نیب انتظامی بورڈ کا اجلاس،درجنوں مقدمات کی تحقیقات کی منظوری

نیب انتظامی بورڈ کا اجلاس،درجنوں مقدمات کی تحقیقات کی منظوری

  

اسلام آباد ( آئی این پی ) نیب کے انتظامی بورڈ نے اربوں روپے کے مضاربہ اور مشارکہ کیس میں مفتی احسان سمیت 36 ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا، سابق صوبائی وزیر ریونیو خیبرپختونخوا سید مرید کاظم کے خلاف نیفرو کی قیمتی اراضی کی غیر قانونی منتقلی سمیت3مقدمات کی تحقیقات کی منظوری بھی دی ہے ، اراضی کیس میں نیفرو کے کموڈور (ر) سرفراز افضل کا مقدمہ پاک بحریہ کوبھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، سیندک میٹل لمیٹڈکی انتظامیہ کے خلاف 6مقدمات کی انکوائریوں کی بھی منظوری دیدی گئی ، کراچی پورٹ ٹرسٹ کوآپریٹو سوسائیٹی کی انتظامیہ کے خلاف سابق سنیٹر سردار فتح محمد حسنی کو غیر قانونی طور پرپلاٹ الاٹ کرنے کا الزام کے تحت شکایات کی تصدیق کی جائیگی ، سابق ایم ڈی پی ٹی وی قاضی مصطفیٰ کمال ، سابق ایم پی اے نعیم اللہ شاہانی اور علیم اللہ شاہانی اور تحصیل ناظم بھکر کے خلاف ناکافی شواہد کی بنیاد پر انکوائری ، چیف ایگزیکٹو بلاسم ٹاول انڈسٹری عطار میاں محمد اجمل اور یاسمین کے خلاف ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز سکولز ڈسٹرکٹ جیکب آباد شاہ محمد دروہی و دیگر کے خلاف بھی تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ ، سیکرٹری فنانس سندھ سہیل راجپوت اور دیگر کے خلاف بھی ناکافی شواہد کی بنیاد پر شکایات کی تصدیق بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بدھ کو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے ۔ اجلاس میں اربوں روپے کے مضاربہ اور مشارکہ کیس میں مفتی احسان سمیت 36 ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اس کیس میں ملزم اور میسرز فیاضی گوجرانوالہ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مفتی محمد احسان الحق اور دیگر پر مضاربہ اور مشارکہ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے اور لوگوں سے دھوکہ دہی کے تحت 8 ارب روپے بٹورنے کا الزام ہے ۔ انتظامی بورڈ نے تین تحقیقات کی بھی منظوری دی جس میں پہلی تحقیقات سابق صوبائی وزیر ریونیو خیبرپختونخوا سید مرید کاظم اور اس وقت کے ایس ایم بی آر احسان اللہ کے خلاف ہیں ، اس کیس میں ملزمان پر ڈیرہ اسماعیل خان میں 1976کنال قیمتی اراضی غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کا الزام ہے ، غیر قانونی کام کے تحت قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ۔ ملزم پر نیفرو کی 182 کنال کی رہائشی اور کمرشل اراضی ریونیو افسران کو دینے کا الزام ہے ، نیب کے انتظامی بورڈ نے نیفرو کے کموڈور (ر) سرفراز افضل کا کیس پاکستان نیوی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جاسکے ۔ دوسرے کیس میں محکمہ ریونیو کے افسران کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی اس میں محکمہ کے حکام اور افسران پر سرکار کی 350 ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر غیر متعلقہ اشخاص کو الاٹ کرنے کا الزام ہے ۔ ملزمان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو 5 ارب 30 کروڑ کا نقصان پہنچایا ۔ انتظامی بورڈ نے اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے ریسرچ سٹیشن کیلئے اراضی خریدنے پر بورڈ کے افسران اور حکام کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی ۔ ملزمان نے قومی خزانے کو 3 کروڑ 32 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا ۔ انتظامی بورڈ نے 6 انکوائریوں کی اجازت کی بھی منظوری دی ۔ پہلی انکوائری ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے سابق چیئرمین سید آصف اختر ہاشمی کے خلاف کرنے کی منظوری دی ۔ اس کیس میں سابق وائس چیئرمین پی ٹی پی بی چوہدری ایاز احمد ، انویسٹمنٹ مینجمنٹ آفیسر فیضان شمس ،سیکرٹری جنید احمد ، شیراز ہاشمی اور دیگر کے خلاف فنڈز میں خرد برد اور اراضی کی الاٹمنٹ اور آکشن میں بدعنوانی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور قومی خزانے کو 721 ملین کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔ دوسری انکوائری بزنس مین و بلڈرز مجیب اللہ صدیقی کے خلاف ہوگی جس پر غیر قانونی طریقے سے اور رشوت دے کر سرکاری اراضی کے حصول کا الزام ہے ، اس طریقے سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔ تیسری انکوائری چین کی میٹالورجیکل کمپنی کو سونے کی تلاش کے حوالے سے اور بلیسٹر کاپر کی ملی بھگت سے غلط ٹھیکہ دینے پر سیندک میٹل لمیٹڈ کی انتظامیہ کے خلاف کی جائے گی ۔ اس کیس میں متعلقہ کمپنیوں نے حکومت پاکستان کو لیوی ادا نہ کی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ۔ چوتھی انکوائری نیلم کارپوریشن کے خلاف بینک اسلامی پاکستان کا 83.734 ملین روپے کا نادہندہ ہونے ، پانچویں انکوائری بھی اسی طرح اعظم کیمیکل کمپنی کے خلاف ہوگی جو بینک اسلامی پاکستان کی 51.351 ملین روپے کی نادہندہ ہے ، چھٹی انکوائری ٹرانز لیویا پرائیوٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز اور گارنٹرز کے خلاف ہوگی جس پر بینک اسلامی پاکستان کے 104.722 ملین روپے کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے ۔ نیب کے انتظامی بورڈ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کوآپریٹو سوسائیٹی کی انتظامیہ کے خلاف شکایات کی تصدیق کا بھی فیصلہ کیا اس کیس میں ملزمان پر کمرشل پلاٹ نمبر ایف ایل نائن اور ٹین سابق سنیٹر سردار فتح محمد حسنی کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام ہے بورڈ نے سابق ایگزیکٹو پیسکو پشاور محمد ولی کی جانب سے رضاکارانہ طور پر 31.5 ملین روپے کی واپسی کی درخواست بھی منظور کرلی ہے ۔ ملزم پر حیثیت سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام تھا ، نیب بورڈ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی قاضی مصطفیٰ کمال ، سابق ایم پی اے نعیم اللہ شاہانی اور علیم اللہ شاہانی اور تحصیل ناظم بھکر کے خلاف ناکافی شواہد کی بنیاد پر انکوائری بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ چیف ایگزیکٹو بلاسم ٹاول انڈسٹری عطار میاں محمد اجمل اور یاسمین کے خلاف ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز سکولز ڈسٹرکٹ جیکب آباد شاہ محمد دروہی و دیگر کے خلاف بھی تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کے خلاف شکایات کی تصدیق ، سیکرٹری فنانس سندھ سہیل راجپوت اور دیگر کے خلاف بھی ناکافی شواہد کی بنیاد پر شکایات کی تصدیق بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اجلاس کے دوران نیب کے انتظامی بورڈ کو بتایا گیا کہ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے حکام اور افسران کے خلاف فراڈ اور کار پوریشن میں لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے بھرتی کرنے کے معاملہ کی تحقیقات ایف آئی اے نے کیں ، اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ کیس 16 اے این ا و کے تحت بینکنگ کورٹ سے احتساب عدالت کو منتقل کیاجائے ، اس کیس میں ملزمان پر مختلف لوگوں سے ناموں سے دھوکہ دہی کے تحت اور غیر قانونی طور پر بینک اکاؤٹ کھلولے اور ان کے ذریعے سے غیر قانونی اور جعلی طور پر تنخواہیں وصول کرنے کا الزام ہے ۔ اس موقع پر چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ قومی احتساب بیورو ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کی سرگرمیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سرگرم ہے۔

مزید :

صفحہ اول -