معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر16

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط ...
معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر16

  



راؤ جی ہلکر کی طبیعت اور مزاج کا انوکھا پن بھی اس کی شہرت کا سبب تھا۔ وہ ہر شام اپنے محل کی بالکونی میں جا بیٹھتا اور شہر کا نظارہ کرتا۔ اس دوران بازارسے گزرنے والے ہر راہگیر پر اس کی نظر رہتی۔ اگر کسی تنی ہوئی مونچھوں والے شخص کو دیکھ لیتا تو اس کی ایک مونچھ کٹوا دیتا اور جی بھر کر خوش ہوتا مگر ساتھ ہی اسے خاصا انعام واکرام بھی دیتا۔ کسی راہگیر کے بال لمبے اور بھلے معلوم ہوتے تو اسے گنجا کراکر کچھ دیر تک دیکھتا اورخوب ہنستا اور پھر اسے بھی انعام دے کررخصت کرتا۔ ایک روز ایک چنا فروش ادھر سے گزرا۔ اس کی قسمت سنورنے کا سمے تھا کہ راجہ نے اسے بالکونی سے دیکھ لیا۔ چنا فروش محل کے قریب کھڑا آواز لگا رہا تھا۔’’چنے گرما گرم چنے۔‘‘

راجہ نے اپنے ایک غلام کو اشارہ کیا کہ چنے فروش کو پکڑ کر لایا جائے۔ غریب چنا فروش بہت گھبرایا اور آتے ہی راجہ کے قدموں میں گر گیا۔

راجہ اس کی حالت سے لطف اندوز ہوا اور اسے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ چنافروش ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔

راجہ نے پوچھا۔’’ہاں تو تم گرم چنے بیچتے ہو؟‘‘

’’جی حضور!‘‘چنا فروش ہکلا کر بولا۔’’گرما گرم چنے۔‘‘

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شیو جی راؤ نے ٹوکری میں رکھے چنوں کو چھو کر دیکھا۔اتفاق سے چنے گرم ہی تھے۔’’ہاں بھئی چنے تو واقعی گرم ہیں۔‘‘راجہ بڑا خوش ہوا اور چنا فروش کو پانچ سو روپے انعام دے کر کہا۔’’لو جی اپناانعام۔ تم نے سچ بول کر ہمیں خوش کر دیا ہے مگر سنو کبھی ٹھنڈے چنے مت بیچناورنہ جیل بھیج دوں گا۔‘‘

راجہ ہلکر کی اس طرح کی شوخیاں اورشرارتیں معمول تھیں۔اس کی نگاہ کا جو بھی شکارہوتا اس میں کوئی تو اسے بڑاسخی اور مہربان کہتا اور کوئی اسے نیم پاگل۔

راجہ اندور کشتیوں کا بھی بڑا شوقین تھا۔سال میں کی بار دنگل کراتا اور اپنی پسند کے پہلوانوں کو ریاست میں بلوا کر ان کے مقابلے دیکھتا۔ اس نے کیکر سنگھ اور غلام پہلوان کی کشتیوں کا بھی سن رکھا تھا اور اسے اب اشتیاق تھا کہ ان دونوں پہلوانوں کی فیصلہ کن کشتی اسی کی ریاست میں ہونی چاہیے۔ لہٰذا راجہ نے دونوں پہلوانوں کو پیغام بھجوادیا۔ یہ راجہ کی خواہش ہی نہیں دونوں پہلوانوں کی دیرینہ آرزو بھی تھی۔ لہٰذا دونوں پہلوانوں نے خوب جی بھر کر تیاریاں کیں۔یہ کشتی1897ء میں ہوئی ۔وقت مقرر پر دونوں پہلوان اکھاڑے میں اترے تو راجہ نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

’’بھئی!ہم نے سناہے کہ تم دونوں اس وقت ساری ریاستوں کے بڑے پہلوان ہو۔ چونکہ تم دونوں کی پہلے بھی تین کشتیاں ہو چکی ہیں جن میں سے دو برابر رہی ہیں اور تم دونوں کو ہی اس بات کا غم ہے کہ کشتیاں برابرکیوں رہی ہیں۔ اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ یہ کشتی فیصلہ کن ہونی چاہئے۔‘‘

غلام پہلوان اور کیکر سنگھ دونوں نے راجہ کے خیال کی تائید کی اور اکھاڑے کے درمیان آکر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ گئے۔

راجہ اندور کے دنگل کی بھی الگ ہی سے شان تھی۔ وہ جس قدر خود منچلا تھا اسی طرح تماشائی بھی خوب انجوائے کرتے تھے اور دنگل کے دوران ’’گرو جنہاں دے پٹنے،چپلے جان شڑپ‘‘ کے مصداق خوب نظارے دیکھنے کو ملتے۔ تماشائی اپنے راجہ کی شرارتوں اور زندہ دلی سے فائدہ اٹھاتے اور خوب نعرے لگاتے۔ خاص طور پر پہلوانوں کی’’دفیں‘‘ تو نعرے مار مار کر آسمان سر پراٹھا لیتیں۔دراصل یہ نعرے اور ڈھولچی کا کمال ہی دنگل کی رونق کا سبب بنتے تھے جس سے پہلوانوں کو مہمیز ملاکرتی اور وہ بڑھ چڑھ کر اپنے مخالف کو داؤ لگاتے۔

