پنجاب فوڈ اتھارٹی کیا کر رہی ہے؟

پنجاب فوڈ اتھارٹی کیا کر رہی ہے؟
 پنجاب فوڈ اتھارٹی کیا کر رہی ہے؟

  



موجودہ حکمرانوں اور ان کے سیاسی مخالفین کے مابین گذشتہ کئی سال سے جاری خطرناک ’’الزاماتی جنگ‘‘ اب فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکی ہے‘کوئی فریق بھی ایک دوسرے کے سچ کو سچ اور اچھی کارکردگی کو اچھی کارکردگی تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خامیوں اور کمزوریوں کو تلاش کر کے انہیں اجاگر کیا جا رہا ہے ایسی فضا میں کوئی بھی اپنے کسی مخالف کے کریڈٹ کو کریڈٹ تسلیم کرنے کا حوصلہ ہی نہیں کر پا رہا_____اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب میں نے حکومت کی سب سے بڑی سیاسی مخالف پارٹی کے کئی سرگرم کارکنوں کو دبے لفظوں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے ملاوٹ مافیا کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو مؤثر اور مثبت کہتے سنا‘ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بس ایک ہی سرکاری ادارہ ہے جو بہتر نتائج دے رہا ہے____کسی معاملے میں جب کوئی مخالف یا بیگانے تعریف کرتے ہیں تو دراصل وہی اس کا حقیقی کریڈٹ ہوتا ہے جہاں تک پنجاب فوڈاتھارٹی کا تعلق ہے تو اس کے قیام کا اصل مقصد یہی تھا کہ پنجاب کے باسیوں کو ملاوٹ سے پاک اشیاء خوردونوش میسر آسکیں سب سے پہلے اس کی ذمہ داری ایک خاتون آفیسر کو سونپی گئی جس کی کارروائیاں اخبارات و الیکٹرانک چینلز کی شہ سرخیاں بنتی رہیں____مینوفیکچررز دوکانداروں‘ہوٹل و بیکریوں کے مالکان اور تاجروں کو پہلی مرتبہ اس اتھارٹی کی اہمیت اورحیثیت کا اندازہ ہوا اور پھر اس اتھارٹی کے جگہ جگہ چھاپوں سے متعلقہ کاروباری اور تاجر طبقے میں ایک خوف و ہراس سا پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے کچھ ڈر گئے کچھ دبک کر بیٹھ گئے اس خوف و ہراس نے کچھ اندر کھاتے ’’مک مکا‘ کی افواہوں کو بھی جنم دیا اور اس کی وجہ سے حکومت کے خلاف ’’نفرت‘‘ کے کچھ کھاتے بھی کھلے‘ حکومت نے بھی غالباً ان ’’چہ میگویؤں ‘‘کو سنا اور اس کے مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکامی کو محسوس کیا‘حکمت عملی میں تبدیلی کرنا بہتر سمجھا چنانچہ اس کے بعد پنجاب حکومت لاہور اور فیصل آباد کے سابق ڈی سی او نورالامین مینگل کو میدان میں لے آئی اور وہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی حیثیت سے مصروف ہوگئے ان کے قریبی ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ تو انہیں اس اتھارٹی کے پیچ و خم کو سمجھنے میں لگ گیا‘کہا جا رہا ہے کہ کچھ حاسدانہ رویے بھی مطلوبہ ٹارگٹ کے حصول میں رکاوٹ بنے رہے۔

