ریحام خان کی ڈگری کا معاملہ۔۔۔؟

ریحام خان کی ڈگری کا معاملہ۔۔۔؟
ریحام خان کی ڈگری کا معاملہ۔۔۔؟

  

مشتاق احمد یوسفی صاحب نے ریحام خان کی ڈگری والے معاملے پر ٹویٹ کیا ہے کہ اب انہیں احساس ہوا ہے کہ عمران خان تعلیم پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں، لیکن پھر بھی نواب اسلم رئیسانی کا فقرہ کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے۔ اصلی یا نقلی کی کیا بات ہے۔بہتر اور تاریخی ہے۔ جب سابق صدر پرویز مشرف نے الیکشن لڑنے کے لئے بی اے کی ڈگری کی شرط عائد کی تھی تو بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان انتخابی سیاست سے آؤٹ ہو گئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ان کی اتنے سال کی سیاسی جدوجہد بی اے کے برابر نہیں ، لیکن طے یہی ہوا تھا کہ ان کی تمام سیاسی جدو جہد بی اے کے برابر نہیں تھی۔

ریحام خان نے اپنی ڈگری والے معاملے پر گو کہ سارا غصہ پاکستانی میڈیا پر نکال دیا ہے۔ حالانکہ وہ خود بھی اس وقت پاکستانی میڈیا کا حصہ ہیں۔ ان کا یہ بھی موقف ہے کہ ان کی ڈگری والی خبر پر رپورٹر نے محنت نہیں کی۔ شائد وہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی ڈگری میں ابھی اور بھی سقم ہوں ۔ اور رپورٹر ان اسقام تک نہ پہنچ سکا ہو۔ اس لئے وہ سمجھ رہی ہیں کہ رپورٹر نے محنت نہیں کی ہے۔ ورنہ وہ باقی کہانی تک بھی پہنچ سکتا تھا۔

ریحام خان کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی ڈگری میں سقم اس لئے خبر نہیں ہے کہ وہ ریحام خان ہے، بلکہ یہ اس لئے خبر ہے کہ وہ زوجہ عمران خان ہیں۔ بطور ایک لیڈر کی اہلیہ ان کی ڈگری ایک خبر ہے۔ جیسے ان کی شادی ایک خبر تھی۔ جیسے ان کی شادی کی تصویریں ایک خبر تھیں۔ ان کا نکاح ایک خبر تھا۔ ان کا حق مہر ایک خبر تھا۔ اس لئے انہیں غصہ میں آنے کی بجائے اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ میڈیاان کی ہدایات پر نہیں چل سکتا کہ وہ جس چیز کو چاہیں وہ خبر بن جائے اور جس کو نہ چاہیں وہ خبر نہ بنے۔

وہ بطور عمران خان کی اہلیہ بڑی بڑی تقریبات سے خطاب کرتی ہیں ۔ اسے میڈیا خبر بنا تا ہے اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ وہ میڈیا سے براہِ راست بات کرتی ہیں۔ اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن ڈگری والی خبر پر انہیں اعتراض ہے اور انہوں نے کہہ دیا ہے کہ وہ اسی لئے نہ تو پاکستانی میڈیا دیکھتی ہیں اور نہ ہی اس کو کوئی اہمیت دیتی ہیں، حالانکہ وہ اس کا خود حصہ ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ وہ ڈیلی میل بھی نہیں دیکھتی ہیں، حالانکہ یہ وہی ڈیلی میل ہے، جس نے ان کی شا دی کی خبر بریک کی تھی۔ اس لئے ریحام خان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ڈیلی میل کے پاس ان کی ذاتی زندگی تک رسائی ہے۔ اس لئے اس بار بھی یہ خبر کسی نے باہر سے ڈیلی میل کو نہیں دی، بلکہ کسی نے اندر سے ہی مخبری کی ہے۔ محترمہ ریحام خان کو اپنے ارد گرد ڈیلی میل کا مخبر ڈھونڈنا چاہئے۔ شائد شادی کی خبر بریک ہونے پر وہ خوش تھیں ۔ اس لئے انہوں نے مخبر پر زیادہ توجہ نہیں دی، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ انہیں مخبر کی تلاش کرلینی چاہئے، کیونکہ اس بات کا واضح خطرہ موجود ہے کہ یہ مخبر آئندہ کوئی اس سے بھی خطرناک خبر ڈیلی میل کو دے دے اور وہاں سے پاکستانی میڈیا کو مل جائے۔ ویسے بھی سوشل میڈیا پر ابھی مولانا طارق جمیل کی افطاری کی تصویروں پر تبصرہ ختم نہیں ہوا تھا، کہ یہ ڈگری والی خبر آگئی ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ اس خبر کی کوئی قانونی حیثیت اس طرح نہیں ہے کہ ریحام خان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے، جو اس ڈگری والے معاملے کی وجہ سے خطرہ میں پڑ جائے۔ شکر ہے کہ انہیں ابھی کے پی کے میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے ابھی کوئی انتخاب لڑا تھا۔ کہ ان کی سیٹ خطرہ میں پڑ جاتی۔ حالانکہ یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔ کہ انہیں انتخاب لڑوانے کا سوچا جا رہا ہے۔ اس لئے اس خبر سے ریحام خان کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے ۔ وہ اس خبر سے ایک مشکل میں ہوں گے، کیونکہ اخلاقی اعتبار سے یہ خبر ان کے لئے اچھی نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک جعلی ڈگری کے حوالے سے ایک سخت موقف رکھا ہے۔ کسی بھی جعلی ڈگری والے کو ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہواہے۔ ان کے ایک ممبر کی ڈگری کا معاملہ پہلے ہی میڈیا میں کافی شور مچا چکا ہے۔ گو کہ اس پر تحریک انصاف نے اپنے اس ممبر کا ساتھ دیا ہے۔ اسی لئے اس بار بھی تحریک انصاف اور عمران خان ریحام خان کے ساتھ ہی کھڑے ہو نگے۔ ویسے بھی عمران خان نے کسی ڈگری کی وجہ سے تو ریحام خان سے شادی نہیں کی ہے۔ جو ڈگری اصلی نہ ہونے کی وجہ سے شادی خطرہ میں پڑ جائے۔

پاکستا ن میں پہلے تو جعلی ڈگریوں کی ایک فیکٹری لگی ہوئی تھی۔ لوگ شادی میں اچھے رشتہ کے لئے بھی ڈگری حاصل کرتے تھے۔ تا کہ یہ کہہ سکیں کہ لڑکے یا لڑکی نے یہ ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ چاہے وہ ڈگری اس لڑکے یا لڑکی کا ذریعہ معاش نہ بھی ہو۔ صرف ٹیگ کے لئے بھی ڈگریاں ھاصل کی جاتی ہیں۔ یہ ڈگریاں دینے والی نجی فیکٹریاں بڑے بڑے صنعت کاروں اور جاگیرداروں کی اولادوں کو ان کا سماجی رتبہ بڑھانے کے لئے بھاری معاوضہ کے عوض ڈگریاں دیتی ہیں، لیکن اب عوام میں ان ڈگریوں کے حوالے سے شعور پیدا ہو چکا ہے اور اب یہ ڈگریاں باعث عزت نہیں، بلکہ باعث ندامت ہیں۔

مزید :

کالم -