دف یعنی گروہ کی اصطلاح استاد نور الدین نے بنائی۔وہ5فروری1635ء میں پیدا ہوئے۔وہ ہندوستان میں کشتی کے بانی تھے۔ استاد نور الدین فن کشتی کے قطب تھے۔ انہیں استاد زماں بھی کہتے تھے۔انہوں نے ہندوستاں میں کشتی کے361 داؤ پیدا کئے اور فن کشتی کو فروغ دینے کے لئے تین گروہ بنا ڈالے ۔ایک گروہ ان کے نام سے مشہور ہے جو استاد نور الدین پہلوان المشور استاد نورا،نورے والے کہلاتے ہیں۔ دوسرا گروہ ان کے شاگرد کالو پہلوان رستم ہند کے نام سے مشہور ہے جو کالو والے کہلاتے ہیں۔تیسرا گروہ ان کے شاگرد امر سنگھ پہلوان رستم گوہر کوٹ کے نام سے مشہور ہے جو کوٹ والے کہلاتے ہیں۔یہ تینوں دفیں انہی کے دستور کے مطابق آج تک چلی آرہی ہیں۔ استاد نور الدین کے ذکر کے بغیر پہلوانی کی تاریخ نامکمل ہی رہتی ہے۔ استاد نور الدین ایک نامی گرامی پہلوان تھے۔ان کے شاگردوں میں کالو پہلوان رستم ہند، امر سنگھ رستم گوہر، سلطان پہلوان رستم زماں، بوٹا پہلوان رستم ہند،گامی پہلوان رستم ہند، فضلو پہلوان رستم ہند، محمد بخش پہلوان ڈنڈبر اور استاد نورا شامل تھے۔

استاد نور الدین کی نسل نے بھی خوب ترقی کی اور وقت کے عظیم شاہ زور بنے۔ ان کے پوتوں اور پڑپوتوں میں یہ عظیم پہلوان شامل تھے۔ خلیفہ عبدالرحیم پہلوان رستم زماں گرزیند جاگیردار ریاست بھرت پور،خلیفہ چراغ الدین پہلوان دیو ہند گرزبندجاگیردار ریاست بڑودہ، رمزی پہلوان رستم زماں زریں گرز والا،جاگیر دار ریاست بڑودہ ،استادامیر بخش پہلوان ٹنگل رستم ہند،استاد وزیر بخش پہلوان رستم زماں،خلیفہ معراج الدین پہلوان رستم ہند گرزبند جاگیر دارریاست جونا گڑھ اور خلیفہ غلام محی الدین پہلوان رستم ہند گرزند جاگیردار ریاست کولہا پور۔

****

غلام پہلوان اور کیکر سنگھ انتہائی غضبناک ہو کر ایک دوسرے پرلپکے۔ دونوں نے خوب داؤ استعمال کئے مگر دونوں پہلوان ایک دوسرے کے داؤ کا برابر توڑ کرتے رہے۔ یہ کشتی اڑھائی گھنٹے جارہی رہی اور آخر غلام پہلوان نے کیکر سنگھ کو شکست فاش کر دی۔

1900ء میں غلام پہلوان بدیسی پہلوانوں کو للکارنے کے لیے فرانس گئے اور واپسی پر ملک عدم کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ غلام پہلوان کی وفات کے بعد کیکر سنگھ خود کو ہندوستان کا بڑا پہلوان سمجھنے لگا تھا۔ حالانکہ اس دور میں علی سائیں، مہنی رینی والا،رحیم بخش گوجرانوالیہ، میراں بخش بھکی والا بھی عروج پرتھے جبکہ گاماں پہلوان نے بھی عروج کی جانب اپنا سفر شروع کر دیا تھا اور ہندوستان کے بہت سے پہلوانوں کو پچھاڑ کر اپنی دھاک بٹھا چکے تھے۔ مگر کیکر سنگھ ان سب کو خاطر میں نہیں لارہا تھا۔

کیکر سنگھ غلام پہلوان سے اپنا کھویاہوا وقار اور رستمی واپس لینے کے لئے پھر سے بے چین ہو گیا۔ اسے زعم تھا کہ غلام پہلوان مرحوم کے خاندان میں سے کوئی بھی اس کے مقابلہ پر نہیں آئیگا۔ ادھر غلام پہلوان مرحوم کے خاندان کو بھی چنتا تھی کہ کہیں ان کے خاندان میں سے پہلوانی کا سورج غروب نہ ہو جائے۔ سب پریشان تھے کہ کیکر سنگھ کا مقابلہ کون کرے۔ ان کی نظریں بار بار کلو پر جاتیں۔مگر کلو تو بہت کم پہلوانی کیا کرتے تھے۔غلام اور رحمانی کے دور میں کلو صرف گزارے لائق اکھاڑہ کرتا۔ غلام پہلوان کی وفات اور کیکر سنگھ کے للکارے سن کر ان کی والدہ بہت پریشان رہنے لگی تھیں۔

