ودہولڈنگ ٹیکس کامعاملہ افہام و تفہیم سے حل کیاجائے: لاہورچیمبر

ودہولڈنگ ٹیکس کامعاملہ افہام و تفہیم سے حل کیاجائے: لاہورچیمبر

  

لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرے تاکہ تاجروں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا اور ملک میں کاروبار دوست ماحول یقینی بنایا جاسکے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ ملکی معیشت حکومت اور تاجروں کے درمیان کسی محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہوسکتی لہذا حکومت اس معاملے کا کوئی ایسا بہترین حل نکالے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بینکوں سے لین دین پر عائد ٹیکس کے معاملے پر کمیٹی قائم کرنے اور ستمبر تک ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی اچھے اقدامات ہیں لیکن تاجر اس پر مطمئن نہیں ، اس معاملے کا جلد از جلد فیصلہ بھی ہونا چاہیے تاکہ تاجر برادری بینکوں سے لین دین کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے لین دین پر ٹیکس عائد کرکے حکومت نے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوگا کیونکہ متعلقہ اداروں کے پاس فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان فرق جاننے کے لیے قابل اعتماد ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ بہتر یہ ہوتا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے کوئی اور دانشمندانہ طریقہ کار اختیار کرتی۔

اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ اگر کمیٹی کوئی قابل قبول فیصلہ نہ کرسکی تو پھر تاجر بینکوں کے ذریعے لین دین بند کردیں گے جس سے حکومت کو محاصل کے نام پر کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور دوسری طرف بینکنگ سیکٹر تباہ ہوجائے گا جس کی بدولت بالآخر حکومت کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ بینکوں کے لین دین پر ٹیکس عائد کرنا قطعی طور پر ایک غیر منطقی فیصلہ تھا ، اگر یہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو متوازی بینکاری یعنی ہنڈی و حوالہ اور نقد لین دین کو فروغ ملے گا جس سے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تاجروں کو شدید خطرات لاحق ہونگے۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ودہولڈنگ ٹیکس تاجروں کو بینکوں کے ذریعے لین دین سے متنفر کردے گا جس سے بینکنگ سیکٹر تباہ اور متوازی بینکنگ کو فروغ حاصل ہوگا جو کسی طرح بھی معیشت کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کا معاملہ فوری طور پر افہام و تفہیم سے حل کرے۔

مزید :

کامرس -