ڈسٹرکٹ جیل میں عید ی مہم تیز،غریب قیدیوں کے لواحقین خوار نذرانے دینے والوں کی موجیں

ڈسٹرکٹ جیل میں عید ی مہم تیز،غریب قیدیوں کے لواحقین خوار نذرانے دینے والوں ...

  

 لاہور(ملک خیام رفیق ،تصاویر ذیشان منیر)رشوت بند نہیں ہوئی طریقہ بدل دیا ہے ،وی آئی پی جب بھی آئے اور جہاں چاہے ملاقات ہو جاتی ہے، ہم لوگ وقت پر آئیں تو دھکے مار کر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے،تین روز سے وکالت نامے پر دستخط نہیں کروا سکے آج بھی منت سماجت سے ہی کام ہوا ہے ،کینٹین پر ریٹ فائیو سٹار ہوٹلوں والے ہیں اور چیزوں کا معیار گھٹیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہے ،کھانے کا سامان جمع کروایا مگر اندر نہیں پہنچتانذرانہ ہی کام دکھاتا ہے،ڈسٹرکٹ جیل میں ملاقات کے لئے آنے والے ملزمان کے اہل خانہ ’’پاکستان‘‘ کے سروے کے دوران پھٹ پڑے۔تفصیلات کے مطابق ماہ رمضان کے آخری عشرہ کے آغاز سے جیل حکام نے عیدی مہم تیز کر دی ،سائلین خوار ہونے لگے ۔روزنامہ’’پاکستان‘‘سے بات کرتے ہوئے امجد نے بتایا کہ یہاں حکام بالا کو رشوت نظر نہیں آتی کیونکہ یہاں رشوت کا طریقہ بدل دیا گیا ہے اب رشوت نذرانوں کی صورت میں وصول ہو رہی ہے وہ بھی جیل سے باہر، اندر تو کسی کو کانوں کان خبر ہی نہیں ہوتی، یہاں اب بھی غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ۔صفدر کے مطابق وی آئی پی کلچر ہر جگہ چھایا ہوا ہے اور جیل میں بھی اسی کا راج ہے کیونکہ یہاں سیاسی پشت پناہی اورپیسہ ہی سب کو نظر آتاہے، ہم لوگ یہاں کھڑے ہوتے ہیں اور پرچی کاٹی جاتی ہے پھر انتظار ہوتا ہے گھنٹوں بعد بار ی آتی ہے اور وہ بھی ایک مختصر وقت کے لئے ،مگر امیر آدمی یا سفارش والا لائن میں کھڑے ہونے کی بجائے سیدھا سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں جاتا ہے اور مرضی کے آدمی کو پرچی بھیج کر بلواتا ہے پھر اس کی مرضی کہ کب اس نے باہر آنا ہے۔ یہاں کوئی سسٹم نہیں ہے ، قانون تو صرف غریب آدمی کے لئے ہی ہوتا ہے ۔ممتاز اور شاہد نے بتایا کہ یہاں ملاقات کے لئے آئے تھے ملاقات تو ہوگئی مگر دل افسردہ ہو گیا ہے۔ جیل کے اندر بھائی نے بتایا ہے کہ روزوں میں باسی کھانا کھلایا جا رہا ہے مگر شکایت نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں رہنا بھی تو ہے، بھائی بیمار ہوگیا ہے۔ پولیس اہلکار کہتے ہیں کہ گھر سے کھانا منگوا کر کھا لو اس پر بھی روزانہ پیسے لگتے ہیں ۔طارق کے مطابق پولیس کا رویہ سائلین کے ساتھ انتہائی گھٹیا ہے لوگوں کو جانور سمجھا جاتا ہے۔ کینٹین کے ریٹ غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں سرکاری نرخ نامہ لگایا گیا ہے مگر اس پر عملدرآمدنہیں کروایا جاتا ،یہاں ملنے والی اشیاء انتہائی غیر معیاری ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ بلاول اور اختر کے مطابق یہاں سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے ایک آدمی صرف وی آئی پی کلچر کو ڈیل کرنے میں لگا ہوا ہے، جب بھی کوئی افسر کسی کی سفارش بھیجتا ہے تو اس کو پروٹوکول دیا جاتا ہے ۔ ہم لوگوں کے لئے ایک افسر یہاں کاؤنٹر پر بٹھا دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس سے رابطہ کیا جائے مگریہ سائلین کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان کو ٹال کر کسی اور سمت بھیج دیتا ہے۔سجاد اور مشرف نے بتایا کہ یہاں ان کو ایک وکالت نامہ پر دستخط کروانے تھے جس کو تین روز ہو چکے ہیں مگر پولیس اہلکاروں نے دستخط نہیں کروا کر دئے، آج جب لڑائی ہوئی تو انہوں نے دستخط کروائے ہیں ۔عباس کے مطابق میں نے بھی وکالت نامے پر دستخط کروانے تھے کل صبح دیا تھا کہتے تھے کہ بارہ بجے لے لینا روزے کی حالت میں شام کو واپس جانا پڑا مگر دستخط نہیں ہوئے بعد ازاں بڑی مشکل سے آج بارہ بجے کا وقت تھا شام چار بجے کاغذات مل رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ جیل

مزید :

علاقائی -