ایک روز دوپہر کے وقت کلو اپنی چھت پر اپنے پالتو کبوتروں کی اڑانیں دیکھ رہا تھا۔ جب وہ اپنے کھیل سے محظوظ ہو چکا اور نیچے آیا تو والدہ کو پریشانی کے عالم میں دیکھ کر گھبرا اٹھا۔

’’ماں جی خیر تو ہے؟‘‘ کلو نے پوچھا۔

ماں نے اپنے جواں سال بیٹے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا اور ایک آہ اس کے کلیجے سے اٹھی اور آنکھیں بے ساختہ آنسوؤں سے بھر گئیں۔

’’ماں جی!‘‘کلونے بے چینی سے پوچھا۔’’ماں جی! یہ آج آپ کی آنکھوں میں آنسو۔۔۔خدا کے واسطے بتائیں کیاہوا ہے؟‘‘

’’کچھ نہیں پتر۔جا تو کبوتر اڑا۔تجھے اپنی ماں کے غم جان کر خوشی نہیں ہوگی۔‘‘ماں کی بات سن کر کلو ک پریشانی مزیدبڑھ گئی۔

’’ماں جی یہ کیا کہہ رہی ہیں۔‘‘

’’ہاں پتر۔۔۔تجھے کیا پڑی خاندان کے معاملات جاننے کی ۔تو شاید بہرہ ہو گیا ہے۔تجھے کچھ سنائی ہی نہیں دیتا کہ ہم پر کون سی افتادہ آپڑی ہے۔‘‘

کلو سمجھ گیا کہ ماں کا اشارہ کس طرح ہے۔ چند روز سے یہ خبریں اس کے کان میں پڑ رہی تھیں کہ کیکر سنگھ اس کے خاندان کو للکاررہا ہے اور اس کا خاندان کیکر سنگھ کے مقابلہ پر کوئی بھی پہلوان اتار نہیں پارہا۔ کلو نے ان خبروں میں دلچسپی نہ لی اوراپنے کام سے کام رکھا مگر آج ماں کی پریشانی دیکھ کر اس کے خاندان کا کرب آشکار ہو رہا تھا۔

ماں نے جب دیکھا کہ کلو بھی پریشان ہو گیا ہے تو بولی۔’’بیٹا میرا غم تیرے بڑے بھائی غلام کا چھوڑا ہوا ہے۔ وہ تو جوانی میں ہی ماں کو وچھوڑا دے گیا۔اس نے اتنی سی عمر میں بڑے بڑے کام کئے ہیں۔اپنے خاندان کا نام چمکایا ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی کیکر سنگھ دیوانہ ہو گیا ہے اور اپنا گرز واپس لینے کے درپے ہے۔ مجھے دکھ ہے کہیں میرے پتر غلام کا لایاہوا گرز واپس نہ چلا جائے۔‘‘

’’میری بھولی ماں!‘‘کلو نے ماں کے پاؤں پکڑتے ہوئے کہا۔’’تو تمہیں اس بات کا غم ہے۔ ماں جی اس کی آپ فکر ہی چھوڑ دیں۔ کیکر سنگھ کی ایسی کی تیسی۔ اس کی کیا مجال کہ ہمارا خاندانی گرز چھین لے۔‘‘

ماں افسردگی سے بولی۔’’تو نرا جھلاہے۔ بھلا باتوں سے گرز خاندان میں تھوڑی رہ جائے گا۔ تم تو پہلوانی کرتے ہی نہیں اور دوسرا کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مجھے تو فکر ہے اب اس گھر کا نام کون روشن کرے گا؟ دیکھ تیرے باپ اور بڑے بھائی کی عزت کا سوال ہے۔ اگر کوئی مقابلہ پر نہ آیا تو یہ قدیمی گرز کیکر سنگھ کو مل جائے گا۔ یہ تمہارے خاندان کی آن کا سوال ہے بیٹا۔‘‘

ماں کی بات اثر کر گئی اور کلو مصمم ارادے سے بولا۔’’ماں تیرے دودھ کی قسم ہے خدا نے چاہا اور تو نے دعائیں کیں تو میں اس گرز کو اپنے گھر سے نہیں جانے دوں گا۔‘‘

کلو اپنے وعدہ پر قائم رہا اور بڑی ہی لگن کے ساتھ فن کشتی کے اسرارو رموز جاننے لگا اور پھر تھوڑے عرصہ کے بعد کلو پہلوان نے یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ ہندوستان کا بڑا پہلوان بن گیا ہے۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : طاقت کے طوفاں