عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی سماعت

عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی سماعت
عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی سماعت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بلوچستان سے را کے ایجنٹ کمانڈر کل بھوشن یادیوکی گرفتاری نے باہمی تعلقات کے اتار چڑھاؤ میں بھارت کو دفاعی اور پاکستان کو بالادست پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ کل بھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا افسر تھا، جس کی خدمات را نے مستعار لیں اور وہ پاک چین معاشی راہداری کے بری و بحری راستوں اور گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کے لئے نیٹ ورک کی تشکیل اور اس نیٹ ورک کی تربیت کے مشن پر تھا۔ہماری فوجی عدالت کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت آگ بگولہ ہوگیا اور ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی۔

بھارتی دروغ گوئی، جعلسازی اور پاکستان کے خلاف اس کے خبث باطن کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف اس کی دائر کردہ درخواست کی ابھی عالمی عدالت انصاف میں سماعت بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس نے عالمی میڈیا کو کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد روکے جانے کی جھوٹی خبر جاری کردی۔

بھارتی میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادو کی پھانسی کی سزا معطل کر دی ہے،تاہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ سزائے موت یافتہ ہندوستانی شہری کلبھوشن یادیو کے بارے میں پاکستان اپنا دوسرا تحریری جواب بین الاقوامی عدالت انصاف میں 17 جولائی کو داخل کرے گا۔

یہ جواب الجواب ہوگا، اس سے پہلے 13 دسمبر کو جواب جمع کرایا تھا۔بین الاقوامی عدالت مزید مہلت کی مدت ہندوستان اور پاکستان کی نمائندگیوں کے لئے دینے کے مقصد سے تعین کرے گی۔ اعلیٰ سطحی اٹارنی خاور قریشی نے جو ابتدائی مرحلہ میں اسی مقدمہ میں پاکستان کی پیروی کرچکے ہیں۔ نگراں وزیراعظم پاکستان ناصرالملک کو گزشتہ ہفتہ مقدمہ کی تفصیل سے واقف کرواچکے ہیں۔

دوسری جوابی یادداشت پیش کرنے کے بعد بین الاقوامی عدالت انصاف سماعت کی تاریخ مقرر کرے گی، جو آئندہ سال متوقع ہے۔ جاریہ سال سماعت کا امکان نہیں ہے، کیونکہ آئندہ سال مارچ۔اپریل تک دیگر مقدمات کی سماعت جو شروع ہوچکی ہے، جاری رہے گی۔

بلوچستانی ساحل مکران سے گرفتار ہونیوالا کل بھوشن یادیو 2013ء سے ’’را‘‘ کے لئے کام کر رہا تھا۔

حسین مبارک پاٹیل کے نام سے پاسپورٹ بنوا رکھا تھا۔ وہ تین سال سے براہ راست را سے منسلک تھا اور دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔ کل بھوشن یادیو بلوچستان میں ’’را‘‘ کا سب سے بڑا ایجنٹ تھا، وہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ کل بھوشن پہلے بھارتی نیوی میں ملازم تھا، بعدازاں ’’را‘‘ میں شامل ہوا۔ اس سے تفتیش میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے، اس کے مطابق اس کے زیر سایہ کراچی سمیت سندھ میں فسادات پھیلانے کے لئے کئی میٹنگز ہوئیں۔گزشتہ برس 25 دسمبر کو پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو اس سے ملاقات کی پیشکش خالصتاً انسانی بنیاوں پر اور اسلامی روایات کے تحت کی، لیکن بھارت نے حسب معمول پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈ یا نے اس معاملے کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے دباؤ پر کلبھوشن یادیو کو بیوی سے ملاقات کی اجازت دی ہے،جبکہ ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق عالمی عدالت کا اس پیشکش سے متعلق پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ پاکستان نے صرف انسانی ہمدردی اور اسلامی اقدار کے تحت بھارتی جاسوس کی اہلیہ کو ملنے کی اجازت دی۔

پاکستان نے انسانی بنیادوں پر بھارت کے دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو والدہ اور اہلیہ سے ملنے کا موقع دیا،جسے پوری دنیا نے سراہا، مگر بھارتی میڈیا کے لئے کچھ بھی اچھا نہ تھا۔ سو روایتی ہیجان خیزی کا مظاہرہ کیا گیا لہذا بھارتی میڈیا زہر اگلے لگا۔ پاکستان کی طرف سے بڑے دل کا مظاہرہ کیا گیا۔ نئی دہلی کو سانپ سونگھ گیا۔ بے بنیاد پروپیگنڈے کی گردان شروع کردی گئی۔

بھارتی ٹی وی چینلز کی حماقتیں قابل دید تھیں، اعتراض اٹھایا کہ دہشت گرد کلبھوشن یادیو ملاقات میں شیشے کی دیوار سے رکاوٹ کیوں پیدا کی گئی۔ کیمرے کیوں لگائے گئے۔ بھارت بالکل بھول گیا کہ کلبھوشن یادیو ایک ہائی پروفائل دہشت گرد سزا یافتہ مجرم ہے، جبکہ خود بھارت کا اپنا رویہ پاکستانی قیدیوں کے ساتھ کیا رہا ہے؟ سب کے سامنے ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں جا کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف جاری اپنی سازشوں کو اقوام عالم کے روبرو خود ہی بے نقاب کیا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حوالے سے عالمی فورموں کے اقدامات اور فیصلوں کو درخوراعتناء نہ سمجھنا بھارت کی سرشت میں شامل ہے،اگر بھارت اپنے سفاک دہشت گرد کلبھوشن کی سزا کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے تو پھر ممبئی حملہ کیس میں بھارتی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے اجمل قصاب اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں جیل کے اندر پھانسی پر لٹکنے والے کشمیری حریت لیڈر افضل گورو کی سزاؤں کا معاملہ بھی عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہیے، جنہیں بھارتی ڈرامہ بازی کی بنیاد پر پھانسی پر لٹکایا گیا اور اجمل قصاب تک قونصلر رسائی کی پاکستانی درخواست کو حقارت کے ساتھ مسترد کردیا گیا۔

مزید : رائے /کالم