عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور ایران امریکہ معاہدہ، سعودی عرب کو مجبوراً وہ کام کرنا پڑگیا جو اس نے ایک عرصے سے نہیں کیا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور ایران امریکہ معاہدہ، سعودی عرب کو مجبوراً ...
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور ایران امریکہ معاہدہ، سعودی عرب کو مجبوراً وہ کام کرنا پڑگیا جو اس نے ایک عرصے سے نہیں کیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) تیل کی قیمت میں کمی پر تیل خریدنے والے ممالک تو بہت خوش ہیں لیکن تیل بیچنے والوں کیلئے صورتحال اچھی نہیں۔

تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کو اپنے بھاری اخراجات پورے کرنے کیلئے 4 ارب ڈالر (تقریباً 4 کھرب پاکستانی روپے) ادھار لینا پڑگئے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بتدریج کم ہوتی گئی ہے۔

نیوز سائٹ CNBC کے مطابق سعودی مالیاتی ایجنسی کے گورنر فہد المبارک کا کہنا ہے کہ خسارہ توقعات سے زیادہ ہے اور اسے پورا کرنے کیلئے بانڈز اور ذخائر کا بیک وقت استعمال کیا جائے گا۔ اخبار ’’الاقتصادیہ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کا خسارہ 130ارب ڈالر (تقریباً 130 کھرب پاکستانی روپے) متوقع ہے۔ گزشتہ سال اگست میں زرمبادلہ کے ذخائر 737 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھے لیکن حکومت کی طرف سے ادا کی جانے والی تنخواہوں، سپیشل پراجیکٹس اور یمن جنگ کی وجہ سے ذخائر کا لیول برقرار رکھنا مشکل امر بن چکا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے بھی ذخائر میں 65 ارب ڈالر (تقریباً 65 کھرب پاکستانی روپے) کی کمی ہوئی ہے۔ سی این بی سی کے مطابق نئے فرمانروا شاہ سلمان کی تخت نشینی کے بعد سرکاری ملازمین اور افواج کے اہلکاروں کو دئیے جانے والے بونس بھی خزانے پر بھاری بوجھ ثابت ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں:دنیا کی تاریخ کی 5 قیمتی ترین کاریں

فنڈ مینجنگ ادارے Ashmore کے ڈائریکٹر برائے گلف ریجن جان سفاکیا ناکس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے خرچے پورے کرنے کیلئے تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ سال کیلئے اوسط قیمت کا اندازہ 58 ڈالر فی بیرل لگایا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سعودی حکومت کے اخراجات اسی طرح جاری رہے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں 2018ء کے آخر یا 2019ء کے آغاز تک شدید کمی آچکی ہوگی۔

مزید :

بزنس -