نئے ڈائریکٹر جنرل کو مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے فری ہینڈ بھی مل گیا اور اور حسب منشاء نیاسٹاف بھی‘ ابتداء میں رونما ہونے والے چند واقعات سے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پرانی ٹیم اورنئی ٹیم کے طریقہ کار میں کوئی خاص فرق نہیں ‘ وہی خوف و ہراس‘تاجروں وصنعتکاروں میں وہی پرانی بے چینی‘ جن کا حکمرانوں کی ان پالیسیوں کے خلاف وہی ردعمل‘وہی ہڑتالی اور احتجاجی رویے‘شکوے شکایتیں____ اور پھرکچھ وقت ایسے ہی گزر گیا____ تاہم ایسا بھی دیکھنے کو ملا کہ ملاوٹ مافیا کے بڑے بڑے ’’ڈان‘‘ قانونی گرفت سے بچنے کیلئے احتیاطی تقاضوں کو پورا کرنے لگے____یہ ایک بڑاچیپٹر ہے کہ کون کون بڑے پکڑے گئے‘ بھاری جرمانے‘فیکٹریاں‘ کارخانے‘ گھی‘ آئل‘دورھ دہی تیار کرنیوالی انڈسٹری ڈیپارٹمنٹل سٹورز‘کنفیکشنرز‘مٹھائیاں‘ پھل‘ ملک شیک‘ فروٹ چارٹ‘ پولٹری‘انڈے‘کولڈ ڈرنکس‘ مشروبات‘ غرضیکہ اشیاء خوردونوش کی فیکٹریاں‘ گودام اور مختلف بیماریوں کا موجب بننے والے متعلقہ ادارے سیل (سربمہر) بھی ہونے لگے.بناسپتی گھی‘ کولڈڈرنکس اور دیگر اشیاء کے سیمپل بھی لیبارٹریز میں تجزیہ کیلئے بھجوائے گئے____پھر رپورٹیں بھی چیک ہوئیں جن میں سے کچھ کے رزلٹ انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر بھی آئے ان کے خلاف کارروائی بھی شروع ہوئی مگر برس ہا برس سے اپنی ڈگر پر ہی چلتے رہنے والوں کی طرف سے اس پریکٹس کے خلاف احتجاج بھی ہوئے‘ ہائی لیول پر شکائتیں بھی ہوئیں. بعض اوقات مصلحتوں کے پیش نظر بعض معاملات میں ’’آگے پیچھے ‘‘بھی ہونا پڑا‘ کئی جگہ سیاسی مجبوریاں بھی آڑے آئیں‘ اتھارٹی کے بعض ذمہ داران کو عدالتوں میں پیشیاں بھی بھگتنا پڑیں. غرضیکہ ’’نرم گرم‘‘ سب کچھ سہنا پڑا صبح سویرے شہروں کو آنے جانے والی سڑکوں پر دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کو چیک کرنے کے مراحل تکلیف دہ بھی ٹھہرے مگر ان کے گرد کسے جانیوالے قانونی شکنجوں کے خوف کا بھی بہت اثر پڑا____لاکھوں روپوں کی پروڈکشن ملاوٹ کی تصدیق پر ضائع بھی کی گئیں‘ اندر کی چند ایک کالی بھیڑوں کو سزا جزا اور ٹرانسفرز کے مراحل سے بھی گزارنا پڑا____کئی ایک خامیاں بھی دیکھنے کو ملیں‘ بعض مقامات پر ناتجربہ کاریوں اور سٹاف کی بے جا ضدی حرکات کی وجہ سے اس سسٹم پر تنقید بھی ہوئی۔ مگر سفرجاری رہا اور سفر کے تجربات سے کارکردگی میں نکھار آتا بھی محسوس ہوا۔

