پنجاب حکومت کا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈی ایس پیز کی بھرتیوں کا فیصلہ نوٹیفیکیشن جاری

پنجاب حکومت کا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈی ایس پیز کی بھرتیوں کا فیصلہ ...

  

 لا ہور (شعیب بھٹی )پنجاب حکومت کاپبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈی ایس پی بھر تی کر نے کا فیصلہ کر لیا ،سیکرٹری داخلہ نے نو ٹیفکیشن جاری کر دیا۔ دوسری جانب صوبائی دارلحکومت میں تعینات انسپکٹروں نے بد دل ہو کر استعفے تیار کرلیے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈی ایس پی بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان نے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پنجاب پولیس میں افسرا ن کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ڈائریکٹ ڈی ایس پی بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری قانون و پارلیمانی افئیرز،سیکرٹری پراسیکیوشن،سیکرٹری ریگولیشن ایس اینڈ جی اے ڈی اور ڈاکٹر عثمان صدیق پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بھرتی کے عمل کو آگے بڑھائے گی ۔محکمہ داخلہ کی طرف سے نوٹیفکیشن کی کاپی وزیر داخلہ پنجاب، آئی جی پولیس پنجاب،کمیٹی کے تمام ممبران اورراجہ جہانگیر انور ایڈیشنل سیکرٹری کو کیبنٹ منسٹری پنجاب کو ارسال کر دیا گیا ہے۔دوسری طرف نوٹیفکیشن کے جاری ہوتے ہیں پنجاب پولیس کے انسپکٹرز اور سب انسپکٹر مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں اور انہوں نے بد دل ہو کر اپنے استعفے تیار کر لیے ہیں کہ جیسے ہی پنجاب حکومت ڈائریکٹ ڈی ایس پی بھرتی کرتی ہے تو وہ اپنے استعفی جمع کروا دیں گے ۔ ترقی کے منتظر انسپکٹروں اور سب انسپکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹ ڈی ایس پی کے عہدے پر بھرتیوں سے ان کا حق مارا جا رہا ہے جو انسپکٹر اور سب انسپکٹرز10سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہے اور اب جب ان کی ترقیوں کا وقت آیا ہے تو حکومت ڈائریکٹ بھرتیاں کر رہی ہے جس سے ان کو حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس میں 3سے5سو تک ڈی ایس پیز بھرتی کیے جا سکتے ہیں جس کا فیصلہ تشکیل دی جانیوالی کمیٹی کرے گی ۔واضح رہے اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹوکے دور میں پولیس میں ڈائریکٹ ڈی ایس پی کے عہدے پر بھرتیاں کی گئی تھیں۔

ڈی ایس پیز بھرتی

مزید :

صفحہ آخر -