حکومت ماربل صنعت کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے

حکومت ماربل صنعت کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے

  

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مزمل حسین صابری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ماربل صنعت کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے کوششیں تیز کرے کیونکہ ماربل کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے اور ماربل مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کر کے پاکستان ماربل شعبے کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ماربل اور گرینائٹ کے ذخائر رکھنے والا چھٹہ بڑا ملک ہے کیونکہ ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں ان قیمتی پتھروں کے تقریبا 297ارب ٹن کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ تاہم اتنے وسیع ذخائررکھنے کے باوجود ماربل کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ صرف 2فیصد تک ہے جو بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماربل کی صنعت 30ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔

لیکن بجلی بحران، ماربل نکالنے کے پرانے طریقے، خام مال کی تواتر سے سپلائی کا فقدان، ویلیو ایڈیشن کی کمی، ماربل نکالنے والے علاقوں میں سیکیورٹی کی غیر تسلی بخش صورت حال اور ان علاقوں میں بہتر انفراسٹریکچر کی کمی ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ماربل کی صنعت اپنی اصل صلاحیت کے مطابق ترقی کرنے میں ناکام رہی ہے۔لہذا انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے۔مزمل صابری نے کہا کہ چین، اٹلی اور کئی دوسرے ممالک پاکستان سے خام ماربل کی سلیب اور بلاک خرید کر اور ان کی ویلیو ایڈیشن کر کے دنیا میں ماربل مصنوعات کی برآمد کر رہے ہیں اور کئی گنا بہتر زر مبادلہ کما رہے ہیں ۔ لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ماربل صنعتکاروں کے ساتھ ماربل مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کیلئے تعاون کرے جس سے پاکستان کی برآمدات میں کافی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماربل مصنوعات کا معیار بہتر کرکے اور ان کی ویلیو ایڈیشن کر کے سعودی عرب، مشرق وسطہ، روس، امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے متعدد ممالک کو ماربل مصنوعات برآمد کر سکتا ہے جس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد شکیل منیر اور نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ نے کہا کہ ماربل کے سینکڑوں پراسسنگ یونٹس اس وقت مقامی تیار کردہ مشینر ی استعمال کر رہے ہیں جس سے پیداوار مطلوبہ معیار کے مطابق حاصل نہیں ہو رہی تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ماربل نکالنے کی مشینری کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانے میں تعاون کرے جس سے پیداوار بہتر ہو گی اور برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلاسٹنگ کے ذریعے ماربل نکالا جاتا ہے جس سے یہ قیمتی پتھر بہت زیادہ مقدار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ماربل کی سٹینڈرڈ ویسٹیج 45فیصد ہے جبکہ پاکستان میں ماربل کی سٹینڈرڈ ویسٹیج85فیصد ہے جو عالمی سٹینڈرڈ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماربل نکالنے کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ماربل صنعتکاروں کی ہر ممکن مدد کرے تا کہ اس قیمتی پتھر کے غیر ضروری ضیائع کو روکا جا سکے اور پیداوار بہتر کر کے ماربل برآمدات کو صلاحیت کے مطابق فروغ دیا جا سکے

مزید :

کامرس -