افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا عمر نے افغان امن مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر دیا

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا عمر نے افغان امن مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر ...

  

کابل(اے این این) افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا محمد عمر مجاہد نے طویل عرصے بعد اپنا پیغام جاری کیا ہے جس میں افغان امن مذکرات کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان پر پاکستان اور ایران کا کوئی اثر نہیں ،ہم کسی دوسرے ملک کے ایجنٹ نہیں اس طرح کا الزام مسترد کرتے ہیں،طالبان پاکستان اور ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں،مری میں ہونے والے مذاکرات قانونی تھے،طالبان مذاکرات کاروں کو قیادت کی حمایت حاصل تھی،مجاہدین اور افغان حکومت مطمئن رہیں،میں قانونی حقوق اور نقطہ نظر پر ثابت قدم رہوں گا،ہمارا مقصد ملک سے غیر ملکی قبضے کا خاتمہ ہے۔فرانسیسی خبر ایجنسی کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے امیر ملا عمر نے طالبان کی آفیشل ویب سائٹ پر طویل عرصے بعد اپنا ایک پیغام جاری کیا ہے۔یہ پیغام عید الفطر کی مناسبت سے جس میں ملا عمر نے افغان عوام اور مسلمانوں کو عید کی پیشگی مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے بیان میں ملا عمر نے افغان امن مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات قانونی تھے۔ان مذاکرات میں شریک طالبان کے نمائندوں کو طالبان قیادت کی حمایت حاصل تھی۔انھوں نے کہا کہ ان مذکرات کا مقصد افغانستان سے غیر ملکی قبضے کا خاتمہ کرنا ہے۔ ملا عمر نے کہاکہ اسلام دشمن کے ساتھ مذاکرات اور امن کوششوں کو منع نہیں کرتا ۔انہوں نے کہاکہ مسلح جہاد کے ساتھ سیاسی جدوجہد اور امن عمل ان کے پاکیز مقاصد کے حصول کیلئے جائز اسلامی اصول ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام مجاہدین اور افغان حکومت اس امن عمل کے حوالے سے مطمئن رہیں ،میں قانونی حقوق اور نقطہ نظر پر ہرجگہ ثابت قدم رہوں گا ۔طالبان پر ایران اور پاکستان کے اثر ورسوخ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے طالبان رہنما نے کہاکہ کچھ حلقے مجاہدین پرپاکستان اور ایران کے ایجنٹ ہونے کے الزامات عائد کررہے ہیں جبکہ یہ حقیقت کے برعکس سراسر غلط الزام ہے ۔طالبان ایران اور پاکستان سمیت خطے اور دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے تھے ۔انہوں نے حملوں کے دوران مجاہدین کی عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی ۔

مزید :

صفحہ اول -