ریستورانوں کی صفائی اور پرائس کنٹرول کا معاملہ!

ریستورانوں کی صفائی اور پرائس کنٹرول کا معاملہ!

  

تاجروں اور حکومت کے درمیان بنک ٹرانزیکشن پر تنازعہ کے بعد اب فوڈ اتھارٹی اور ریستورانوں کے مالکان کے درمیان ٹھن گئی اور مالکان نے دھمکی دی ہے کہ فوڈ اتھارٹی کے چھاپے بند نہ کئے گئے تو سارے صوبے میں ریستوران بند کر دیئے جائیں گے۔ دوسری طرف پرچون فروش بھی سراپا احتجاج ہیں کہ مہنگائی کے حوالے سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ انہی کو پکڑ پکڑ کر بند اور جرمانے کر رہے ہیں جبکہ تھوک کے تاجروں کو پوچھا نہیں جاتا۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شہروں میں کھانے پینے کی دوکانیں، ریڑھیاں ہوں یا چھوٹے بڑے ریستوران ہر جگہ باورچی خانوں اور ان مقامات کی صفائی بہتر نہیں جو کھانے پکانے کے لئے ہوتے ہیں، بلکہ آٹا گوندھنے سے سبزیاں کاٹنے اور گوشت دھونے تک کے عمل میں گندگی کی شکایات ہیں،فوڈ اتھارٹی نے اسی بنا پر چھاپے مارنا شروع کئے اور خاص طور پر کچن دیکھنے لگے۔ اکثر جگہ حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا جبکہ کھانے کا معیار بھی گھٹیا ہوتا ہے۔ اس بنا پر نہ صرف جرمانے کئے گئے بلکہ بعض ریستوران والوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔دوسری طرف گرانی پر قابو پانے کے لئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں نے چھاپے شروع کئے تو ان کی زد میں پرچون فروش اور ریڑھیوں والے ہی آئے اور ان کو بھاری جرمانے کئے گئے اور بعض نے حوالاتوں کی بھی سیر کی۔ہر دو امور میں جو اعتراضات کئے گئے وہ یہ ہیں ریستوران والوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی والے ماہر نہیں ہیں اور ان کو خود صفائی اور کام کا اندازہ نہیں اور یہ اندھا دھند کارروائی کرتے ہیں جو درست نہیں ہوتی۔

ادھر پرچون فروشوں نے احتجاج کیا کہ وہ جہاں سے سودا خریدتے ہیں وہاں سے مہنگا ملتا ہے اگر قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے تو وہاں سے شروع کریں جہاں تھوک کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خود سرکاری فہرستوں (مارکیٹ کمیٹی کے نرخ) والی قیمتوں کے حوالے سے یہ بات نوٹ کرنے والی ہے کہ یہ نرخ 30 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ یوں سرکاری مارکیٹ کمیٹیوں نے خود تسلیم کیا کہ نرخ منڈیوں سے بڑھے ہیں یہاں تو سیدھا سادا مطالبہ ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے تو تھوک فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں پر توجہ دی جائے۔دونوں صورتوں میں شکایات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ریستورانوں اور کھانے پینے کی اشیا کے معیار اور ان کی تیاری میں صفائی لازم ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ مالکان کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے ان کے تحفظات دور کئے جائیں دورے معنوں میں صفائی کے معیار کی پوری جانچ پڑتال ہو، جبکہ پرچون فروشوں کا شکوہ بھی بجا ہے کہ وہ تو روزی کمانے کے لئے تھوک مارکیٹ سے سودا خریدتے ہیں اور ان نرخوں کے مطابق اپنا منافع شامل کرتے ہیں اور عوامی رضا مندی کے لئے اپنے منافع کے بعد نرخ مقرر کر کے استعمال کرتے ہیں۔صفائی کے نظام کی چیکنگ کا کام بھی اچھا ہے اور تحفظات و شکایات بھی ایک حد تک درست لگتی ہیں بہتر ہوگا کہ ان تحفظات کا لحاظ رکھا اور ان کو دور کیا جائے اگر ریستوران والے صفائی کا یقین دلاتے اور اس کے لئے انتظامات کر رہے ہیں تو لحاظ کرنا چاہئے اور بہتری کا موقع دینا چاہئے۔ اسی طرح پرچون فروش بجا کہتے ہیں۔ جرم تو تھوک والے کرتے اور نرخ بڑھاتے گھٹاتے ہیں ان کو پکڑنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -