ملاقات کے بعد نوازشریف نے مودی سے کہا ”پریس کو کیا کہنا ہے؟: انڈین ایکسپریس کا دعویٰ

ملاقات کے بعد نوازشریف نے مودی سے کہا ”پریس کو کیا کہنا ہے؟: انڈین ایکسپریس ...
ملاقات کے بعد نوازشریف نے مودی سے کہا ”پریس کو کیا کہنا ہے؟: انڈین ایکسپریس کا دعویٰ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) روس کے شہر اوفا میں وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان جب کانگرس ہال میں ملاقات ہوئی تو بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصب سے کہا کہ ”پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لئے ایک رکاوٹ ممبئی حملوں کے ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی ہے“ جس پر پاکستان کے وزیراعظم نے ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف عدالتی کارروائی تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اوفا میں نواز شریف مودی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی ہم منصب سے پوچھا کہ آپ کا وسط ایشیاءکے ملکوں کا دورہ کیسا رہا ہے“ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب دونوں وزیراعظم ملاقات کر رہے تھے تو پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹری ایک کونے میں بیٹھے مشترکہ اعلامیہ تیار کر رہے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے جب دونوں وزرائے اعظم بات چیت کے اختتام پر پہنچے تو ایک وزیراعظم نے پوچھا کہ پریس کو کیا کہنا ہے جس پر مودی نے تجویز دی کہ ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ دونوں خارجہ سیکرٹری پریس کا سامنا کریں گے۔

مزید :

بین الاقوامی -