ایران ایٹمی معاہدہ ،اوبامہ اور کانگریس کے درمیان معرکہ شروع

ایران ایٹمی معاہدہ ،اوبامہ اور کانگریس کے درمیان معرکہ شروع

  

 واشنگٹن (بیورو چیف، اظہر زمان ) ایران کے ایٹمی پروگرام پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا دورانیہ تو تیرہ سال تک محیط ہے۔ تاہم مفاہمت کا تازہ سلسلہ جو نومبر2013ء سے شروع ہوا تھا وہ سخت صبر آزما مراحل سے گزر کر بالآخر 14جولائی 2015ء کو ایک باقاعدہ معاہدے پر منتج ہوا۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں سب کی جیت ہے کیونکہ ایران، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے اس سے کافی کچھ حاصل کیا۔ یہ معاہدہ 13جولائی کی آخری ڈیڈ لائن کو ہونے جا رہا تھا لیکن آخری مرحلے پر ڈپلومیسی کے ماہر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے 2007ء اور2008ء میں ایران پر اقوام متحدہ کی طرف سے اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی ہٹانے کا معاملہ بھی معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ وقتی طور پر تعطل کی صورت پیدا ہوئی۔ یہ مطالبہ تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ مان لیا گیا کہ ایران کی خواہش کے مطابق ایسا فوری طور پر نہیں ہو گا بلکہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز فوجی تنصیبات کا معائنہ کر کے ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دیں گے تو اسلحے کی پابندیاں مرحلوں میں اٹھنا شروع ہو جائیں گی۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی سودے بازی سخت تھی اور اس نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کی حمایت سے بہت کم لچک دکھائی، وزیر خارجہ جان کیری صدر اوبامہ کے اس موقف کی نمائندگی اس لئے کر رہے تھے کہ وائٹ ہاؤس کو کانگریس اور امریکی عوام کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے حامیوں کو ایک ’’اچھا معاہدہ‘‘ دکھانا تھا۔ روس اور چین کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں اور وہ اسے زیادہ سے زیادہ رعایتیں دلوانے کے لئے کوشاں رہے۔ لیکن جس جگہ ضرورت پڑی وہاں امریکی مذاکرات کاروں نے کچھ ترمیموں کے ساتھ ایران کے متعدد نکات کو بنیادی طور پر تسلیم کر لیا، کچھ مراحل ایسے بھی آئے جب روس اور چین کے سوا دیگر یورپی مندوبین نے امریکی وزیر خارجہ کو واک آؤٹ کرنے کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی وہ دیکھ رہے تھے کہ امریکہ صرف دھمکی دے رہا ہے اس پر عمل نہیں کر رہا۔ واک آؤٹ کی صورت میں اگرچہ ایران کا نقصان زیادہ ہونا تھا لیکن یہ امریکہ کی بھی سفارتی ناکامی شمار ہوتا اس لئے امریکی مذاکرات کاروں نے صبر سے تعطل دورکرنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لی ایران کی کامیابی یہ ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کا ایٹمی پروگرام رول بیک نہیں ہوا۔ عالمی طاقتوں نے اس پروگرام کو محدود کر دیا۔ اس کا جواز یہ دیا گیا کہ ایران کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اگر ثابت کرے کہ اس کا پروگرام ایٹم بم بنانے کی بجائے پرامن مقاصد کے لئے ہے تو وہ اسے شفاف انداز میں محدود طریقے سے جاری رکھ سکتا ہے۔ عالمی طاقتوں کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اگر ایران کے ایٹمی پروگرام کے محدود طریقے سے جاری رہنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تو اسے اتنا شفاف اور قابل معائنہ رکھنے کی ضمانت بھی حاصل کی ہے اور اس میں طویل مدت کے سنگ میل رکھے ہیں۔ کچھ دس سال ،کچھ پندرہ سال، کچھ بیس سال کچھ پچیس سال اور کچھ ہمیشہ کے لئے ہیں۔ ایرا ن کے مطالبے پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ معاہدے کی اقوام متحدہ سے آشیر باد کے حصول کے لئے سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان اور جرمنی ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے معاہدے کی توثیق کریں گے۔ ایران کی معیشت اقتصادی پابندیوں کے باعث سخت تکلیف میں مبتلا ہے ان پابندیوں کے مرحلہ وار اٹھنے سے یقیناًایران کو ریلیف ملے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایٹمی پروگرام سے منسلک پابندیاں یقیناًاٹھیں گی لیکن ایسے ایرانی بینکوں اور توانائی کی کمپنیوں پر پابندیاں نہیں اٹھیں گی جن کا القدس فورس سے تعلق نکلے گا کیونکہ اس پر دہشتگردی ایکسپورٹ کرنے کا الزام ہے۔ امریکی حکام معاہدے کی اس دفعہ کو بھی اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے مطابق اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس پر عائد پابندیاں دوبارہ بھی لگ سکتے ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر مبصرین کے مطابق اس معاہدے کے اصل امتحانات جلد آنے والے ہیں جو دونوں فریقوں کی اپنی اپنی تشریحات کے مطابق اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا ۔ ادھر واشنگٹن میں صدر اوبامہ ایران کی جنگ کیپٹل ہل سے لڑنے کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قانون ساز اور سیاسی حلقوں میں معاہدے کے حق اور مخالفت میں محاذ آرائی کا پہلے ہی آغاز ہو چکا ہے ۔ کانگریس میں ری پبلکن ارکان عمومی طور پر اس ڈیل کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ جنوبی کیرولینا سے ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر لنڈ سے گراہم جو صدارتی امیدوار بھی ہیں کہتے ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ نے دشمن ملک ایران کے ساتھ ڈیل کر کے اسرائیل کے خلاف کھلی جنگ شروع کر دی ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے سب سے مضبوط صدارتی امیدوار جیب بش کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل بہت خطرناک ہے جس میں بہت سی خامیاں ہیں ۔ تاہم ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک اہم قدم قرار دیا ۔ اسرائیلی لابی کانگریس کو وائٹ ہاؤس کے خلاف ابھارنے کے لئے سرگرم ہو چکی ہے۔ ابھی دیکھنا ہے کہ اوبامہ کانگریس کو مطمئن کر کے اعتماد کا ووٹ لیتے ہیں یا پھر ویٹو کا استعمال کرتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -