاں لگا دیں جن سے ایرانی عوام کی ’’ہمہ جہت انسانی تکالیف‘‘ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمارے منجمد 100ارب ڈالر کے اثاثے ہمیں واپس مل جائیں گے اور ہمارے تیل کی جو برآمدات تقریباً دو تہائی تک کم کر دی گئی تھیں وہ جب 100فیصد تک بحال ہو جائیں گی تو ایران پھر سے ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہو جائے گا۔دوسرا ملک جس نے اس معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، وہ سعودی عرب ہے۔سعودی عرب اگر ایسا نہ کرتا تو دنیا کو حیرت ہوتی! انہوں نے اچھا کیا ہے کہ وفاداری بشرطِ استواری نبھائی ہے اور دیر میں مرے ہوئے برہمن کو کعبے میں گاڑنے کی شرط پوری کی ہے۔

امریکہ میں عنانِ اقتدار، ڈیموکریٹس کے ہاتھوں میں ہے لیکن کانگریس میں ری پبلکن اراکین کی اکثریت ہے اور بعض ڈیمو کریٹ اراکین تو ایسے ہیں جو اوباما کی طرف سے تکمیل پائے اس جوہری معاہدے کے مخالف ہیں۔ کانگریس میں اب 60روز کے اندر اندر اس معاہدے کے حسن و قبح پر بحث ہو گی، جس میں توقع کی جاتی ہے کہ ری پبلکن ارکان کا پلہ بھاری رہے گا اور کانگریس اس معاہدے کے خلاف ووٹ دے گی۔ ویسے بھی دوماہ پہلے کانگریس کے کرتا دھرتاؤں نے اسرائیلی وزیراعظم کو اس موضوع پر خطاب کی دعوت دی تھی، جس میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جی بھر کر دل کا غبار نکالا تھا اور اوباما کی ’’نیم ناراضگی‘‘ بھی مول لی تھی۔ لیکن اب تو اوباما نے ببانگِ دہل فرما دیا ہے کہ اگر کانگریس کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہوا تو میں اسے ویٹو کر دوں گا۔۔۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ شائد کانگریس دنیا کی ساری بڑی بڑی طاقتوں (امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی) کی رائے کو رد کرنے سے پہلے کئی بار سوچے کیونکہ جب کبھی اس امریکی قوم کا مشترکہ مفاد درمیان میں آتا ہے تو ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن ایک ہو جاتے ہیں ۔اگر برسوں سے لٹکے ہوئے اس موضوع پر عالمی طاقتوں نے اتفاق رائے سے کسی ایک ایجنڈے پر اتفاق کیا ہے تو اس میں امریکیوں کی بھی بہتری ہوگی۔

میں اس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد تہران میں ہونے والی وہ تقریر سن رہا تھا،جس میں جناب حسن روحانی بغیر نوٹس (Notes) کے، فی البدیہہ تقریر کررہے تھے اور اپنی قوم (اور ساری دنیا) کو اس معاہدے کے سلسلے میں آگاہی دے رہے تھے اور اپنے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حمائت میں رطب اللسان تھے!