یہ سب قصے کہانیاں‘کثافتیں‘قباحتیں‘ مسافتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں مگر ان کارروائیوں کے مثبت نتائج آہستہ آہستہ عام لوگوں تک بھی پہنچنے لگے‘جس کی وجہ سے اپنی صحت کے حوالے سے ان میں اچھے برے کی تمیز کا احساس پیدا ہونے لگا.اوریہ شعور پیدا ہونے لگا کہ اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کے باعث انسانی زندگیوں کو کن کن خطرات سے گزرنا پڑ رہا ہے‘ بڑی بڑی کمپنیوں کے دودھ کے معیار چیک ہوئے‘ آئل‘ گھی مشروبات‘کولڈڈرنکس‘ کنفیکشینری غرضیکہ جوں جوں انسانی استعمال کی اشیاء میں ملائے جانے والے خطرناک کیمیکلز و دیگر زہریلے اجزاء کا نور الامین مینگل نے ذاتی دلچسپی لے کر تجزیہ کرایا تو بڑے خوفناک انکشافات سامنے آئے اور وہ بڑے انکشافات اس وقت عام تو نہیں خواص تک ضرور پہنچنے لگے جب انہوں نے اپنی معلومات‘ مشاہدات اور تجزیاتی رپورٹس انٹرنیٹ ‘ واٹس اپ‘ الیکٹرانک میڈیا‘سوشل میڈیا اور دیگر تکنیکی ذرائع سے لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا شروع کیں‘ ایک ایک چیز کاتکنیکی بنیادوں پر تجزیہ کروا کر اس کے نقصانات کی تفصیل ہر ممکن اور دستیاب ہر جدید طریقہ کے ذریعے مختلف طبقات تک پہنچائی گئیں جہاں جہاں تک وہ معلومات پہنچ سکیں وہاں لوگوں میں اپنی صحت اور زندگی کے تمام پہلوؤں کے نفع و نقصان کو سمجھنے کے مواقع میسر آئے.مگر محدود وسائل کی وجہ سے وہ معلومات اس حد تک آگے نہ پہنچ سکیں جس سے معاشرے کی اکثریت فائدہ اٹھا سکتی۔ممکن ہے حکومت کے پاس فوری طور پر وسائل کی کمی ہو‘یہ بھی ممکن ہے اس کے لئے مزید وقت درکار ہو‘چونکہ ہر باشعور انسا ن کو اپنی صحت سے زیادہ کچھ بھی عزیز نہیں ہوتا اورانسانی صحت کیلئے معیاری اور ملاوٹ سے پاک اشیا کااستعمال ہی بنیادی تقاضا ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے چھاپے ‘جرمانے‘ سزائیں اور تمام تر کوششیں اپنی جگہ اثرانگیز سہی مگر فوڈ اتھارٹی کے قیام کے مقاصد تبھی حاصل کئے جا سکیں گے جب عام آدمی تک معیاری اور ملاوٹ سے پاک اشیا بارے حقیقی معلومات ‘ تحقیقی نتائج اور ان کے ثمرات پہنچ جائیں گے جس کے لئے ابھی بہت سے ہنگامی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہر شخص تک یہ معلومات پہنچنی چاہئیں کہ وہ جو کھا پی رہا ہے اس کے اس کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اسے کسی بھی قسم کے مضر اثرات سے کیسے بچنا ہے اور کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں۔ جہاں تک حکومت اور پنجاب فوڈاتھارٹی کا تعلق ہے انہیں چاہیے کہ کھانے پینے والی تمام اشیاء کو متعلقہ لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروا کر آسان زبان میں رپورٹس تیار کروا پوسٹر اور پمفلٹس کی صورت میں ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کروائی جائے بلکہ ہر دوکاندار پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ معلوماتی پمفلٹ اپنی ریٹ لسٹ کے ساتھ ہی نمایاں جگہ پر آویزاں کرے علاوہ ازیں ہر سطح پر خاص طور پر یونین کونسل کی سطح پر ایک پنچائتی طرز عمل کا چیکنگ سسٹم بنا کر حسب ضرورت فنڈز مختص کئے جائیں‘سکولوں‘کالجوں‘ یونیورسٹیوں میں ان معلومات کو اسے باقاعدہ نصاب کا لازمی حصہ بھی بنایا جا سکتا ہے جہا ں تقریری و تحریری مقابلہ جات کروا کر نمایاں پوزیشن ہولڈرز کو انعامات دے کر تشہیر کروائی جا سکتی ہے بلکہ فوری طور پریہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی طرف سے ملنے والی معلومات کو ہر تعلیمی ادارے کی اسمبلی میں صبح سویرے بیان کیا جائے۔ اس کی تشہیر کیلئے مختصر مگر جامع معلومات پر مؤثر انداز میں پوسٹر و پمفلٹ چھپو ا کر کمرشل گاڑیوں میں آویزاں کرنا لازمی قرار دیاجائے‘تفریحی مقامات اور کھیلوں کے میدان بھی اس کی تشہیر کے لئے موزوں مقامات ہو سکتے ہیں۔ تمام سرکاری اداروں میں یہ پمفلٹ اور پوسٹر نمایاں جگہوں پر بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ ان معلومات کو ڈراموں اور فلموں میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے‘سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی ان پوسٹرز اور پمفلٹس کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ‘ان پر تحریر شدہ مسودہ مختصر اور پرکشش ہونا چاہیے جسے پڑھنے والا پہلی نظر کے بعد مزید تفصیل پڑھنے پر مجبور ہو جائے. ان کے علاوہ بھی سرکاری سطح پر بہت سے طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں‘ اگر ان معلومات کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچ سکیں تو یقیناً بہت سی بیماریوں سے جان چھوٹ سکتی ہے‘ ہسپتالوں میں رش کم ہو سکتا ہے۔ صحت مند انسان کے طور پر اس کی ورکنگ بہتر ہو سکتی ہے. شرح اموات کم ہو سکتی ہے۔ ان تمام مقاصد کے حصول کیلئے سنجیدگی سے غوروفکر کی ضرورت ہے اور یہ مقاصد تنہا پنجاب فوڈ اتھارٹی حاصل نہیں کر سکتی اس کیلئے ہر شخص کو اپنی اوراپنے اہل خانہ کی صحت کی خاطر عملی طور پر میدان میں آنا پڑے گا.

مزید : کالم