،ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ

،ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ

  

طویل مذاکرات کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا تاریخی معاہدہ بالآخر طے پا گیا۔یہ معاہدہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں،برطانیہ، روس، فرانس، امریکہ، چین اورجرمنی( جنہیں جی فائیو پلس ون کہا جاتا ہے) کے درمیان آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں17 دن کے مسلسل مذاکرات کے بعد طے پا یا۔اس معاہدے کو’جوائنٹ کومپری ہینسو پلان آف ایکشن ‘کا نام دیا گیا ہے۔ ڈیڑھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس معاہدے کو گزشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے اہم ترین معاہدے کی حیثیت حاصل ہے ۔اس کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی کم کر دے گا اور آئندہ پندرہ برسوں میں3.67فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کر سکے گا۔ایران آئندہ پندرہ برسوں میں اپنے موجودہ 10ہزار کلو گرام یورینیم کے سٹاک کو بھی 300 کلوگرام تک کم کرنے کا پابند ہو گا۔اس معاہدے کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام محدود ہو جائے گااوروہ ہتھیار بنانے کے قابل پلوٹونیم افزودہ نہیں کر سکے گا۔ شرائط کے مطابق ایران اپنے سینٹری فیوجز میں دو تہائی کمی کرتے ہوئے ان کی تعداد صرف 6 ہزار کردے گا جبکہ ا س وقت ایران کے پاس لگ بھگ 19 ہزار سینٹری فیوجز موجود ہیں۔ایران 15 سال تک بھاری پانی کے ری ایکٹر نہیں بنا سکے گا۔ اقوامِ متحدہ کے انسپکٹر 24دنوں میں جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ایران کی فوجی تنصیبات کے دوروں کا مطالبہ بھی کر سکیں گے،ایران کو اقوامِ متحدہ کے نگرانوں کی درخواست چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوگا اور اس صورت میں فیصلہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کا ثالثی بورڈ کرے گا۔ معاہدے کے بعد ایران کو تیل برآمد کرنے کی اجازت بھی مل جائے گی اور اس کے غیرملکی بنکوں میں موجود اربوں ڈالرکے اثاثے غیرمنجمد کر دیئے جائیں گے۔ ایران کے 800 ماہرین اور اداروں پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی جائیں گی۔ اس کے بدلے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت عالمی و بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں ایران پر لگی اقتصادی و تجارتی پابندیوں کو ختم کر دیں گی تاہم اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو 65 روز کے اندر ایران پرتمام پابندیاں دوبارہ عائد کر دی جائیں گی۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ ایران پر اسلحہ کی پابندیاں پانچ سال تک برقرار رہیں گی، معاہدہ کے تحت 5 سال تک ایران کو اسلحہ کی فراہمی ممکن نہیں تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خصوصی اجازت کے بعداسلحہ فراہم کیا جا سکے گا۔ امید ہے کہ یہ معاہدہ اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کر دیا جائے گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مثبت رابطوں کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں اور اب وہ مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں گے۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ یورپ معاہدے کی پاسداری کرے گا تو ایران بھی کرے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسے ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیتے ہوئے خیرمقدم کیا ۔امریکی صدر باراک اوباما نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ تھا اور ایران کے لئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تمام راہیں بند کر دی گئی ہیں، یہ معاہدہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اہم رکاوٹ بنے گا۔ صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکی کانگریس نے معاہدے کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن اسرائیل اس سے شدید تکلیف کا شکار ہے، جہاں سارے اسے ’تاریخی معاہدہ‘ مان رہے ہیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسے ’تاریخی غلطی‘ کا نام دیا ہے۔

جب سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خبریں منظر عام پر آنا شروع ہوئیں، ایران کے ساتھ بہت سے مذاکرات کئے گئے، لیکن مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکے۔2002ء میں برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے مذاکرات کئے ، انہیں ای تھری کا نام دیا گیا تھا۔ان میں شامل ہونے کی وجہ ہی سے جرمنی کو حالیہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا، لیکن اس بات چیت سے کچھ حاصل نہ ہوااور ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو فروغ دینے کا کام جاری رکھا۔اس کے بعدایران اور امریکہ، برطانیہ،فرانس ، روس ،چین اور جرمنی کے درمیان 2006ء میں بات چیت کا آغاز ہوا،جن میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ان طاقتوں کی خواہش تھی کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام محدود کردے اوریقین دلائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا،جبکہ ایران کا ہمیشہ موقف رہا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُر امن ہے۔جون 2010ء میں امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف تفصیلی پابندیوں کا ایکٹ پاس کر دیاجسے جولائی 2010ء میں امریکی صدر کے دستخطوں کے بعد قانون کی شکل دے دی گئی تھی۔ اس ایکٹ کے تحت ایران پرپابندیاں انتہائی سخت کر دی گئیں۔اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے علاوہ مختلف ممالک کی جانب سے بھی ایران پرمختلف پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے کئی پابندیاں عائد کیں ساتھ ہی یورپی یونین نے ایران کے تیل کی برآمد پر بھی پابندی لگا دی ۔ایران کو سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹر بینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن جسے عرفِ عام میں ’ سوئفٹ‘ کہا جاتا ہے سے بھی باہر کر دیا گیا۔

2013 میں مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز ہوا،چند ماہ بعد امریکی صدر نے ایرانی صدر حسن روحانی کو فون کیا،34 سال میں دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا یہ پہلا رابطہ تھا۔بہر حال کوششیں رنگ لائیں اور اسی سال نومبر میں جینیوا میں ایران ، امریکہ اور باقی ممالک کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پایا جسے ’جوائنٹ ایکشن پلان ‘اور’ جینیوا اکارڈ‘ کا نام دیا گیا۔اپریل 2015 میں فریم ورک پر بھی اتفاق رائے ہو گیا اور اسی کی روشنی میں اب یہ معاہدہ طے پایا ہے۔

اس جوہری معاہدے کے طے پانے کے بعد پاکستان اور ایران کے مابین بھی معمول کے تجارتی تعلقات بحال ہونے کی توقع ہے، کھٹائی میں پڑے پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی اور توانائی کے بہت سے معاہدوں پر عملدرآمد بھی ممکن ہو سکے گا ۔پاک ایران تجارت میں بھی اضافے کاواضح امکان ہے، ایران پر پابندیوں سے پہلے پاک ایران دوطرفہ تجارت دو ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو کم ہو کر صرف 30 کروڑ ڈالر رہ گئی۔بلاشبہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ خوش آئند ہے۔اس سے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے موجود تلخی میں کمی آ ئے گی، دونوں کے درمیان باہمی تعلقات کا آغاز ہو گا وہیں ایران پر غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے۔اس معاہدے کے بعد مشرق وسطیٰ میں منظرنامہ تبدیل ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔اب دونوں اطراف کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ ایران پر لازم ہے کہ وہ اس معاہدے پر پوری طرح کاربند ہو، اس کی مکمل پاسداری کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم کرنے میں مدد ملے۔

مزید :

اداریہ -