اگر ایک طرف صدر اوباما اپنی قومی زبان میں اپنی قوم کو اس ڈیل (Deal) کی کامیابی کے اسباب بتا رہے تھے تو دوسری طرف جناب حسن روحانی بھی اپنی قوم کو اُس سہانے مستقبل کی نوید دے رہے تھے جو اس ڈیل کے نتیجے میں اسے دیکھنے کا موقع میسر آئے گا۔ وہ تادیر فارسی زبان میں اس موضوع پر بات کرتے رہے(اور بی بی سی اور سی این این ان کی تقریر کا انگریزی ترجمہ ساتھ ساتھ سنواتے رہے) اور میں حیران ہوتا رہا کہ اگرچہ حضرت کا سراپا پاکستانی ملاؤں جیسا ہے لیکن جوہری موضوعات پر ان کی گرفت کسی امریکی / برطانوی/ روسی/ فرانسیسی/چینی/ جرمن سائنسدان اور دانشور سے ہرگز کم نہیں۔ تھوڑی بہت فارسی میں بھی جانتا ہوں لیکن ان کا خطاب سن کر میں حیران ہوتا رہا کہ نیو کلیئر اصطلاحات و تراکیب کے فارسی مترادفات انہوں نے کس دقّتِ نگاہ سے ازبر کررکھے تھے۔دوسری طرف جواد ظریف تھے جو امریکی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں۔ معاہدے پر دستخطوں کے فوراً بعد جو مشترکہ کانفرنس ہوئی، اس میں وہ یورپی یونین کی طرف سے نامزد خاتون ترجمان (جن کا نام اردو میں تو کیا، انگریزی میں لکھ کر بھی اس کی صحیح قرات کرنا کارے دارد ہے) کے ’’شانہ بشانہ ‘‘بیٹھے بڑی رواں اور برجستہ انگریزی میں معاہدے کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کررہے تھے۔

اس معاہدے کی شرائط کیا ہیں، مختلف کریٹیکل (Critical)اور ٹیکنیکل موضوعات کی تفصیلات کیا ہیں، ایران نے کیاکھویا اور کیا پایا، یہ معاہدہ پوری طرح کب نافذ العمل ہوگا، ایران پر پابندیاں اٹھانے کا سفر کہاں سے شروع ہوگا اور راستے میں کون کون سے مشکل پڑاؤ آئیں گے، آئی اے ای اے (IAEA) کو ایرانی تنصیبات کے معائندوں کی کیا کیا آزادیاں حاصل ہوں گی، کون کون سی ایرانی سہولیت مغربی جوہری معائنہ کاروں کی زد میں آئے گی اور ختم کر دی جائے گی، کتنے سنٹری فیوج بند ہوں گے، ٹنوں نیم افزودہ یورینیم کو کہاں ٹھکانے لگایا جائے گا، ایران کو ’’پُرامن مقاصد‘‘ کے لئے یورینیم کی کس شرحِ افزودگی کی اجازت ہو گی، کون کون سے بھاری ہتھیار اور میزائل خریدنے کا اذنِ عام ملے گا اور اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندیوں کی بند چھتری کو کس طرح بتدریج کھولا جائے گا، یہ سب کچھ ابھی پردۂ اخفا میں رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ سب کی سب تفصیلات بھی طے کی جا چکی ہیں۔ آخر اتنی مدت سے یہ مذاکرات ہو رہے تھے، تو صرف نشستند و خوردند و برخواستند کے لئے نہیں تھے، بلکہ از حد سنجیدگی اور تکنیکی توضیحات کی مکمل شرح و بسط کی فضا میں ہوئے۔ البتہ معاہدہ کا جو متن تیار کیا گیا، وہ ان توضیحات و تفصیلات پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ ان کی طرف صرف بعض اشارے کئے گئے ہیں۔۔۔(یعنی ہماری سپریم کورٹ کی طرح اس فیصلے کا تفصیلی متن بعد میں کسی وقت جاری کیا جائے گا جس میں ’’وقت‘‘ کے تعین کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاتی۔ بس اچانک فیصلہ جاری کر دیا جاتا ہے)

ایران پر روائتی ہتھیاروں کی خریدو فرخت اور درآمد و برآمد پر بھی2006ء میں پابندیاں لگادی گئی تھیں جو اس معاہدے کی رو سے آنے والے آٹھ برسوں تک برقرار رہیں گی۔ لیکن اگر ایران نے معاہدے کی پابندی کا ’’خلوص نامہ‘‘ جلد پیش کر دیا تو یہ پابندیاں پانچ سال یا اس سے بھی پہلے اٹھائی جا سکتی ہیں۔

قارئین کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروانے کی ضرورت ہو گی کہ ان روائتی (غیر جوہری) ہتھیاروں کی خرید پر اگرچہ پابندیاں تھیں، لیکن ایران، گزشتہ ایک عشرے سے عراق، شام اور یمن میں جن شورشوں اور لڑائیوں کے گرداب سے گزرا ہے (اور آج بھی گزر رہا ہے) کیا وہ بغیر کسی لائف جیکٹ کے گزرا ہے؟۔۔۔ دراصل جنگ عظیم دوم کے بعد مغرب کا ایک ایسا مافیا وجود میں آ چکا ہے جو ناجائز اسلحہ اور گولہ بارود کی خرید و فروخت کا ’’زیر زمین‘‘ کاروبار کرتا ہے۔ کسی بھی مُلک کو کسی بھی تعداد یا مقدار میں کوئی اسلحہ یا گولہ بارود درکار ہو، تو اس کے لئے اس بین الاقوامی مافیا کے نمائندے دنیا کے ہر خطے میں موجود ہوتے ہیں، جن کے توسط سے یہ کارِ خیر انجام دیا جاتا ہے۔۔۔ گاہک کو صرف رقم ، مطلوبہ ہتھیاروں کی تعداد و مقدار کی فہرست اور اس مقام کی نشاندہی کرنی پڑتی ہے جہاں یہ ’’جنسِ ناجائز‘‘ ڈلیور کرنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد سارا ’’بوجھ‘‘ نمائندے کے کاندھوں پر ہوتا ہے، جو رقم/فہرست/ متعینہ مقامِ ڈلیوری کی تفصیلات کا حامل ہوتا ہے۔

اگر ماضی میں ان پابندیوں کے باوجود ایران روائتی اسلحہ کی بڑی بڑی کھیپیں حاصل کرتا رہا ہے تو اب یہ پابندیاں اٹھ جانے کے بعد اس کی مشکلات میں کچھ تو آسانیاں پیدا ہوں گی۔ اور ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ پہلے اس ’’ویپن اینڈ ایکسپلوسوز مافیا‘‘ کے نمائندے مُنہ مانگے دام وصول کیا کرتے تھے، اب وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔

یہ مافیا ایک ایسا عالمگیر ادارہ ہے کہ اس کے خریدار ایشیاء اور افریقہ کے بیشتر ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ سارا کاروبار ’’انڈر گراؤنڈ‘‘ ہوتا ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیمیں گولہ بارود کی بوریاں بھر بھر کر اپنی تجوریاں خالی کرتی اور ترکش بھرتی ہیں؟ اپنے پاکستان میں بھی الا ماشا اللہ اس کاروبار کے درجنوں شرکاء ایک عرصے سے سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ ناجائز اسلحہ اور گولہ بارود نہ تو پاکستان آرڈننس فیکٹریوں میں بنایا جاتا ہے اور نہ کسی اور Overt ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے۔یہ سب کاروبار Covertہوتا ہے۔ ’’را‘‘ یا کوئی اور پاکستان دشمن انٹیلی جنس تنظیم اگر اس میں ملوث ہوتی ہے تو ذرا تصور کیجئے کہ ایران کے ملوث ہونے کا سکیل کتنا بڑا ہو گا۔ یہ بات اور ہے کہ بھارت، پاکستان کے میدانوں اور کوہستانوں میں یہ کھیل کھیلتا ہے جبکہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر (عراق، شام، یمن) کے میدانوں/ صحراؤں/ سمندروں کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔

رہا یہ سوال کہ اس جوہری معاہدے کا اثر پاکستان پر کیا پڑے گا تو اس سلسلے میں کچھ اچھی خبریں تو میڈیا پر آ رہی ہیں۔ سرتاج عزیز صاحب اور عباسی صاحب نے جن آسانیوں کی بات کی ہے، وہ شائد پاکستان کو آئندہ دنوں/مہینوں میں دیکھنے کو مل جائیں لیکن یہ موضوع ایک الگ کالم کا متقاضی ہوگا۔

مزید :

کالم -