ایمنسٹی سکیم کی آڑ میں سینکڑوں سمگل شدہ گاڑیاں رجسڑڈ

ایمنسٹی سکیم کی آڑ میں سینکڑوں سمگل شدہ گاڑیاں رجسڑڈ

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ایمنسٹی سکیم کی آڑ میں سینکڑوں سمگل شدہ لینڈ کروزرز ، پراڈو ، ہائی ایس اور کرولاگاڑیاں رجسٹرڈ کر دیں۔ انکشاف ہونے پر ایف بی آر نے گھوسٹ وہیکلز کی پوری فہرست محکمے کے حوالے کرتے ہوئے گاڑیوں کی رجسٹریشن کینسل کرنے کے لیے خط لکھ دیا۔ معلوم ہواہے کہ ایف بی آر کی طرف سے پاکستان کسٹمز کے ڈپٹی کلکٹر ہیڈ کوآرٹر ز نے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب کو ایک چٹھی نمبر C.NO.01/ASO-35/2015/191لکھی ہے۔ جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ حقائق کو چھپاتے ہوئے سینکڑوں سمگل شدہ لینڈ کروزرز ، پراڈو، ہائی ایس اور کرولا گاڑیاں ایمنسٹی سکیم کی آڑ میں رجسٹرکردی گئی ہیں۔خط کے ہمراہ رجسٹرڈ کی جانے والی 40گاڑیوں کی فہرست بھی محکمے کو ارسال کی گئی۔ اور لکھا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کی رجسٹریشن فی الفور کینسل کرتے ہوئے ان کے مالکان کے نام اور پتے پاکستان کسٹمز کو فراہم کئے جائیں تاکہ جعلسازی اور سمگلنگ کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب نے ایف بی آر کا یہ خط ضروری کارروائی کے لیے ڈایکٹر ایکسائز اینڈٹیکسیشن لاہور ریجن سی کو بھیج دیا ہے۔ذرائع کے مطابق 2013میں ایف بی آر نے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی تو اس سکیم کی آڑ میں ملک بھر میں جعلسازوں کی بن آئی اور انہوں نے شہر شہر موٹر رجسٹریشن اتھارٹیوں کی ملی بھگت سے سمگل شدہ ،ٹمپرڈ اور اور ہر طرح کی گاڑیوں کی بوگس دستاویزات پر رجسٹریشن شروع کردی۔ایف بی آر نے اور ایف آئی اے نے جعلسازی کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے کارروائی شروع کی توجعلسازوں نے چور دروازے ڈھونڈ لیے۔بتایا گیا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں موجود ہیں۔ جو ایمنسٹی سکیم کے تحت کلئیر کروائی گئی ہیں۔اور ان میں بڑی تعداد ایسی گاڑیوں کی ہے۔ جن کی دستاویزات درست نہیں ہیں۔ اور ان کی کلیرنس میں جعلسازی کی گئی ہے۔

ایمنسٹی سکیم

مزید :

صفحہ آخر -