سونے ورگی عمر نی اڑئیے، پیتل مانجھ لنگھائی

سونے ورگی عمر نی اڑئیے، پیتل مانجھ لنگھائی
سونے ورگی عمر نی اڑئیے، پیتل مانجھ لنگھائی

  

پاکستانی قوم ایک بہادر قوم ہے۔ مملکتِ پاکستان کے وجود میںآنے سے فوراً بعد ہی اس کے زوال اور انڈیا میں دوبارہ شمولیت جیسے نظریات منظرِ عام پر آنے لگے۔ لیکن مشکلات و مصائب میں گھر ی قوم بے سروسامانی کے عالم میں ملکی سلامتی ، بقا اور ترقی کے لیے کوشاں رہی۔ اس ابتدائی دور میں بھارت شروع دن سے پاکستان کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کے درپے رہا۔ کئی جنگیں بھی پاکستان پر مسلط کی گئیں لیکن آخر کار قوم ثابت قدم رہی اور سُرخ رہی۔ اب اس ملک کو معرضِ وجود میں آئے کئی عشرے گزر چکے ہیں اور یہ ملک استحکام و ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کر رہا ہے۔ واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے۔

من حیثیت قوم ہم ایک محنت کش قوم ہیں۔ لیکن تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے سیاسی نا پختگی ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ مُٹھی بھر افراد کی سیاسی نا پختگی ملک کے مستقبل کے لئے نقصان دہ رہی ۔ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دنیا بدقستمی سے ہمارے سیاست دانوں کا شیوہ رہا ہے۔ جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا۔

اس وقت عالمی سیاست کے میدان مین بڑی گیم جارہی ہے جس میں دنیا کے چند ٹھکیدار کچھ ممالک کو نا جائز شہہ دے رہے ہیں۔ بھارت امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی آ شیرباد کے تحت بھارت کوایشیا کا تھانیدار بننے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے ۔ این ایس جی میں شمولیت کی بھی بھرپور کا وشیں کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں پانسا پلٹ سی پیک جو ہمارے دوست ملک چین کے تعاون سے زیر تکمیل ہے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکنہ گھناؤنے حربے اختیار کئے جارہے ہیں۔ پاک چائنہ دوستی ناصرف دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کے لئے ضروری ہے بلکہ ایشیائی خطے کی قسمت بدلنے کا بھی پیش خیمہ ہے۔ پاک چائنہ اقتصادی راہداری جس طرح اپنی ذات میں ترقی و خوشحالی کے لئے ایک نئے باب کے وا ہونے کی نوید ہے۔ اسی طرح دہشت گردی پر پاکستان کا بڑھتا ہوا کنڑول بھی پاکستان دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہمارا ایٹمی پروگرام جو کہ ہماری سلامتی و خوشحالی کا ضامن ہے اور جس کی بدولت بھارت کی میلی آنکھ ہم پر اٹھنے کی جرأت نہیں رکھنی، ہمارے دشمنوں کے لئے نا قابل قبول حقیقت ہے۔ اس پروگرام کو تباہ کرنے کے لئے بھی دشمن کمر بستہ ہے۔

دوسری جانب افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت بھارت کے اشاروں پر ناچنے کو تیار ہے تو کبھی کسی دوسرے ملک کے مفادات کی تائید میں سرگرم ہے۔ افغان پاکستان تعلقات بھی اونچ نیچ کا شکار ہیں ۔ بارڈر مینجمنٹ بھی ایک متنازع معاملہ رہا۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت اپنے عروج پر ہے اور دنیا کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے بھارتی جارحیت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان تمام معروضی حالات کے پیش نظر وقت کی پکار یہ ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہوجائے اور یکسوئی سے پاکستان دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملائے۔صد شکر کہ ملک میں جمہوریت خواہ کمزور ہی کیوں نہ ہو قائم ہے۔ ملکی ترقی و خوشحالی اس امر کی متقا ضی ہے کہ جمہوریت کو استحکام و تقویت پہچائی جا ئے ۔ لیکن افسوس ہم ابھی بھی چائے کی پیالی میں طوفان لانے سے باز نہیںآرہے ہیں۔ وہ امور جو کہ توجہ طلب ہیں انھیں ہمارے بعض سیاست دان بالائے طاق ڈال کر محض پوائنٹ سکورنگ اور خبروں میں اِن رہنے کے لئے کوئی نہ کوئی چھوٹا سا معاملہ اٹھا کر اسے اچھالتے ہیں گو یا کہ رائی کو پہاڑ بنانا ہو۔ اب وزیراعظم کیلئے واپسی پر استعمال ہونے والے طیارے کے معاملے کو ہی لے لیجئے ، اس کو اچُھالا جا رہا ہے۔ جبکہ کشمیری نوجوان کی بھارتی افواج کی جانب سے قتل و غارت گری کو یکسر نظر انداز کیا گیاہے۔

دنیا بھر میں حکمران آمدورفت کے لئے طیاروں کا استعمال کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں ۔ د ل کی اوپن ہارٹ سرجری کے بعد وزیراعظم کو ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق چھوٹے طیارے کی بجائے اس طیارے میں سفر تجویز کیا گیا جس میں چھوٹے طیارے کے برعکس طیارے کے اندر کا پر یشر کم ہو۔ اس تجویز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قومی ائیر لائن سے وزارت امور خارجہ نے وزیر اعظم کے لئے ایک طیارے کے انتظام کی درخواست بھجی جس کی پی آئی اے نے منظوری دے دی اور طیارہ لندن بھیج دیا گیا جس میں وزیراعظم کے اس کیمپ آفس کا عملہ بھی سوار تھا جس کو عارضی طور پر وزیراعظم کی سرجری سے قبل لندن میں منتقل کیا گیا تھا، تاکہ قومی امور کی تکمیل میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ اس نان ایشو کو ایشو بناکر ایک واویلا کیا جارہا ہے۔ اور عوام کو اس سلسلے میں غلط خبروں کے ذریعے گمراہ کرنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اس طیارے پر تین ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ جب کہ پی آئی اے کا مطابق طیارے کے اخراجات معقول تھے اور اس طیارے کی وجہ سے دوسری فلائٹ بھی متاثر نہیں ہوئیں۔ اگر مخالفین کو کوئی اعترا ض ہے تو قانونی راستہ اختیار کرنا ہی مناسب ہے ۔ عوام کا قیمتی وقت اور توجہ بجائے ان معاملات کے تعمیری امور پر مرکوز کرانا وقت کی پکار ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے سیاست دانوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ سیاست کے میدان میں آسکے اور عوامی نمائندوں کے رتبے پر فائز ہوں تو ان کا یہ فرض بنتا ہے اس نادر اور قیمتی موقعہ کو فضول اور لاحاصل کا وشوں میں ضائع نہ کریں۔ ورنہ ایسا نہ ہوکہ

سونے ورگی عمر نی اڑئیے ، پتل مانجھ لنگھائی۔

مزید :

کالم -