پاکستان اب اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت!

پاکستان اب اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت!

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین

ہمارے دوست منور حسین مرزا وکیل اور پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب و شاعر اور دانشور بھی ہیں اور ہمیشہ تاریخی پس منظر کے ساتھ حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے ہیں۔ایران اور چھ ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے انہوں نے خوبصورت بات کی ہے وہ کہتے ہیں،’’اب پاکستان اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت ہے اور اس میں ایران کی ایٹمی اسلحہ سازی بالکل رد کر دی گئی ہے۔ یوں پاکستان کے سوا کسی اور اسلامی مُلک کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی نہیں ہوں گے، ان حالات میں پاکستانی قوم کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا اور بہت خبردار رہنا ہو گا اور اپنے پتے بہت ہوشیاری سے کھیلنا ہوں گے‘‘۔ آخر میں انہوں نے اللہ سے رحمت اور مہربانی کے لئے دُعا بھی کی ہے۔

منور حسین مرزا کا خیال بالکل درست اور ان کی دور پر نظر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو سامنے آئی ہے، اس میں اب یہ احتیاط اور بھی لازم ہے کہ ہم اپنے ایٹمی پروگرام اور اب تک کی صلاحیت کی جو حفاظت کرتے چلے آ رہے ہیں اس سے بھی زیادہ کریں کہ یہ جو ممالک ایران کے پیچھے پڑے ہوئے تھے یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل اور بھارت کے پیٹ میں تو مروڑ اٹھتے ہیں، حالانکہ ہمارا پروگرام قطعی طور پر پُرامن اور دفاعی ہے جسے ہم طویل عرصہ سے ثابت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پھر بھی منور حسین مرزا نے جس طرف توجہ دلائی وہ ہمیں پیش نظر رکھنا ہو گی۔

اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو مغربی ممالک اپنے سوا کسی کو بھی ایٹمی قوت نہیں دیکھنا چاہتے۔چہ جائیکہ مسلمان مُلک ہوں اِسی لئے ہمارے ایٹمی پروگرام کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، ہماری مسلح افواج اس سلسلے میں بہت زیادہ محتاط اور خبردار ہیں، پھر بھی مزید بہتر کرنا بُرا نہیں۔

ایک بات جو بار بار کہی اور دہرائی جاتی ہے وہ مُلک کے اندر استحکام اور اتحاد کی ہے۔ اگر پاکستان کو اندرونی استحکام مل جائے تو اس ایٹمی پاکستان کی بے مثال ترقی ہو سکتی ہے۔ یہاں مسلسل سیاسی محاذ آرائی کے باعث ترقی کا پہیہ پوری رفتار سے نہیں چلتا، ہر کوئی اس اتحاد کی ضرورت محسوس کرتا ہے، لیکن عمل نہیں کرتا، ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارا نظام بھی ایسا ہو کہ وہ چلتا رہے۔ لوگ اور حکمران تو آتے جاتے رہتے ہیں، افسوس کا مقام ہے کہ یہاں کرپشن سے جرائم تک بہت الجھے ہوئے مسائل ہیں، جو لاینحل ہو گئے ہیں۔ ہمارے سیاست دان حضرات خود ایسے مواقع پیدا کرتے ہیں کہ ان کو مورد الزام ٹھہرایا جائے، کرپشن کی کہانیاں عام ہو جاتی ہیں، جو برسر اقتدار ہو وہ جانا نہیں چاہتا اور جو منتظر ہے وہ وقت کب ہو جب اس کی باری آئے، اس کے لئے بہت کچھ کیا جاتا ہے۔ ویسے ہمارے سیاست دان رہنماؤں پر ہی کیچڑ اُچھلتی ہے تو بلاوجہ نہیں۔ اکثر سکینڈل منظر عام پر بھی آ جاتے ہیں تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے نام سے جو سلسلہ چلا وہ کچھ زیادہ ہی دور چلا گیا ہے۔ اسے دیکھنے کی ضرورت ہے، خود سیاست دانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں میں سے کرپشن نکالیں، ان کو خود اپنا احتساب کر لینا چاہئے۔ بہتر عمل پارلیمنٹ کے ذریعے اب خود مختار آزاد، غیر جانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن اور احتساب کمیشن بنانے میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے۔ خود حکمران جماعت کو مکمل کوشش کرنا چاہئے کہ ایسا ہو، نظام بن جائے ٹھیک ہو تو برائیاں بھی کم ہو جائیں گی۔ ضرورت بھی اِسی امر کی ہے، ورنہ دشمن تاک میں ہیں۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا تو پھر بھی کافی محتاط ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر تو عدلیہ کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا، کوئی بہتر طرز عمل اور طریقہ اختیار کیا جانا چاہئے، کہ اصل ہدف اور شکار تو عوام ہیں جو روز بروز پستے چلے جا رہے ہیں۔ آخر کب تک۔۔۔۔۔۔

مزید :

تجزیہ -